اپنا دفاع کرنا ہر قوم ملک کا بنیادی حق ہے۔ اپنے دفاع کیلئے جدید دفاعی سازوسامان ہونا چاہیے‘ مگر یہ اس لیے جمع کرنا کہ مخالف پر حملہ کریں گے‘ یہ ایک پُرتشدد نظریہ ہے۔ جنگی جنون اور دشمنی کی آگ سب نگل جاتی ہے۔ اَنا‘ غرور اور تکبر بعض اوقات قیادت سے ایسے فیصلے کرا دیتے ہیں جس کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اپنے دفاع کیلئے سازو سامان ضرور اکٹھا کریں لیکن اس کا ڈھیر لگا لینا کہ دنیا مرعوب ہو اور پھر جنگی جنون میں مبتلا ہو جانا عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ دنیا میں کچھ ممالک جنگی جنون میں مبتلا ہیں اور ان کی وجہ سے ساری دنیا بے چینی اور خوف کا شکار ہے۔ اسرائیل اور بھارت کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ہم محض اس لیے محفوظ ہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور ہمارے پاس ایک طاقتور فوج ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارا حال بھی فلسطین‘ افغانستان جیسا ہو چکا ہوتا۔ اس لیے مضبوط دفاعی قوت بہت ضروری ہے۔ اگر ہم موجودہ تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ تنازع کے فریقوں کی دفاعی قوت کا جائزہ لیں تو دنگ رہ جائیں گے۔ امریکہ اور اسرائیل اسلحے کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔ ان کے مدمقابل ایران کے پاس اگرچہ دفاعی ساز وسامان کی کمی نہیں مگر جو بہادری‘ قوت اور جذبۂ ایمانی ایران کے غیور عوام نے دکھایا ہے وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ یہ جذبہ امریکی یا اسرائیلی نہیں دکھا سکتے۔ اسرائیل کے شہری تو سائرن سنتے ہی یا بنکروں میں دبک جاتے ہیں۔ حالیہ جنگ میں جس جرأت کا ایران کے عوام نے مظاہرہ کیاہے‘ اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔
آج کی دنیا میں امریکہ سپر پاور ہے۔ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق اس کے پاس چار لاکھ 54 ہزار کے قریب آرمی اہلکار ہیں۔ تین لاکھ 44 ہزار سے زائد نیوی اہلکار ہیں۔ تین لاکھ 21 ہزار سے زائد ایئر فورس اہلکار ہیں۔ ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد میرین کور ہیں۔ تقریباً پچاس ہزار کوسٹ گارڈ ہیں۔ 10 ہزار سے زائد سپیس فورس اہلکار ہیں۔ ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد امریکی فوجی اس وقت دنیا کے 160 ممالک میں تعینات ہیں۔ دو لاکھ سے زائد تربیت یافتہ رضاکار ہیں۔ دیگرمیں ایئر ڈیفنس‘ آرٹلری‘ آرمر کیولری‘ سائبر کور‘ کیمیکل کور‘ ایوی ایشن‘ انفارمیشن نیٹ ورک‘ انجینئرنگ‘ سول افیئرز کور‘ سپیس آپریشن‘ انفنٹری‘ ملٹری انٹیلی جنس‘ لاجسٹکس‘ میڈیکل کور‘ سپیشل فورس وغیرہ شامل ہیں۔ امریکی مسلح افواج‘ محکمہ فوج‘ وزارتِ دفاع‘ پینٹاگون‘ ایف بی آئی امریکی دفاع کا بنیادی جزو ہیں۔ اس وقت اس فوج کے کمانڈر انچیف صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ سیکرٹری آف ڈیفنس پیٹ ہیگستھ ہیں‘ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین ہیں۔ ڈینیئل پی ڈرسکول امریکہ کے سیکرٹری آرمی ہیں۔ چیف آف سٹاف جنرل کرسٹوفر ہیں۔ ان کو یہ عہدہ چند روز قبل ہی دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ ان کے علاوہ کئی سینئر فوجی عہدیداران کو بھی تبدیل کیا گیا۔ اس پر دنیا بھر میں ایرانی سوشل میڈیا اکائونٹس نے امریکہ کا خاصا مذاق اڑایا کہ ہمارے ملک میں رجیم چینج کرنے نکلے تھے اور امریکہ کی اپنی عسکری قیادت چینج ہو گئی۔ امریکہ نے درجنوں سینئر فوجی اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جن میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف‘ نیول آپریشن ہیڈ اور دیگر شامل تھے۔ اگر ہم امریکہ کی دفاعی قوت کا جائزہ لیں تو امریکہ کے پاس زمین سے زمین‘ زمین سے فضا اور سمندر سے مار کرنے والے لانگ اور شارٹ رینج کے ہر قسم کے ہتھیار موجود ہیں۔ ایٹمی وار ہیڈ میں امریکہ روس کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور اس کے پاس پانچ ہزار سے زائد ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اس کے فضائی بیڑے میں ایف 16‘ ایف 35‘ ایف 22‘ ایف 15‘ سپر ہومیٹ‘ اے 10 تھنڈر بولٹ‘ بی ٹو بومبر‘ کے سی 135 ری فیولر‘ ای 3 ایئر بورن کنٹرول سسٹم شامل ہیں۔ راکٹ آرٹلری اور میزائلوں میں ملٹی پل راکٹ سسٹم‘ ہائپرسونک میزائل‘ اینٹی بیلسٹک میزائل‘ کروز میزائل‘ اینٹی شپ ہارپون‘ اینٹی ٹینک جیولین میزائل اور دیگر شامل ہیں۔ ڈرونز میں پیوما‘ گرے ایگل‘ ریون‘ یو اے وی CQ10 شامل ہیں۔ ٹینک‘ گاڑیاں اور دیگر ہتھیار اس کے علاوہ ہیں۔ امریکی بحریہ کے پاس 290 سے زائد جنگی بحری جہاز ہیں۔ طیارہ بردار جہاز بھی سمندروں میں موجود ہیں ۔ اس وقت دنیا کے متعدد ممالک امریکی فوجیوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں بحرین‘ کویت‘ سعودی عرب‘ اسرائل‘ مصر اور قطر میں امریکی فوجی اور اڈے موجود ہیں۔ اسی لیے جب ایران نے جنگ میں مشرق وسطیٰ میں موجود ان اڈوں کو نشانہ بنایا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔
اگر ہم ایران کی دفاعی قوت کا جائزہ لیں تو تاثر ہے کہ ایران خاموشی سے ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ اسی لیے وہ متعدد بار عالمی پابندیوں اور امریکی حملوں کی زد میں آیا۔ ان کی لیڈرشپ اور سائنسدانوں کو قتل کیا گیا مگر اس قوم نے ہمت نہیں ہاری۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایران کے پاس چھ لاکھ دس ہزار حاضر سروس فوجی ہیں۔ ساڑھے تین لاکھ ریزرو اور دیگر تربیت یافتہ اہلکار ملا کر یہ تعداد ساڑھے نو لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ایران نے پابندیوں کے باوجود مقامی سطح پر اسلحہ سازی کا آغاز کیا۔ ان کا بیشتر اسلحہ ملک کے اندر ہی تیار ہوتا ہے۔ ان کے پاس کروز اور بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ ٹینک‘ بکتر بند گاڑیاں‘ ڈرون اور جدید بحریہ کے علاوہ دفاعی نظام باور 373 اس کا اپنا تیار کردہ ہے۔ لانگ اور شارٹ رینج ہتھیار‘ ٹینک‘ لانچر اور چھوٹا اسلحہ بھی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ ایران کے میزائلوں سے اسرائیل تلملا اٹھا ہے اور اس کا آئرن ڈوم ایرانی میزائلوں کے سامنے بے بس نظر آیا۔ حالیہ جنگ میں جس طرح آبنائے ہرمز بند کرکے ایران نے دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا وہ اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا۔ اس جگہ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ دنیا بھر کے خام تیل اور قدرتی گیس کا بیس فیصد سے زائد یہاں سے گزرتا ہے۔ اس کی بندش سے 800 جہاز یہاں پھنس گئے جس سے پوری دنیا میں تیل اور گیس کی رسد بری طرح متاثر ہوئی۔
اگر ہم اسرائیل کی دفاعی قوت کا جائزہ لیں تو اپنی مضبوط دفاعی قوت ہی کے سبب اسرائیل نے پورے خطے کو آگ وخون کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کون سا ہمسایہ ملک ہے جو زیرعتاب نہیں آیا؟ اسرائیل کے پاس چھوٹے ہتھیاروں کے علاوہ ٹینک‘ میزائل‘ آرٹلری‘ ایئر کرافٹ‘ ڈرون‘ میزائل‘ ایئر ڈیفنس سسٹم‘ کیموفلاج سسٹم اور دیگر دفاعی و حربی سامان کے علاوہ ملٹی پل راکٹ لانچ سسٹم اور بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں۔ بحریہ اور فضائیہ کی قوت اسکے علاوہ ہے۔ اسرائیل غیر اعلانیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بھی رکھتا ہے۔
مختصراً یہ کہ تمام فریق اسلحے کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔ کوئی بھی طویل مدتی جنگ جیت نہیں سکتا۔ محض اس جنگ کے فریق ہی نہیں‘ اگر پورے خطے میں مستقل طور پر جنگ بندی نہیں ہوتی تو اس کے اثرات پوری دنیا کے امن اورمعیشت پر پڑیں گے۔ ایسے میں پاکستان کی جنگ بندی کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ اگر یہ جنگ نہ روکی جاتی تو پورا خطہ بلکہ ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جاتی۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ امریکہ اسرائیل کو روکے اور جنگ میں اس کا ساتھ نہ دے۔ اس جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک کوبھی بہت نقصان ہوا اور خوف وہراس پھیلا۔ ان کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔ افسوس کہ امتِ مسلمہ میں اتحاد کی بہت کمی ہے۔ البتہ اس بار جو پاکستان نے کر دکھایا وہ حیران کن ہے۔ عوام نے ایران سے محبت وعقیدت کا اظہار کیا اور دنیا کو بتا دیا کہ وہ پوری دنیا میں امن کے خواہاں ہیں۔ اس وقت سب کی نظریں مذاکرات پر ٹکی ہیں۔ اگرچہ اسلام آباد میں منعقدہ پہلی نشست میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا مگر امید ہے کہ جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ تمام ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایک چنگاری بھی مشرقِ وسطیٰ کے بارود کے ڈھیر میں آگ لگا سکتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved