تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     16-04-2026

ٹرمپ پاکستان آ رہے ہیں؟

خبر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہیں بلکہ اس مقصد کے لیے پاکستان آنے پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات ایک بار پھر پاکستان میں ہوں گے اور اگلے ایک دو دن میں شروع ہو سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر ذہن میں پہلا سوال یہی آتا ہے کہ آیا یہ مرحلہ نتیجہ خیز ثابت ہو گا؟ میری پیش گوئی یہ ہے کہ اگر ایران اور امریکہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں معاہدے کے خاصے قریب پہنچ چکے تھے تو عین ممکن ہے کہ اس بار معاہدہ طے پا جائے۔ معاملہ پھر وہی ہے کہ ایران کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کے سارے مطالبات امریکہ تسلیم کر لے گانہ ہی امریکہ کو اس خام خیالی میں رہنا چاہیے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات کی وجہ سے تہران نے سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا تھا اور گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کی یہی سب سے بڑی وجہ تھی‘ بصورت دیگر مذاکرات کا وہ مرحلہ بھی کامیاب ہو سکتا تھا۔ اسی تناظر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن سرنڈر کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش ناکام ہو گی۔ ممکن ہے ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر کچھ عرصہ کے لیے سمجھوتا کر لے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی پانچ سال تک معطل کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن امریکہ نے ایران کی یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔ غیر ملکی اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ ایران کو یورینیم کی افزودگی 20 سال تک معطل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ یہ امکان بھی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے غیر مشروط طور پر کھول دے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایران اپنے جنگی نقصانات کے ازالے کا تقاضا واپس لے لے لیکن دو تین چیزیں ایسی ہیں جن پر ایران کے لیے کمپرومائز کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ ان میں سب سے پہلا معاملہ ہے لبنان پر اسرائیلی حملوں کا روکا جانا ہے۔ اس حوالے سے بات چیت ہو تو رہی ہے لیکن نیتن یاہو کی وجہ سے اس بات چیت کی کامیابی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ دوسرا ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا کیونکہ حالیہ جنگ میں یہی میزائل ایران کے لیے سب سے بڑا اثاثہ ثابت ہوئے ہیں۔ ایران کے لیے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ اپنے ہاتھ کاٹ کے امریکہ کے حوالے کر دے اور اس کے بعد اسرائیل پورے مشرقِ وسطیٰ میں دندناتا پھرے۔
یہ حقیقت ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے والے فریق اپنی ساری شرطیں منوا کر نہیں اٹھتے بلکہ ان میں سے کچھ ہی فریقِ مخالف کے لیے قابلِ قبول ہوتی ہیں اور انہی پر اتفاقِ رائے کرنا پڑتا ہے یعنی فریقین کی شرائط بڑی لیکن مارجن محدود ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب معاملات بے حد پیچیدہ ہوں اور فریقین کے تقاضے ضرورت سے زیادہ بڑے ہوں تو پھر ایک نشست میں یا دو دنوں کے مذاکرات میں مسائل کا حل نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے سلسلے کو مکمل طور پر ختم کر کے یہاں سے نہیں گئے بلکہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم ایک بہت سادہ تجویز چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین آفر ہے‘ ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ایران اسے مانتا ہے یا نہیں۔ ان کے اس ایک جملے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو پیشکش کی گئی ہے اور اب اس پر جواب کا انتظار کیا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر آمادگی نے اس موہوم امید کو ٹھوس یقین میں بدل دیا ہے۔
اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا سے Might is right کے جنگلی قانون کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھالیکن 80 برسوں میں جنگل کے اس قانون کو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ اس کی ایک وجہ تو پانچ ممالک کو حاصل ویٹو کا اختیار ہے۔ اس اختیار کا مطلب اس کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ یہی پانچ اقوام یا ممالک دنیا کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے اور اگر انہیں کوئی بات یا کوئی قانون پسند نہیں آتا تو وہ بیک جنبش قلم اس کو مسترد کر سکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو مائٹ از رائٹ کی ایک نئی شکل دکھائی ہے۔ عالمی قوانین کو نہ ماننا‘ اقوام متحدہ کی کوئی حیثیت نہ دینا‘ عالمی عدالت کے فیصلے تسلیم نہ کرنا‘ نیٹو کو ختم کرنے کی باتیں‘گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش‘ کینیڈا کو امریکہ کا حصہ بنانے کی باتیں اور وینزویلا پر حملہ‘ ایسا طرزِ عمل اس سے پہلے شاید ہٹلر کے زمانے میں مشاہدے میں آیا تھا اور اس کے بعد اب۔ کیا ایسے طرزِ عمل کے بعد عالمی امن کے برقرار رہنے کی امید کی جا سکتی ہے؟
واپس مذاکرات کی طرف آتے ہیں۔ سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آئیں لیکن انہوں نے اسلام آباد آنے کے لیے ایک شرط بھی رکھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جو بات چیت چل رہی ہے اس میں بہت سے بین الاقوامی معاہدے بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی ماہرین ان معاہدوں کو سامنے رکھ کر معاہدوں کا ڈرافٹ تیار کرتے ہیں‘ اور ایسے بہت سے ماہرین امریکہ‘ ایران اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی طرف سے پاکستان میں موجود ہیں۔ حامد میر صاحب کے اس بیان کی روشنی میں کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ایران اور امریکہ اس بار ایک جامع معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ جیسا کہ پہلے عرض کیا‘ مجھے اس کی امید ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ بیان میرے اور حامد میر کے تجزیے کی توثیق کرتا نظر آتا ہے کہ ٹرمپ چاہتے ہیں ایران سے چھوٹی نہیں جامع ڈیل ہو۔
یہ حقیقت ہے کہ ایران کی جنگ نے جنگوں کو نئے معنی دیے ہیں۔ اب کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک پر حملے سے قبل شاید سو بار سوچے گا۔ لیکن کیا اب دنیا سے جنگوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا؟ میرا خیال ہے کہ نہیں‘ جب تک مساوات پر مبنی عالمی فیصلے نہیں ہوں گے اور جب تک 'میں نہ مانوں‘ والا رویہ تبدیل نہیں ہو گا‘ جنگوں کے خدشات باقی رہیں گے۔ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں اللہ کرے کہ معاہدہ ہو جائے تاکہ جنگ کی وجہ سے عالمی برادری کو جن خطرات اور خدشات کا سامنا ہے‘ وہ دور ہو جائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوچنے کی ضرورت پہلے کی نسبت بڑھ چکی ہے کہ کبھی دنیا کو پائیدار امن والی جگہ بنایا جا سکے گا؟ یہاں مساوات قائم ہو سکے گی؟ یہاں میرٹ پر فیصلے ہو سکیں گے؟
گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔ ایسا ہو جائے تو بہت اچھی بات ہو گی‘ لیکن میرے خیال میں اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ایران اور امریکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں کتنی لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved