اسلام آباد مذاکرات کے لیے ہفتہ 11 اپریل کو آنے والے ایرانی وفد کا حجم اور اس کی ساخت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران مذاکرات کو منطقی نتیجے پر پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے اور وہ مکمل اختیار اور سنجیدگی کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے ارادے سے آئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ 80 کے لگ بھگ اراکین پر مشتمل اس وفد میں 26 سے زائد معاشی‘ سیاسی اور سکیورٹی امور کے ماہرین تھے۔ اتنے بڑے اور ماہرین پر مشتمل وفد سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ مذاکرات ابتدائی مرحلے پر محض امکانات جانچنے یا فضا کو پرکھنے کے لیے نہیں بلکہ کسی ممکنہ معاہدے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین اس حد تک پیش رفت ہو چکی ہو جس کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جا رہا۔ خاص طور پر حالیہ ہفتوں میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے پس پردہ رابطوں کے دوران ٹرمپ کے لہجے اور رویے میں 180 ڈگری تبدیلی اور براہِ راست مذاکرات سے یہ بات واضح ہے کہ بہت سے معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے اور اسلام آباد میں دونوں ممالک کے مذاکرات معنی خیز ہوئے۔ تاہم اس کے باوجود جب تک باقاعدہ اعلامیہ سامنے نہ آ جائے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ البتہ ایک بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان نے خود کو منوانے کیلئے ایک ناقابلِ یقین کام کیا ہے۔ یہ اسکے عروج کا نقطہ آغاز ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم سعودی عرب اور قطر کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں جدہ ایئر پورٹ پر ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ نے تہران کا دورہ کیا‘ جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان کا استقبال کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کا دورہ مصالحتی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں وہ پاکستانی وفد کی میزبانی کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں (اگلے بدھ کو شاید) اسلام آباد میں متوقع ہے۔ سفارتی رابطوں میں تیزی اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے ہنگامی دوروں سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکہ میں برف کافی حد تک پگھل چکی ہے‘ فریقین بیشتر معاملات پر اتفاقِ رائے کر چکے ہیں اور مستقل امن معاہدہ اب چند ہاتھ کی دوری پر رہ گیا ہے۔ بھلے فریقین میں کوئی پائیدار معاہدہ نہ ہو‘ تب بھی امریکہ اور ایران جیسے حریفوں کو اسلام آباد میں اکٹھا کرنا پاکستان کی بڑی کامیابی اور ایک تاریخی سفارتی فتح ہے۔
پاکستان کی بیورو کریسی‘ جسے ریاست کا اہم ترین پرزہ کہا جاتا ہے‘ آج ایک ایسے تضاد سے گھری ہوئی ہے جہاں وفاداری اور مفاد آمنے سامنے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 22 ہزار سے زائد اعلیٰ سرکاری افسران دہری شہریت رکھتے ہیں۔ اب یہ تعداد مزید بڑھ چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دہری شہریت کیوں ہے‘ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا؟ ایک طرف آفیسر اس ملک کے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتا ہے اور دوسری طرف وہی آفیسرامریکہ یا یورپی ممالک کا پاسپورٹ رکھتا ہے۔ اگر ہم ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تو گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے افسران کی آمدن ہی اتنی نہیں کہ ان کے بچے بیرونِ ملک مہنگی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر سکیں‘ ان کے خاندان امریکہ یا یورپ میں سکونت اختیار کر سکیں۔ مگر ان کی جائیدادیں پاکستان میں بھی ہیں اور باہر بھی‘ تو پھر سیدھا سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ کیا یہ سب کچھ تنخواہ سے ممکن ہے؟ یا کمیشن‘ کرپشن‘ اختیارات کے ناجائز استعمال اور اندرونی ملی بھگت کا نتیجہ ہے؟ تشویشناک پہلو یہ نہیں کہ افسران نے دہری شہریت لے رکھی ہے‘ اصل خطرہ یہ ہے کہ حساس اداروں میں بھی اس قسم کے افسران تعینات ہو جاتے ہیں‘ یہی قومی مستقبل اور وسائل کی تقسیم کے فیصلے کرتے ہیں۔ یہ صرف مفاد کا ٹکراؤ نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کا سوال ہے‘ لہٰذا ضروری ہے کہ سروس رولز میں ترامیم کر کے دہری شہریت کے حامل افسران کو ملازمت سے ڈِسمس کیا جائے اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کی جائیں۔
اب کچھ ذکر سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کا جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوا۔ مقام استعجاب ہے کہ ان کے انتقال کی خبر کو میڈیا نے بھی نظرانداز کیا اور حکومتی سطح پر بھی تعزیت کا کوئی پیغام نظر نہیں آیا۔ قاضی محمد فاروق سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے مگر حیران کن طور پر اُن کے انتقال پر سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ نے بھی خاموشی اختیار کیے رکھی۔18 اگست 2008ء کو جب پرویز مشرف شدید دبائو کے سبب صدارتی منصب سے مستعفی ہو گئے تو آصف علی زرداری پیپلز پارٹی حکومت کے مضبوط صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ اسی دوران بعض بااثر شخصیات نے معروف ماہر قانون ڈاکٹر فاروق حسن کی خدمات حاصل کیں اور ان کے ذریعے زرداری صاحب کی صحت کے حوالے سے اہم دستاویزات حاصل کر کے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرا یں جن کے پیش نظر چیف الیکشن کمشنر سے استدعا کی گئی کہ انہیں صدارتی انتخاب کیلئے موزوں قرار نہ دیا جائے۔ میں نے بطور سیکرٹری الیکشن کمیشن یہ دستاویزات چیف الیکشن کمشنر کو اپنے نوٹ کے ہمراہ پیش کر دیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے سرسری معائنہ کرنے کے بعد مجھے بریف کیا کہ اگر کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران ان کے مدمقابل امیدواروں کے وکلا نے یہی دستاویزات پیش کیں تو وہ آئین و قانون کے مطابق اس کو ریکارڈ کا حصہ بنا کر فیصلہ لکھیں گے۔ اگر مخالفین نے اعتراض نہ کیا تو ان دستاویزات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ مسلم لیگ (ق) کے امیدوار مشاہد حسین سید اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سعید الزمان صدیقی تھے۔ حکومت کو بھی کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہو جانے کا خوف تھا لہٰذا مخدوم امین فہیم نے کورنگ امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا رکھے تھے۔ پنجاب کی ایک اہم سیاسی شخصیت نے بڑی رازداری سے ڈاکٹر فاروق کو میدان میں اتارا تھا مگر صدارتی کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال سے دو روز پیشتر ڈاکٹر فاروق حسن اس بنا پر لاتعلق ہو گئے کہ اہم سیاسی شخصیت نے ان کی فیس دینے سے انکار کردیا تھا لہٰذا ان کا وکالت نامہ واپس لے لیا گیا۔ بعد ازاں اُس سیاسی شخصیت سے آصف علی زرداری کی مفاہمت ہوگئی اور ان کے کاغذاتِ نامزدگی پر کسی نے اعتراض نہیں کیا یوں چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق کو ان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کرنا پڑے۔ ڈاکٹر فاروق حسن نے بعد ازاں مجھے بتایا کہ جس شخصیت نے بین الاقوامی میڈیکل رپورٹس حاصل کر کے زرداری صاحب کو نااہل قرار دلوانا تھا وہ اُس وقت کے مقتدرہ حلقوں کے دباؤ میں آ گئی تھی کیونکہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کو صدارتی منصب پر لانا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ اگر میڈیکل رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے زرداری صاحب کو صدارتی الیکشن کے لیے نااہل قرار دے دیا جاتا تو آئین کے تحت اس فیصلے کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا اور لامحالہ مخدوم امین فہیم ہی حکومت کے صدارتی امیدوار ہوتے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved