پاکستان میں تعلیم کی صورتحال پر نگاہ ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ ہمارا اب تک کا سارا سفر بلند بانگ دعوؤں میں کٹ گیا ہے۔ مختلف حکومتوں نے تعلیمی پالیسیوں میں بہت سے دلفریب خواب دکھائے جن کی تعبیر آج تک نہ مل سکی۔ یوں لگتا ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک تعلیم کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔ ہر نئی حکومت نصاب میں تبدیلی کے نام پر بے معنی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتی ہے۔ لاکھوں روپے خر چ کر کے کانفرنسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے‘ جن میں حکومتی وزرا طویل تقریریں کرتے ہیں اور اپنی حکومت کے کارہائے نمایاں بیان کرتے ہیں‘ لیکن آخر میں نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات‘ زمینی حقا ئق میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ تبدیلی زبانی کلامی نعروں سے نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدامات سے آتی ہے۔ ان عملی اقدامات میں سب سے اہم تعلیم پر خرچ ہونیوالے حکومتی اخراجات ہیں۔
حال ہی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن نے اپنی رپورٹ Public Financing in Education 2025-26 جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں تعلیم پر حکومتی اخراجات کو تین زاویوں Equity‘ Adequacy اور Efficieny سے دیکھا گیا ہے۔ آئیے سب سے پہلے Adequacy کے حوالے سے تعلیم پرہونے والے اخراجات کو دیکھتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو دیکھیں تو علم ہوتا ہے کہ ہم پچھلے کئی برسوں سے ترقی کرنے کے بجائے سال بہ سال ڈھلوان کا سفر طے کر رہے ہیں۔ تعلیم پر کم سے کم کتنا خرچ کرنا چاہیے؟ ہم پاکستان میں تعلیم پر کتنا خرچ کر رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب جاننے سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ عالمی سطح پر تعلیم کی مد میں خرچ سے متعلق بین الاقوامی تنظیمیں کیا تجویز کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کی سفارش کے مطابق تعلیم پر کم از کم جی ڈی پی کا چار سے چھ فیصد خرچ کرنا چاہیے۔ اگرچہ بہت سے ممالک تعلیم پر اس سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم اس معیار پر کتنا پورا اترتے ہیں۔
پاکستان میں تعلیم کی سرکاری مالی معاونت کے سوال پر جب بھی غور کیا جائے تو ایک جانی پہچانی مگر پریشان کن تصویر سامنے آتی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مالی سال 2024-25ء کے ابتدائی نو ماہ میں تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 0.8فیصد خرچ کیا گیا‘ جو عالمی معیار سے بہت کم ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں اڑھا ئی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہوں‘ یہ سرمایہ کاری نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ترجیحات کے بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ حکومتیں بار بار یہ اعلان کرتی ہیں کہ تعلیم کیلئے مختص بجٹ میں اضافہ ہو رہا ہے مگر عملی صورتحال اس دعوے کی تائید نہیں کرتی۔ تعلیمی نظام کی مجموعی کیفیت بدستور تشویشناک ہے۔ یہ درست ہے کہ بجٹ کے اعداد و شمار میں اضافہ دکھائی دیتا ہے مگر اس اضافے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ مہنگائی‘ روپے کی قدر میں کمی اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ جیسے عوامل اس نام نہاد اضافے کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو تعلیمی اخراجات میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی حالیہ رپورٹ اس حوالے سے اہم اعداد و شمار اور تجزیہ فراہم کرتی ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تعلیم کی مالی معاونت کے بنیادی مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔ رپورٹ کے بغور مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ انکے استعمال اور تقسیم کے طریقۂ کار کا بھی ہے۔ اس کیساتھ ایک اور مسئلہ اخراجات کے سٹرکچر کا ہے۔ تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں میں صرف ہو جاتا ہے جبکہ ترقیاتی اور غیرتنخواہی اخراجات کیلئے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ سکول بنیادی سہولتوں‘ تدریسی مواد اور تعلیمی ماحول سے محروم رہ جاتے ہیں۔
تعلیمی اخراجات کا دوسرا اہم پہلو Efficiency کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو وسائل دستیاب ہیں کیا وہ مؤثر طریقے سے استعمال ہو رہے ہیں؟ بدقسمتی سے اس کا جواب اثبات میں نہیں۔ ترقیاتی بجٹ کا مکمل استعمال نہ ہونا ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ پیچیدہ دفتری طریقۂ کار‘ سست روی اور ادارہ جاتی کمزوریاں اس بات کا باعث بنتی ہیں کہ مختص فنڈز وقت پر خرچ ہی نہیں ہو پاتے۔ یوں مسئلہ صرف وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان کے ناقص انتظام کا بھی ہے۔ اسی طرح مالیاتی ڈھانچہ بھی Efficiency پر اثر نداز ہوتا ہے۔ وسائل کی تقسیم کا نظام پرانا اور غیرلچکدار ہے جبکہ صوبائی سطح پر شفاف اور باقاعدہ مالیاتی میکانزم کی کمی پائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وسائل کی تقسیم اکثر عارضی اور غیر منظم بنیادوں پر ہوتی ہے‘ جس سے منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور تعلیمی اصلاحات کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
تعلیمی اخراجات کا تیسر اہم پہلو Equity یعنی مساوات کا ہے‘ جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام شدید عدم مساوات کا شکار ہے۔ صوبوں‘ اضلاع اور دیہی و شہری علاقوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ اگرچہ بعض شعبوں میں بہتری کی کوششیں نظر آتی ہیں مگر مجموعی تصویر اب بھی غیر متوازن ہے۔ خصوصی تعلیم کیلئے مختص وسائل نہایت کم ہیں جبکہ صنفی اور علاقائی بنیادوں پر بجٹ سازی کا فقدان اس بات کو مشکل بنا دیتا ہے کہ وسائل واقعی ان طبقات تک پہنچ رہے ہیں جو سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ مزید یہ کہ بجٹ سازی اکثر ماضی کے اخراجات کی بنیاد پر کی جاتی ہے نہ کہ موجودہ ضروریات کے مطابق۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پہلے سے بہتر علاقوں کو مزید وسائل ملتے رہتے ہیں جبکہ پسماندہ علاقے بدستور نظر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ یوں مالیاتی پالیسی نادانستہ طور پر عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتی ہے۔ ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں تعلیم کی مالی معاونت کو صرف اعداد و شمار کے اضافے کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جامع اور سنجیدہ حکمت عملی اپنائی جائے۔ اس سلسلے چند اقدامات نا گزیر ہیں:
1: سب سے پہلے تعلیم پر اخراجات کو کم از کم چار فیصد جی ڈی پی تک بڑھانا ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر نہ رسائی میں اضافہ ممکن ہے اور نہ معیار میں بہتری۔ 2: اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ سٹرکچر میں تبدیلی ضروری ہے۔ انتظامی اصلاحات کے ذریعے ترقیاتی بجٹ کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے اور وسائل کے بروقت اجرا کو ممکن بنایا جائے۔ 3: مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر کے شفاف اور منصفانہ تقسیم کا نظام قائم کیا جائے۔ 4: سب سے بڑھ کر یہ کہ بجٹ سازی کو مساوات کے اصول پر استوار کیا جائے تاکہ وسائل واقعی ان طبقات تک پہنچیں جو سب سے زیادہ محروم ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی ستون ہوتی ہے مگر یہ ستون تبھی مضبوط ہو سکتا ہے جب اس کی بنیادیں ٹھوس ہوں۔ محض اعداد و شمار میں اضافہ کافی نہیں بلکہ وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
آخر میں میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جس نے تعلیمی اخراجات کے حوالے سے ایک تفصیلی اور معیاری رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے مندرجات جہاں طلبہ‘ اساتذہ اور سول سوسائٹی کے افراد کیلئے مفید ہیں وہیں ہمارے ملک کے پالیسی سازوں کیلئے بھی بہت اہم ہیں تاکہ وہ ان کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل مرتب کریں۔ اس سے پہلے بھی پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن نے کئی مفید رپورٹس جاری کی ہیں۔ ان رپورٹس کا مقصد زمینی حقائق کو سامنے لانا ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ تو مقتدر حلقوں نے کرنا ہے کہ ان اعداد و شمار کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں‘ ان کی روشنی میں اپنے اہدا ف کو کیسے متعین کرتے ہیں اور پھر ان اہداف کو حاصل کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved