تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     15-04-2026

خوشگوار زندگی اور اسلامی تعلیمات

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کو بطور دین پسند فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حوالے سے سورۃ المائدہ کی آیت: 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے لیے اسلام ہی کو (بطور) دین پسند کیا ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کو بھی واضح فرما دیا کہ قیامت کے دن جو دین اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا وہ فقط اسلام ہی ہوگا اور اس کے علاوہ کسی بھی راستے کو اللہ تبارک وتعالیٰ قبول نہیں فرمائیں گے۔ چنانچہ سورۂ آلِ عمران کی آیت: 85 میں ارشاد ہوا: ''اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا‘ اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا‘‘۔
اسلام چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا چنا ہوا دین ہے اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دین کو انسان کی فطرت اور ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ بہت سے لوگ دین کے حوالے سے مختلف قسم کے الجھائو کا شکار ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید دین کے راستے پر چلنا بہت مشکل ہے اور دینی زندگی اختیار کرنے والے کو مختلف طرح کی مشکلات اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دین میں بہت کشادگی‘ وسعت اور آسانیاں رکھی ہیں جن کو سمجھنے کیلئے ٹھنڈے دل سے غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر انسان فکر وتدبر کرے تو اس کے سامنے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی جملہ تمنائوں اور تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے دین میں خاصی گنجائش رکھی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دین کو فقط عبادت و ریاضت اور تجرد و ترکِ دنیا کے ساتھ نہیں جوڑا بلکہ اس طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ مسیحیوں کے اس گروہ کے طرزِ عمل کو رد کرتے ہیں جس نے رہبانیت کو اختیار کر لیا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ترکِ دنیا کے راستے پر چلنے والے اس گروہ کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ الحدید کی آیت: 27 میں ارشاد فرماتے ہیں : ''پھر اس کے بعد ہم نے اپنے اور رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو بعد میں بھیجا اور انہیں ہم نے انجیل دی‘ اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور مہربانی رکھ دی‘ اور ترکِ دنیا (رہبانیت) جو انہوں نے خود ایجاد کی‘ ہم نے وہ ان پر فرض نہیں کی تھی مگر انہوں نے رضائے الٰہی حاصل کرنے کیلئے ایسا کیا؛ پس اسے نباہ نہ سکے جیسے نباہنا چاہیے تھا‘ تو ہم نے انہیں جو اُن میں سے ایمان لائے ان کا اجر دے دیا‘ اور بہت سے تو ان میں بدکار ہی ہیں‘‘۔
اخروی کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیا میں کامیابی حاصل کرنا بھی ہر مسلمان کا حق ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں ایک ایسی دعا کا ذکر کیا ہے جس میں آخرت کی بھلائیوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھلائیوں کو بھی طلب کیا گیا ہے: اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 201 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حبیب حضور نبی کریمﷺ نے رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ پُراثر دعا مانگی اور اہلِ اسلام کو اس دعا کے مانگنے کی تلقین کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اخروی نجات کے ساتھ ساتھ دنیاوی فلاح وبہبود کے لیے کوشش کرنے کو کسی طور بھی غیر مستحسن قرار نہیں دیا گیا۔
انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سے جبلی تقاضے ودیعت کیے ہیں جن کی تکمیل کیلئے اسے کاروبار اور معاشی سرگرمیاں انجام دینا پڑتی ہیں؛ چنانچہ جب ہم کتاب وسنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سود اور ناجائز ذرائع آمدن کو تو حرام قراردیا لیکن کاروبار اور تجارت کو مکمل طور پر حلال قرار دیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں بہت سی ایسی ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنے کاروبار کو وسعت دی اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کی ترویج اور نشرو اشاعت کیلئے بھی اپنے مال کو دل کھول کر خرچ کیا۔ حضرت عثمان غنی‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سے مال و اسباب سے نواز رکھا تھا۔ ان اکابر صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کوششیں کرنے میں انسان کا کاروبار حائل نہیں ہوتا بلکہ کاروباری ترقی کے ذریعے انسان دین کی زیادہ خدمت کر سکتا ہے‘ تاہم انسان کو حرام ذرائع سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ہر انسان میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک اچھے جیون ساتھی کی خواہش بھی ودیعت کر رکھی ہے۔ بعض لوگ اس جبلی خواہش اور تقاضے کو زناکاری‘ بدکاری اور بے حیائی کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کرتے اور اس کو شخصی آزادی کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ خواہش اور منکرات کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے جبلی تقاضوں کو پورا کرنا کسی بھی طور مستحسن نہیں۔ اس سے معاشرے میں بگاڑ‘ انتشار‘ نفرت اور تشدد کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس کے مدمقابل اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہلِ اسلام کیلئے نکاح کے راستے کو درست اور جائز قرار دیا ہے۔ اگر کسی شخص کی جبلی خواہشات اور تقاضے ایک نکاح کے ساتھ پورے نہیں ہوتے تو اس کو چار شادیاں تک کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس کا مقصد بنیادی طور پر انسان کے جبلی تقاضوں کو جائز طریقے کے ساتھ پورا کرنا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے نشہ آور اشیا اور شراب کو حرام کیا ہے‘ اس لیے کہ ان سے عقل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جبکہ اس کے مدمقابل اہلِ اسلام کیلئے سبھی پاکیزہ مشروبات کو جائز اور حلال قرار دے کر انسان کی تشنگی کو دور کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اگر جوئے اور شراب کو حرام قرار دیا تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جوا اور شراب انسان کو اللہ کے ذکر سے دور کرتے اور ان کے درمیان دشمنی اور عداوت کو جنم دیتے ہیں۔ اللہ کے ذکر سے دور ہونا اور باہم دست و گریباں ہونا کسی بھی معاشرے کی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے؛ چنانچہ انسانوں کو ایسے راستوں پہ چلنے سے احتراز کرنا چاہیے اور ان راستوں کو اختیار کرنا چاہیے کہ جن پر چل کر انسان آسودگی‘ محبت اور اخوت کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔
اسلام انسان کے وقت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلام انسان کو جائز اور فائدہ مند کھیلوں سے منع کرتا ہے بلکہ ہم اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ اسلام میں انسان کو میدانی کھیل کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گھڑ سواری‘ نیزہ بازی‘ تیر اندازی‘ تیراکی اور دوڑ بھاگ میں کسی قسم کی کوئی ممانعت نہیں ہے بلکہ انسان اگر اپنے جسم کو چاق وچوبند رکھنے کیلئے ان کھیلوں کو کھیلتا ہے تو اس سے اس کی نفسیاتی‘ روحانی اور جسمانی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسلام کے تصورِ حیات میں کسی قسم کی کج روی اور تنگی نہیں ہے۔ اسلام کے بارے میں یہ تصورات کہ دینِ اسلام اختیار کرنے سے انسان کو تنگی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا فقط ایک وسوسہ ہے جس کے پس منظر میں غلط تخیلات‘ باطل تصورات‘ غلط لٹریچر اور بری صحبت کے نتیجے میں ذہن پر مرتب ہونے والے منفی اثرات ہیں۔ جب بھی انسان ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات پر غور کرتا ہے تو اس کو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اسلام ایک ایسے طرزِ زندگی کا نام ہے جس میں انسانوں کو گھٹن اور سختی کا راستہ دکھانے کے بجائے آسانی اور کشادگی کا راستہ دکھلایا گیا ہے۔ کوئی بھی انسان اگر ایک پاکیزہ‘ خوشگوار اور پُرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اس کو اسلامی تعلیمات پر اچھے طریقے سے عمل پیرا ہو جانا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے دنیا میں اچھی زندگی کے گزارنے کے بعد اخروی نجات بھی اس کا مقدر بن جائے گی۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved