''صرف بی جے پی آسام کو مسلمانوں سے پاک کر سکتی ہے۔ ہر مسلم کو نشاندہی کر کے نکالا جائے گا۔ اب یو پی میں کوئی سڑکوں پر نماز نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی کسی عبادت گاہ سے بلند آواز کی اجازت ہو گی‘‘۔ یہ تازہ پھنکار ہے اور اُس سانپ کی ہے جو سب سے زیادہ موذی ہے۔ زہر کی اس گٹھڑی کا نام ادتیا ناتھ ہے جو یو پی کا وزیراعلیٰ ہے۔
دنیا میں شاید ہی کسی کا ذہن اتنا تنگ ہو جتنا بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں کا تنگ ہے۔ اتنے وسیع و عریض ملک میں انہیں مسلمانوں کا وجود کھٹکتا ہے جن کی آبادی پورے بھارت میں مشکل سے چودہ فیصد ہے۔ ان کی سوچ گائے کی تقدیس سے آگے نہیں جاتی۔ ہر ہندو کو گائے کی تقدیس کا حق ہے۔ ہم پاکستانی کسی کو اس کے مذہبی رسوم وعبادات سے نہیں روکتے۔ مگر گائے کے نام پر مسلمانوں کی زندگی جہنم بنانے کا کارنامہ صرف بی جے پی نے سرانجام دیا ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے الیکشن میں بھارت کو کبھی موضوعِ سخن نہیں بنایا۔ مگر بھارت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے اعصاب پر پاکستان اس قدر چھایا ہوا ہے کہ ہر الیکشن میں پاکستان کے خلاف زہر اُگل کر ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح اپنے ووٹروں کے ذہنوں میں تنگ نظری کے بیج بوتے ہیں اور مسلسل بوتے ہیں۔ آسام اس لیے بی جے پی کے نشانے پر ہے کہ جموں اور کشمیر کے بعد یہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد بس رہی ہے جو آسام کی کل آبادی کا تیس‘ اکتیس فیصد ہے۔ آسام کے مغربی اور وسطی اضلاع میں تو مسلم آبادی پچاس سے اٹھانوے فیصد تک ہے۔ یہ مسلمان صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی 1206ء میں آسام میں بختیار خلجی کے زمانے سے شروع ہوئی اور پھر مسلسل بڑھتی رہی۔ برصغیر پر مسلمان آٹھ‘ نو سو سال تک حکمران رہے۔ وہ چاہتے تو پورے بر صغیر کو بزور مسلمان کر سکتے تھے۔ غیر مسلمو ں کو تہِ تیغ بھی کر سکتے تھے۔ جنوب کی طرف بھی دھکیل سکتے تھے۔ مگر انہوں نے کمال رواداری اور برداشت سے کام لیا۔ ہندو اس سارے مسلم عہد میں بڑے بڑے مناصب پر فائز رہے۔ اورنگ زیب نے‘ جس پر سب سے زیادہ ہندو دشمنی کا الزام لگتا ہے‘ ہندوئوں کو ممتاز عہدں پر رکھا۔ شبلی نعمانی نے یونہی تو نہیں کہا تھاکہ:
تمہیں لے دے کے ساری داستاں میں یاد ہے اتنا
کہ اورنگ زیب ہندو کُش تھا‘ ظالم تھا‘ ستم گر تھا
راجہ جسونت سنگھ شاہجہان کے عہد میں بھی مغل فوج کا کمانڈر رہا اور اورنگ زیب کے دور میں بھی! مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دور کی وجہ سے آج بی جے پی کے پیروکار شدید احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ مسلسل آگ اگلنے والا جنرل بخشی تو کئی بار مسلمانوں کے دورِ حکومت کا انتقامی لہجے میں ذکر کر چکا ہے۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلم حکومتیں‘ بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار سے مکمل طور پر غافل اور بے نیاز ہیں۔ خلیج کی ایک ریاست سے تعلق رکھنے والی ایک شہزادی کے احتجاج کے علاوہ اس حوالے سے کبھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ شرقِ اوسط کے بادشاہوں کا ایک بیان بھی بھارتی مسلمانوں کی زندگی آسان کرنے کے لیے کافی ہے۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ان مسلم ریاستوں میں لاکھوں بھارتی ہندو ایک آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں اور پیسہ کما کما کر بھارت بھیج رہے ہیں۔ مگر یہاں کے حکمرانوں نے بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف کبھی کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ شاید: حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے! ادتیا ناتھ کا جو بیان ہم نے اس تحریر کی ابتدا میں نقل کیا ہے‘ کم از کم پاکستانی وزارتِ خارجہ کو اس کا نوٹس ضرور لینا چاہیے تھا۔ کوئی تو بھارت سے پوچھے کہ آخر ''ہر مسلمان‘‘ کو نکالنے سے کیا مراد ہے۔ رہا ایران‘ تو ماضی قریب تک تو وہ خود بھارت کی زلف کا اسیر رہا ہے۔ 2025ء میں ہونے والی اسرائیل ایران جنگ سے پہلے ایران بھارت کے بہت نزدیک تھا۔ مگر جب جنگ چھڑی تو بھارت نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان نے کھل کر ایران کی حمایت کی۔ حالیہ جنگ میں ایران نے بھارت کی منافقانہ ذہنیت کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ مودی نے اسرائیل جا کر نیتن یاہو پر جس طرح محبت نچھاور کی ہے‘ ایران کی آنکھیں اس سے کھل گئی ہیں۔ کاش ایران اب بھارتی مسلمانوں کی حالت کا نوٹس لے۔ آخر عالم اسلام بیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کو کس طرح نظر انداز کر سکتا ہے؟ روس سمیت کئی ملکوں میں مسلم اقلیتیں آباد ہیں۔ جو سلوک بھارت میں مسلم اقلیت کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے‘ دنیا میں اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔
بھارتی مسلمانوں کے مسئلے کا حل کیا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بھارت کے مسلمان ہم پاکستانی مسلمانوں کے جسم کا حصہ ہیں۔ ایک لحاظ سے وہ پاکستان کے لیے قربانی کا بکرا بنتے ہیں کیونکہ بی جے پی جیسی ذہنیت کے بھارتی پاکستان پر غضبناک ہوں تو غصہ بھارتی مسلمانوں پر نکالتے ہیں۔ بھارت میں مسلمان بیس کروڑ ہیں مگر یہ تعداد مختلف ریاستوں میں بکھری ہوئی ہے۔یہ پریشر گروپ کی صورت اختیار کرنے سے قاصر ہیں۔ بھارتی مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ملازمتوں میں ان کا حصہ برائے نام ہے۔ ان کی دکانوں پر‘ ان کے مکانوں پر‘ ان کی مسجدوں پر حملے عام ہیں۔ آپ اس ذہنیت کا اندازہ لگائیے کہ کچھ عرصہ قبل اورنگزیب عالمگیر کی قبر کو اکھاڑنے کی مذموم اور مکروہ کوشش کی گئی۔ کراچی بیکری کی برانچوں پر حملے کیے گئے حالانکہ یہ ہندوؤں کی بیکری ہے۔ یہ ہندو خاندان کراچی سے گیا تھا۔ اپنے شہر کی یاد میں انہوں نے بیکری کا نام کراچی رکھا۔ صرف اس وجہ سے کہ کراچی پاکستان کا شہر ہے‘ اس بیکری کو حکومتی ادارے بھی پریشان کرتے ہیں۔
بھارتی مسلمانوں کے مسئلے کا بظاہر ایک ہی حل ہے کہ مسلم ملکوں کو‘ بالخصوص عرب ملکوں کو باور کرایا جائے کہ بھارت اسلام دشمنی کا ہدف بھارتی مسلمانوں کو بنا رہا ہے۔ پاکستانی سفارت خانوں کو اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرنا ہو گا۔ لازم نہیں کہ ہمارے سفیر‘ مسلم ملکوں کی حکومتوں کو درمیان میں لائیں۔ انہیں مسلم ملکوں کے علما‘ اہلِ دانش‘ اہلِ قلم اور عوام تک یہ مسئلہ پہنچانا ہو گا۔ جب ان ملکوں کی سول سوسائٹی اس سلسلے میں بیدار ہو جائے گی تو اپنی حکومتوں سے خود بات کر لے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سفارت خانوں نے مسلم ملکوں کے میڈیا میں بھارتی مسلمانوں کا مسئلہ اٹھایا ہے؟ کیا مسلم ملکوں کے اخبارات میں اس حوالے سے مضامین لکھے گئے ہیں؟ ہمارے پریس اتاشی‘ پریس قونصلر اور پریس منسٹر کیا کر رہے ہیں؟ بیرونِ ملک تعیناتی کا مقصد صرف ڈالر کمانا اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا ہی نہیں ہے‘ کام کرنا بھی ہے! کیا حرمین شریفین کے آئمہ سے اس سلسلے میں ملاقاتیں ہوئی ہیں؟ کیا ہمارے سفیر تعلیمی اداروں میں جا کر یہ مسئلہ اٹھاتے ہیں؟ کیا شیخ الازہر سے کسی نے بات کی ہے؟ مغربی ممالک کے سفیر جو پاکستان میں تعینات ہیں‘ غیر حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ہمارے سفیر ایسا کیوں نہیں کرتے؟ پچپن مسلم ملکوں میں سے دس ملک بھی بھارت سے بات کریں تو فرق پڑ سکتا ہے۔ عرب ممالک کا ایک اشارہ بھی بی جے پی کی حکومت کے لیے کافی ہو گا۔ لازم ہے کہ اس مسئلے کو ایک مہم کے طور پر لیا جائے۔ پاکستانی میڈیا کو بھی چاہیے کہ اس مسئلے پر سیمینار کرائے۔ علما کرام جمعہ کے خطبات میں اس موضوع پر عوام سے خطاب کریں۔ ہماری مذہبی جماعتیں کیوں سوئی ہوئی ہیں؟ یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے! یہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved