قرآن مجید نے جہاں اہلِ اسلام کی عقائد وعبادات کے حوالے سے مکمل رہنمائی کی ہے وہیں اخلاقی حوالے سے بھی انسانوں کی مفصل انداز میں رہنمائی کی گئی ہے۔ جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور برائیوں سے بچنے کا درس بہترین انداز میں دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل میں اپنی بندگی کا حکم دینے کے ساتھ والدین کی اطاعت کا حکم دیا‘ اسراف اور تبذیر سے بچنے کی تلقین کی۔ اسی طرح بخیلی سے بچنے کا حکم دیا‘ بدکرداری اور ناحق قتل سے بچنے کی تلقین کی‘ وعدوں کو نبھانے کا حکم دیا اور غرور اور تکبرسے اعراض کی نصیحت کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل کی آیات 26 تا 39 میں فرماتے ہیں: ''اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو۔ بیشک بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں‘ اور شیطان اپنے رب کا ناشکرگزار ہے۔ اور اگر تجھے اپنے رب کے فضل کے انتظار میں کہ جس کی تجھے امید ہے‘ منہ پھیرنا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دے۔ اور اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے کھول دے (کہ) بالکل ہی کھول دینا‘ پھر تُو پشیمان تہی دست ہو کر بیٹھ رہے گا۔ بیشک تیرا رب جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے‘ بیشک وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے۔ اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو‘ ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی‘ بیشک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔ اور زنا کے قریب نہ جائو‘ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔ اور جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرنا‘ اور جو کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے ولی کے واسطے اختیار دے دیا ہے لہٰذا قصاص میں زیادتی نہ کرے‘ بیشک اس کی مدد کی گئی ہے۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جائو مگر جس طریقہ سے بہتر ہو‘ جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے‘ اور عہد کو پورا کرو‘ بیشک عہد کی باز پرس ہو گی۔ اور ناپ تول کر دو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تول کر دو‘ یہ بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے۔ اور جس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ‘ بیشک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہو گی۔ اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل‘ بیشک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا اور نہ لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔ ان میں سے ہر ایک بات تیرے رب کے ہاں ناپسند ہے۔ یہ اس حکمت میں سے ہے جسے تیرے رب نے تیری طرف وحی کیا ہے‘‘۔ سورۂ بنی اسرائیل کی ان آیاتِ مبارکہ پر غور وفکر کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام میں صرف عقائد اور عبادات کی اہمیت کو اجاگر نہیں کیا گیا بلکہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کی طرف بھی انسانوں کی کامل رہنمائی کی گئی ہے۔
ہمارے معاشرے میں جہاں مذکورہ بالا امور پر صحیح طور پر توجہ نہیں دی جاتی وہیں معاشرے میں کسی کی تذلیل اور تحقیر کرنے اور غیبت اور عیب جوئی کو بھی معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان امور کے حوالے سے سورۃ الحجرات میں اہلِ اسلام کی بڑے خوبصورت انداز میں رہنمائی کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ حجرات کی آیات: 11 تا 12 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے عجب نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ٹھٹھا کریں‘ کچھ بعید نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں‘ اور ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ایک دوسرے کے نام دھرو‘ فسق کے نام لینے ایمان لانے کے بعد بہت برے (گناہ) ہیں‘ اور جو باز نہ آئیں سو وہی ظالم ہیں۔ اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو‘ کیونکہ بعض گمان تو گناہ ہیں‘ اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے‘ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو‘ اور اللہ سے ڈرو‘ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا‘ نہایت رحم والا ہے‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ لقمان میں حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کوکی تھیں۔ ان نصیحتوں میں جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید اور والدین سے حسنِ سلوک کا درس ہے‘ وہیں کئی اعلیٰ اخلاقی اوصاف کو بھی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ سورۂ لقمان کی آیات 18تا 19 میں اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت لقمان کی نصیحتوں کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اترا کر نہ چل‘ بیشک اللہ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر‘ بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے‘‘۔
ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانوں کو ہمیشہ عاجزی اور انکساری کے راستے پر چلنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کو کبھی بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ والے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں اور کسی پر بلاوجہ چیخنے اور چلانے سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ضرورت پڑنے پر دوسروں کی مدد کرتے اور انسانوں کی کوتاہیوں کو معاف کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں ہی کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آل عمران کی آیت: 134 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''(متقی وہ ہیں) جو خرچ کرتے ہیں‘ خوشحالی اور تنگی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو‘ اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کو‘ اللہ محبوب رکھتا ہے اچھے عمل کرنے والوں کو‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النساء میں انسان کو اپنے متعلقہ لوگوں سے حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ سورۂ نساء کی آیات: 36 تا 37 میں ارشاد ربانی ہے: ''اور اللہ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو‘ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ بھی (نیکی کرو)‘ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اِترانے والے‘ بڑائی کرنے والے شخص کو۔ (اور انہیں) جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل سکھاتے ہیں اور اسے چھپاتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے‘ اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت کو سورۂ بنی اسرائیل کی آیات 23 تا 24 میں کچھ یوں بیان فرمایا: ''اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو‘ اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو۔ اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو: اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما‘‘۔ والدین کے حقوق کے حوالے سے اس قدر خوبصورت انداز میں نصیحت دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں ملتی۔ یقینا والدین اور دیگر انسانوں کے حقوق کی بجاآوری کے حوالے سے کی جانے والی یہ نصیحتیں ہر اعتبار سے لائقِ تحسین ہیں۔
قرآن مجیدکے بہت سے دیگر مقامات پر بھی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے بیش قیمت نصیحتیں کی گئی ہیں۔ اگر انسان ان نصیحتوں کو ملحوظ خاطر رکھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے ایک معیاری اخلاقی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو بداخلاقی اور غلط طرزِ زندگی سے محفوظ فرمائے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved