شوکت گجر‘ معاف کیجیے میں بھول ہی گیا کہ شوکت اپنے لیے شوکت علی انجم لکھا اور پکارا جانا پسند کرتا ہے‘ تاہم اب صرف اس کے پسند کرنے سے کیا ہوتا ہے‘ آخر ہماری اپنی بھی تو کوئی پسند نا پسند ہے۔ بہرحال نام کو ایک طرف رکھتے ہوئے فی الوقت دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اسے حالیہ ایران امریکہ جنگ رکوانے کے سلسلے میں پاکستان نے جو کردار سرانجام دیا ہے‘ فی الوقت نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے کے باوجود اس خطے میں امن کی بحالی کیلئے اٹھایا جانے والے پہلے اور نہایت اہم قدم پر حکومت پاکستان کے کردار پر تو خوشی اور فخر ہے لیکن وہ اس بات پر مغموم اور دکھی ہے کہ اس ساری کامیابی کے پیچھے جس بندے کی منصوبہ سازی اور داؤ پیچ کا کمال تھا اس کا عالمی سطح پر کامیابی سے بھرپور اس سارے فسانے میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔
شوکت کا کہنا ہے کہ یہ جنگ کے معاملات تھے اور ان کو احسن طریقے سے سنبھالنا اور حل کرنا کسی سمجھدار اور ذہین عسکری شخصیت کو درمیان میں ڈالے بغیر ناممکن تھا۔ خوش قسمتی سے ہمیں فیلڈ مارشل کی صورت میں حربی علوم و عسکری منصوبہ بندی کا ایک نابغہ دستیاب ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ ایسے معاملات کو منطقی نتیجے تک پہنچانے کیلئے سیاسی قیادت کی شمولیت ازحد ضروری ہے اور جنگ کے سیز فائر والے مرحلے کے بعد والے معاملات کو سیاسی دور اندیشی اور مفاہمتی صلاحیتوں کے بغیر پایۂ تکمیل تک پہنچانا ناممکن ہے۔ وہ اس سارے منظر نامے میں فیلڈ مارشل کے علاوہ اگر کسی دوسری شخصیت کو کریڈٹ دیتا ہے تو وہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف یا وزیر خارجہ کے بجائے یہ سہرا صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے سر باندھتا ہے۔
آپ کو تو علم ہی ہو گا کہ شوکت گجر‘ میرا مطلب ہے شوکت علی انجم ایک نہایت ہی ''کھٹا ٹیٹ‘‘ قسم کا جیالا ہے۔ وہ بھی بہت سے پرانے اور اصلی جیالوں کی طرح بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری سے شادی پر افسردہ تھا اور ایک عرصے تک آصف علی زرداری کو اپنی قائد بی بی کا شوہر ہونے کے باوجود دلی طور پر تسلیم کرنے سے انکاری رہا‘ تاوقتیکہ بینظیر بھٹو کے بہیمانہ قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کا تاج ایک وصیت نامے کے زریعے آصف علی زرداری کے سر پر سج گیا اور شوکت گجر نے زرداری صاحب کو بی بی کا جانشین تسلیم کرتے ہوئے اپنے سارے تحفظات اور شکوک سے رجوع کرتے ہوئے اپنے بغض و عناد سے توبہ کر لی۔ شوکت (گجر یا انجم کے چکر میں پڑنے کے بجائے فی الوقت صرف شوکت سے کام چلاتے ہیں)کو اس وصیت نامے کی حقانیت پرشک تھا لیکن دل سے نہ ماننے کے باوجود نہ صرف وہ زرداری صاحب کو اپنی پارٹی کا لیڈر سمجھتا ہے بلکہ ان کی صلاحیتوں کا ممدوح و معترف بھی ہے۔ اس میں وہ سب سے بڑھ کر ان کی جس صلاحیت کے بارے میں رطب اللسان ہے وہ ان کی مفاہمت کی صلاحیت ہے۔
سیاسی معاملات میں شوکت کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ ایک بے لوث اور مخلص جیالا ہے اور بھٹو خاندان اور ان کے نامزد کردہ قائد کا بھی دل و جان سے وفادار ہے بلکہ اس کا ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ شریفین و آلِ شریفین کے سخت خلاف ہے۔ اتنا خلاف کہ صرف ان کی مخالفت میں پیپلز پارٹی کو ناکافی سمجھتے ہوئے درمیان میں اپنی پارٹی چھوڑے بغیر تحریک انصاف میں شامل ہو گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ کم از کم پنجاب کی حد تک پیپلز پارٹی میں اب وہ دم خم نہیں رہا کہ وہ سیاسی میدان میں نواز شریف کا راستہ روک سکے لہٰذا ان حالات میں پیپلز پارٹی سے اپنی محبت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ بوجھل دل سے عمران خان کی حمایت پر مجبور ہے۔ وہ گزشتہ اور اس سے پیوستہ الیکشن میں عمران خان کی حمایت کے سلسلے میں یہ دلیل دیتا تھا کہ دشمن کا دشمن ہمارا دوست ہے۔ تحریک انصاف سے اس کی دوستی کا یہ تزویراتی سفر نو مئی کو مکمل طور پر اختتام پذیر ہوا اور وہ دوبارہ سارے کا سارا پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا۔
گزشتہ کئی روز سے وہ آہستہ آہستہ میرے کانوں میں یہ بات ڈال رہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کی پاکستانی کاوشوں کے پیچھے آصف علی زرداری کی شخصیت ہے اور قومی سطح پر اپنی کامیاب مفاہمتی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد پاکستان کو اپنی بے پایاں صلاحیتوں کیلئے ناکافی پاتے ہوئے اب عالمی منظرنامے میں اپنا کردار سرانجام دینے کیلئے میدانِ عمل میں آ چکے ہیں اور اب وہ عالمی سطح پر اپنی دھاک بٹھانے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر واقعتاً اس ساری پیشرفت کے پیچھے صدر زرداری ہی ہیں تو وہ آخر منظر عام پر کیوں نہیں آ رہے؟ شوکت مسکرا کر کہنے لگا: یہ بھی ان کی مفاہمتی پالیسی کا ایک داؤ ہے کہ وہ خود پردۂ غیب میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت اور کامیابی کا تمام تر کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو دے کر اپنے سیاسی مستقبل کو مزید محفوظ و مامون بنا رہے ہیں۔
اب اسے آپ شوکت کی خوش قسمتی کہیں یا اس کے مؤقف کی سچائی سمجھیں کہ اگلے ہی روز یہی بات شیری رحمن نے کہہ دی۔ بس اب کیا تھا‘ اس کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں ٹِک رہے تھے۔ تاوقتیکہ اسلام آباد میں لگنے والی اس اہم بیٹھک کے شرکا فی الحال کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی اپنے اپنے ملک روانہ ہو گئے۔ میں شوکت کا تو مذاق نہیں اڑا سکتا تھا تاہم شیری رحمن کے بیان پر میرے مذاق اڑانے پر وہ کہنے لگا کہ اس وقت تو آپ منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھے تھے جب گزشتہ سال مئی میں پاکستان نے بھارت کو نہایت مختصر وقت میں شرمناک رگڑا لگایا تھا اور پنجاب کی ایک وزیر نے پاکستان کے اس جنگی کامیابی کو میاں نواز شریف کی پلاننگ اور قیادت کا پھندنا لگاتے ہوئے اس فتح کا سارا سہرا اپنے قائد کے سر باندھ دیا تھا۔ اتنی پیچیدہ اور ہائی ٹیک فضائی جنگ‘ جس کی روئے ارض پر ماضی میں کوئی مثال نہیں‘ اس کی منصوبہ بندی اور قیادت اُن کے نام کر دی گئی جو محلے کی لڑائی بھی نہیں چھرا سکتے۔ اب آپ ہی بتائیں بھلا اس قسم کی بے سروپا باتوں کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے؟
کامیابی اور فتح کے ہزار وارث ہوتے ہیں جبکہ ناکامی اور شکست سراسر لاوارث ہوتی ہے۔ جو لوگ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے اور بات کرنے تک کے روادار نہ تھے‘ پاکستان نے ان کو ایک میز پر آمنے سامنے بٹھا دیا۔ تقریباً نصف صدی بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست گفتگو کا دروازہ کھولنے پر پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی اور نیک نامی میں ہزار لوگ حصہ دار بنیں گے۔ اب وہ لوگ بھی شریک کار بننے کی دوڑ میں شامل ہوں گے جو حکومت کے ہر کام میں کیڑے نکالنا اپنا فرضِ اولین سمجھتے تھے اور اپنا یہ فرض کماحقہٗ سرانجام بھی دے رہے تھے۔
میں جنگ کو گلیمرائز نہیں کر رہا کہ جنگ سوائے تباہی اور بربادی کے اپنے پیچھے کچھ چھوڑ کر نہیں جاتی مگر جب جنگ آپ پر مسلط کر دی جائے تو پھر اس کا سامنا کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ جب جنگ آپ کے دروازے پر دستک دے تو آپ کے سامنے تب دو راستے ہوتے ہیں ایک یہ کہ آپ پاؤں پر کھڑے ہو جائیں‘ دوسرا یہ کہ آپ پاؤں پڑ جائیں۔ اس جنگ میں ایران کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا مگر اس نے پہلے راستے کا انتخاب کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ دوسرا راستہ بھی اختیار کرتا‘ تب بھی انجام یہی ہونا تھا مگر اب وہ تمام تر تباہی کے باوجود میدان میں برابری بلکہ اس سے بھی بہتر پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ایک عرصے کے بعد امریکہ اپنی تمام تر طاقت‘ جارحیت اور گھمنڈ کے باوجود عالمی سطح پر دفاعی صورتحال کا شکار ہے۔ تاریخ میں پہلی بار امریکہ ایک ایسی فتح کا دعویدار ہے جس کا سوائے صدر ٹرمپ کے اور کوئی دعویدار نہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved