امریکہ اور ایران کے مابین تقریباً نصف صدی پر محیط سخت کشیدگی اور سفارتی تعطل کے بعد خوشگوار اور تعمیری ماحول میں براہِ راست مذاکرات کا انعقاد بلاشبہ اس صدی کی اہم کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والی یہ طویل مذاکراتی نشست اگرچہ کسی حتمی نتیجے یا تحریری معاہدے پر پہنچنے سے پہلے ہی اختتام پذیر ہو گئی اور فریقین اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ گئے تاہم ان مذاکرات نے ایک ایسے پائیدار سفارتی فریم ورک کی بنیاد رکھ دی ہے جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اُن الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے اسلام آباد سے رخصت ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہے تھے۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں جو بھی کمی رہی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انہوں نے پاکستانی حکام کی کاوشوں کو شاندار قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے مابین حائل خلیج کو کم کرنے کیلئے واقعی خلوصِ نیت سے کام کیا۔ امریکی نائب صدر کا یہ کہنا کہ ہم 21گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ ٹھوس بات چیت ہوئی‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی گفتگو محض رسمی نہیں بلکہ نہایت سنجیدہ اور معنی خیز تھی۔
جے ڈی وینس نے جہاں مذاکرات کی میز سجنے کو اچھی خبر قرار دیا‘ وہیں کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ پانے کو ایک برُی خبر سے تعبیر کیا۔ ان کے بقول یہ ناکامی ایران کیلئے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر ایرانی وفد نے کس بات کو مسترد کیا تو انہوں نے جزئیات میں جانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ایران سے اس بات کا اٹل اور واضح عہد چاہیے کہ وہ نہ صرف ابھی بلکہ مستقبل میں بھی کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں معاون ثابت ہو۔ واشنگٹن یہ ضمانت صرف چند سال کیلئے نہیں بلکہ طویل مدت کیلئے مانگ رہا ہے۔ امریکی نائب صدر نے ''ابھی تک‘‘ کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سفارتکاری کی بساط ابھی الٹی نہیں یعنی مستقبل قریب میں کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ امریکی نائب صدر کی گفتگو کا نہایت اہم پہلو پاکستان سے متعلق بھرپور عزت و احترام تھا۔ انہوں نے پاکستان کو شاندار میزبان قرار دے کر یہ واضح کر دیا کہ واشنگٹن پاکستان کے ثالثی کردار سے نہ صرف مطمئن ہے بلکہ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سفارتی زبان میں یہ اس بات کا برملا اعلان ہے کہ مستقبل میں جب کبھی امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی مکالمے کی ضرورت پڑے گی تو وہ اسلام آباد ہی کے راستے سے آئے گا۔
مذاکرات کے بعد توقع ہوتی ہے کہ فریقین مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے یا کم از کم جن نکات پر اتفاقِ رائے ہوا ہے اس پر یکساں مؤقف کا اظہار ہو گا لیکن امریکی اور ایرانی وفود کی جو گفتگو سامنے آئی اس میں تضاد تھا جس نے مبصرین کو الجھن میں ڈال دیا۔ تاہم اب جیسے جیسے تفصیلات سامنے آ رہی ہیں تو ابہام ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مذاکرات کے دوران صحافتی برادری اور عالمی مبصرین مسلسل بیدار رہ کر کسی بڑی خبر کی تلاش میں تھے مگر یہ قرین قیاس تھا کہ فریقین اپنے باہمی تحفظات کا اظہار پاکستان کی سرزمین پر کرنے سے گریز کریں گے تاکہ میزبان ملک کی سفارتی کوششوں کو زک نہ پہنچے۔ اب جبکہ دونوں وفود اپنے اپنے ممالک میں موجود ہیں تو مذاکراتی کمرے کے اندر ہونے والی سرگرمیوں کی کچھ تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ وہ حتمی معاہدے سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھے‘ مگر عین وقت پر امریکہ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی بے تابی آڑے آ گئی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق واشنگٹن کا غیر لچکدار اور سخت رویہ حتمی دستخطوں کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ یہ دراصل مذاکرات کاروں کا اصل امتحان تھا جہاں ہر فریق کی کوشش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرے تاکہ اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہو سکے۔ یہی وہ بنیادی عامل تھا جس نے قلم کو کاغذ پر چلنے سے روکے رکھا۔
امریکہ اور ایران کے مابین حتمی معاہدہ نہ ہونے کے بعد یہ امر زیر بحث ہے کہ اب کیا ہو گا؟ تقریباً 40 روز پر محیط حالیہ جنگ و جدل نے فریقین کو ایک دوسرے کی عسکری و معاشی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ کر دیا ہے۔ اب یہ حقیقت دونوں پر واضح ہو چکی کہ جنگ کے تسلسل کی صورت میں نہ صرف وہ خود بلکہ دنیا کے اکثر ممالک متاثر ہوں گے۔ عالمی دباؤ اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ لچک کا مظاہرہ کرے گا کیونکہ دنیا کے ایک بڑے حصے کا یہ ماننا ہے کہ خطے کو موجودہ جنگ کی ہولناکیوں میں امریکہ ہی نے جھونکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا اپنا ایجنڈا ہے‘ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کے سر سے امریکی عسکری چھتری ہٹے یا تہران اور واشنگٹن کے تعلقات میں کوئی ایسی گرمجوشی آئے جو اس کے مفادات کے منافی ہو۔ پاکستان کیلئے خوش آئند امر یہ ہے کہ دونوں فریق ہم سے خوش ہیں۔ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ مسلسل عمل ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی تائید معروف امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے بھی کی ہے۔ جریدے کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین سفارتکاری کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے بلکہ چند ہی روز بعد بات چیت کا ایک اور دور متوقع ہے کیونکہ علاقائی ممالک دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔
فریقین اگرچہ کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کیلئے پاکستانی قیادت کی تعریف کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مذاکرات وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مؤثر قیادت کے ذریعے ممکن ہوئے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی صدر مذاکرات کیلئے اسلام آباد کا ہی انتخاب کریں گے۔ البتہ امریکی صدر کے حالیہ بیان کے بعد ایک بار پھر جنگ کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ مؤقف کہ امریکی نیوی فوری طور پر ناکہ بندی کرے گی اور جو بھی جہازوں پر فائرنگ کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا‘ یہ عالمی امن کیلئے ایک نئی دھمکی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگوں کو تباہ کریں گے اور دیگر ممالک کو بھی اس ناکہ بندی میں شامل کریں گے‘ ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے۔ اس کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ عارضی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی کو جو ریلیف ملنا شروع ہوا تھا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو معمولی کمی آئی تھی‘ وہ دوبارہ ایک بڑے اضافے میں بدل سکتی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان ان کے اپنے اس دیرینہ مؤقف سے انحراف ہے جس میں وہ مسلسل عالمی تجارت کے تسلسل اور اس اہم گزرگاہ کو کھلا رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ اگر اس جارحانہ بیان کو عملی جامہ پہنایا گیا تو عالمی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ سنگین بحران کا شکار ہو جائے گی۔ ایک طرف مصالحت اور دوسری طرف عالمی تجارت کی اس شہ رگ کو مسدود کرنے کی دھمکی دینا سفارتی آداب اور منطق دونوں کے منافی ہے۔ اس سے قبل کہ جنگ کی یہ چنگاریاں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں عالمی قوتوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی امن دشمن کوششوں کا ساتھ دیں اور اس بحران کو ٹالنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved