ہفتے اور اتوار کو مصر کا مشہور ٹی وی چینل ''شمس‘‘میرے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا۔ ان دو دنوں میں پاکستان ہی سارے جہاں کا مرکزِ نگاہ تھا۔ اتوار کے روز چینل کی اینکر مروہ المقدادی نے مجھ سے سوال کیا: دکتور! مذاکرات کے حوالے سے کوئی اچھی خبر؟ میں نے جواب دیا کہ ''مزید جنگ نہیں ہو گی‘‘۔سبب اس کا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سمیت طرفین ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو ہونے والے مذاکرات کے بارے میں عمومی طور پر مثبت توقعات کا اظہار کر رہے تھے۔ لیکن تازہ ترین خبروں کے مطابق اب ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر کی پل پل بدلتی طبیعت کا اندازہ لگانے کیلئے مصنوعی ذہانت بھی کوئی آلہ یا پیمانہ دریافت نہیں کر سکی۔ ٹرمپ صاحب کی طبیعت کے بارے میں استاد گرامی کا شعر پیش کیا جا سکتا ہے کہ
دوستو! میری طبیعت کا بھروسہ کچھ نہیں
ہنستے ہنستے آنکھوں میں رنگِ ملال آ جائے گا
جب اینکر نے کہا کہ بظاہر جنگ نہ ہونے کے بارے میں کوئی ڈیل تو نہیں ہوئی تو جواباً عرض کیا: اکثر معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ امریکہ نے بھی ٹھوس موضوعات پر سنجیدہ گفتگو کا اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح ایران نے بھی یہی کہا ہے کہ اکثر موضوعات پر بات آگے بڑھی مگر دو تین نکات پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔ گویا اتفاق زیادہ اور اختلاف کم ہے۔ ورکنگ ڈنر کے ایک مختصر وقفے کے علاوہ مسلسل 21گھنٹے امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان روبرو براہِ راست مذاکرات جاری رہے۔
دونوں مذاکراتی ٹیموں نے مذاکرات کے نتائج کا اپنا اپنا مسودہ ایک دوسرے کے حوالے کیا۔ پاکستانی قیادت کی بھرپور کوشش تو یہ تھی کہ امریکی و ایرانی دونوں وفود مزید ایک روز کیلئے اپنا قیام بڑھائیں تاکہ کوئی ابتدائی نوعیت کی ڈیل طے پا جائے مگر امریکہ کے نائب صدر آمادہ نہ ہوئے۔ تاہم جنگ بندی قائم ہے اور فریقین کسی ڈیل پر پہنچنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اتوار کی صبح چھ بجے امریکی نائب صدر اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔ وقتِ رخصت جے ڈی وینس نے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مہمان نوازی اور سہولت کاری کی بہت تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔ جے ڈی وینس نے بین السطور ایسے اشارے بھی دیے ہیں کہ رشتۂ امید ٹوٹا نہیں برقرار ہے اور بات بننے کی ابھی بہت توقعات ہیں۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ ہم ایک سادہ سی تجویز ساتھ لے کر جا رہے ہیں کہ بعض اوقات پیچیدہ کے بجائے سادہ سا فارمولا بات کو بگڑنے سے بچا لیتا ہے۔ فریقین کے ایک دوسرے کیلئے ریمارکس اور باڈی لینگوئج نہایت مثبت ہے۔ ہماری رائے میں کئی دہائیوں سے منجمد ایرانی اثاثوں کو امریکہ جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ تجارت پر عائد کردہ پابندیوں کو بھی کسی حد تک اٹھانے کی بات آگے بڑھی تھی مگر ہماری معلومات کے مطابق دو باتوں پر سخت اڑچن پیدا ہو گئی ۔ ایک تو ایران کی طرف سے نیوکلیئر اہلیت اختیار کرنے سے مکمل اجتناب کی گارنٹی نہ دی گئی‘ دوسری اڑچن لبنان میں اسرائیلی حملے تھے۔ امریکہ اسرائیل سے لبنان پر حملے روکنے کی دو ٹوک ضمانت لے کر نہ دے سکا۔ اسرائیل نے واشنگٹن میں لبنان سے جنگ بندی مذاکرات کا اعلان تو کیا تھا مگر اسرائیلی فوجوں نے ہفتے کے روز لبنان اور غزہ میں 19 افراد کو شہید کر کے اسلام آباد مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح آبنائے ہرمز پر کسی بڑی پیشرفت کا نہ ہونا بھی مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں یقینا ایک بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوا ہو گا۔ اگر کسی کا یہ خیال تھا کہ 47 برس بعد پہلی ہی ملاقات میں کوئی بڑی پیشرفت ہو جائے گی تو یہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی خوش فہمی تھی۔ اسلام آباد میں 47 برس کے بعد روبرو متحارب فریقین کی بہت اچھے ماحول میں 21 گھنٹے طویل ملاقات کا ہو جانا ہی ایک مثبت پیشرفت ہے۔پاکستان نے جس کارِ خیر کا بیڑہ اٹھایا ہے اسے وہ خوشگوار انجام تک پہنچانے کا عزم صمیم رکھتا ہے۔ شاعر بھی سفارتکاری کے اچھے گر جانتے ہیں‘ تبھی تو داغ دہلوی نے کہا تھا کہ ''اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں‘‘۔ پاکستان کی مسلسل کوشش سے فریقین کے مابین مذاکرات کے کئی اور راؤنڈ کئی سطحوں پر ہوں گے۔ امریکی قیادت پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ امریکی سیاستدان‘ ممبرانِ کانگریس اور دو چار نہیں کم و بیش 80 لاکھ امریکی عوام نے سڑکوں پر آ کر امریکی قیادت کو باور کرایا کہ یہ جنگ امریکہ کی نہیں‘ اسرائیل کی ہے۔ ان حالات میں امریکہ تین نومبر کے مڈٹرم انتخابات پر توجہ مرکز کرے گا اور ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہیں کرے گا۔
اب تک کی جنگ سے ایران کا اگرچہ بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے مگر اس کی بھرپور مزاحمت اور جواں مردی سے ساری دنیا پر ایران کی دھاک بیٹھ گئی ہے۔ اس سے بھی بہت بڑا فائدہ ایران کو یہ ہوا کہ ساری دنیا کے عوام و خواص کی مکمل ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔ یورپ‘ آسٹریلیا اور دیگر بہت سے ممالک کی حکومتوں نے بھی امریکہ کی کوششوں کے باوجود جنگ میں اس کا ساتھ نہ دیا ۔ اس کے علاوہ عرب و عجم کو آپس میں لڑانے کے مذموم اسرائیلی ارادوں کو بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ایران کا کہنا یہ تھا کہ وہ عرب دنیا پر نہیں وہاں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہا‘ مگر عرب بھائی ان حملوں کو اپنے خلاف جارحیت سمجھتے ہیں۔ اس جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات اور ایک دو اور ریاستوں کو چھوڑ کر سعودی عرب اور قطر نے بالخصوص صبر و حکمت اور تدبر و دانش سے کام لیا اور ایرانی میزائلوں کا جوابی حملوں کی صورت میں جواب نہ دیا۔ اب اگر خدانخواستہ دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اسرائیلی شرارت کی چنگاری شعلے بن کر پھیلتی ہے تو یہ خطے کا ہی نہیں سارے عالم اسلام کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ ایسی صورتحال میں اگر پاکستان بھی جنگ میں مجبوراً شامل ہو جاتا ہے تو پھر تباہی ہی تباہی ہو گی۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں مستقل امن چاہتے ہیں تو انہیں نیتن یاہو کو لگام دینا ہو گی۔ امریکی صدر چونکہ مسلسل بولتے ہیں اس لیے بہت سی غیرضروری باتیں بھی کر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چین ایران کو ہتھیار فراہم کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ جو ملک بشمول چین ایسا کرے گا اس پر امریکہ 50 فیصد ٹیرف لگا دے گا۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی قوت ہے۔ اس لیے اسے دھمکی دینے سے پہلے امریکی صدر کودو بار نہیں‘ سو بار سوچنا چاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ یقینا یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ ایران پر مسلط کردہ بے مقصد جنگ ختم ہونی چاہیے اور ایران کے ساتھ امریکہ کے دوطرفہ معمول کے تعلقات قائم ہو جانے چاہئیں۔ یہ تعلقات ایران کیلئے بھی بہت مفید ہوں گے۔ اسے اپنے منجمد اثاثے واپس ملیں گے۔ ایران پر عائد کردہ قدغنیں اٹھا لی جائیں گی۔ ایران کے اندر مہنگائی کے طوفان میں کمی آئے گی اور وہاں جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد تعمیرِ نو کا آغاز ہو جائے گا۔
مذاکرات کے بعد فریقین کے ریمارکس کا جائزہ لیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ معاملہ نیوکلیئر پوائنٹ پر اٹکا ہوا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ امریکہ ایران کے مؤقف کو سمجھے اور اس پر روٹین کی انسپکشن سے بڑھ کر ناروا پابندیاں عائد کرنے پر اصرار نہ کرے۔ دوسری طرف ایران بھی پہلے اپنے مؤقف کا واضح اعادہ کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ فریقین کے مابین یہی انڈر سٹینڈنگ خطے میں امن کی کلید ثابت ہو گی۔ مستقل پائیدار امن کا معاہدہ کرنے میں فریقین جس قدر تاخیر کریں گے اس سے عالمی امن اور معیشت‘ اسی قدر شدید خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔ اسلام آباد مذاکرات سے ملنے والے واضح اشارے یہی ہے کہ مزید جنگ نہیں ہو گی‘ اور مذاکرات کا اگلا دور عنقریب متوقع ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved