وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ دنوں کراچی میں بزنس مینوں سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان سے پچھلے تین چار سالوں میں 100 ارب ڈالرز منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لندن میں کیسے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے۔ وٹس ایپ پر ایک پائونڈ کے نوٹ پر ایک نمبر لکھا ملے تو سمجھ لیں کہ پیسہ ٹرانسفر ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دو تین بندوں کو اٹھا لیا جائے تو سب پتا چل جائے گا۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ جن تین‘ چار سالوں میں سو ارب ڈالر باہر جانے کی بات کر رہے‘ یہ وہ دور ہے جب عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بنے تھے اور پنجاب میں وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے کمال سمجھداری سے اپنی حکومت خود توڑ دی تھی اور محسن نقوی پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ بن گئے تھے۔ بعد ازاں الیکشن ہوئے تو شہباز شریف دوبارہ وزیراعظم اور محسن نقوی وزیرداخلہ بنا دیے گئے۔ یوں ان تین‘ چار سالوں میں وہ اقتدار میں رہے اور دو سال سے زائد عرصے سے وزیر داخلہ ہیں‘ جن کے ماتحت اداروں کا کام منی لانڈرنگ کو روکنا ہے۔ اب وہ خود بتا رہے کہ ایک سو ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو چکی۔ اندازہ کریں کہ اس ملک میں ایک سو ارب ڈالرز موجود تھا‘ جو بقول وزیر داخلہ ہنڈی یا منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونِ ملک بھجوا دیا گیا۔ ایک طرف اپنے ملک کا ایک سو ارب ڈالر باہر چلا گیا اور دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ہمارا ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کرو‘ جو چھ فیصد سود پر اس نے پاکستان کے پاس رکھوایا ہوا تھا۔ اب ہمارے ہاتھ پائوں پھول گئے کہ کہاں سے لائیں ڈالر کیونکہ اگر ادائیگی کر دی تو فارن ریزرو پر بہت برا اثر پڑے گا اور ممکن ہے ڈالر کا ریٹ اوپر چلا جائے۔ لہٰذا ہنگامی طور پر سعودی عرب کے پاس پہنچے اور پھر قطر سے بات کی اور تقریباً چار سے چھ فیصد سود پر نیا قرضہ لے آئے۔
ایک اور مزے کی بات سنیں۔ ایک عالمی معیشت دان نے چند روز قبل ایک ٹویٹ کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے جو ایران اور امریکہ میں سیز فائر ہوا ہے‘ اس سے دنیا بھر کی معیشتوں کو تین ٹریلن (تین ہزار ارب ڈالر) کا فائدہ ہوا ہے۔ یعنی پاکستان کی وجہ سے دنیا کو تین ہزار ارب ڈالر کا فائدہ ہوا مگر وہ خود تین ارب ڈالر ادھار مانگتا پھر رہا ہے۔ دنیا پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ہزاروں ارب ڈالر کما رہی‘ سب کا کاروبار چل پڑا ہے اور ہم اس پر بھی نہیں رکے اور اپنے خرچے پر سب کے مذاکرات بھی کرا رہے ہیں اور دیگر ملکوں کے دورے بھی کر رہے تاکہ سب کو راضی کیا جائے اور جنگ مستقل طور پر بند ہو‘ جو بہت اچھی بات ہے کہ جتنا دنیا کا فائدہ ہے‘ اس سے زیادہ پاکستان کا فائدہ ہے۔ تاہم مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ہم اس وقت کس مشکل میں ہیں اور بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر میں پہلی دفعہ پاکستان کا مثبت تشخص آسمان کو چھو رہا ہے اور پوری دنیا کے عوام‘ ان کے لیڈر اور سب سے بڑھ کر دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھ رہا ہے۔ ہمیں یقین نہیں آ رہا کہ وہ ممالک اور انکا میڈیا جو کبھی روزانہ ہمیں بدنام کرنے کے درپے رہتا تھا‘ اب ہمیں دنیا میں امن کا سفیر قرار دے رہا ہے۔
اس جنگ کے دوران ہی خبر ملی کہ یو اے ای ناراض ہو گیا ہے لہٰذا اس نے پیسے واپس مانگے ہیں۔ وہی عرب امارات جہاں پاکستانیوں نے دس ارب ڈالر کی جائیدادیں خرید رکھی ہیں اور زیادہ تر ڈالر پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے باہر گئے۔ کچھ برس قبل ایف آئی اے نے تحقیقات بھی شروع کی تھیں لیکن اس فہرست میں سول ملٹری افسران‘ سیاستدانوں‘ اینکرز‘ میڈیا ہائوسز اور کاروباری حضرات کی جائیدادوں کے نام پڑھ کر فائل بند کر دی۔ جہاں ملک کے صدر کا محل ہو‘ وزیر خارجہ کے بچوں کا بزنس ہو اور کچھ اہم وزیر وہاں سروسز دیتے رہے ہوں‘ وہاں آپ کیا کارروائی کر سکتے ہیں۔ اور تو اور ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی بھی دبئی میں ایک امریکی ہسپتال میں ٹاپ سکیورٹی جاب کرتے رہے اور پاکستان واپسی پر ایک سابق سینیٹر کی ہائوسنگ سوسائٹی کے ایڈوائزر لگ گئے۔ تنخواہ یقینا لاکھوں میں تھی۔ وہ سینیٹر جب پیپلز پارٹی دورِ حکومت میں وفاقی وزیر بنا تو ایک دوست کے بینک میں حکومت کے پچاس کروڑ روپے ڈپازٹ رکھوائے مگر وہ پیسہ ڈوب گیا۔ اس پر نیب کا کیس بھی بنا۔ تیرہ برس گزر چکے ہیں‘ کسی نے دوبارہ نیب سے نہیں سنا کہ اس پچاس کروڑ سکینڈل کا کیا بنا؟ ان حالات میں وزیر داخلہ کا یہ انکشاف کیسا لگتا ہے کہ ملک سے تین‘ چار سالوں میں ایک سو ارب ڈالر باہر بھیج دیے گئے۔
آپ کو یاد ہو گا کہ یہیں یہ بڑی خبر بریک کی تھی کہ اسحاق ڈار 2014ء میں وزیر خزانہ کے طور پر ایک سمری کابینہ میں لے کر گئے تھے جس میں انکشاف کیا گیا کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالر پڑے ہیں۔ یہ سمری ایف بی آر نے تیار کی تھی (میرے پاس آج بھی وہ سمری موجود ہے)۔ اس سمری میں تمام ڈیٹا اور سورسز بتائے گئے تھے کہ پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالر سوئس بینکوں میں موجود ہیں۔ اس پر نواز شریف کابینہ سے اجازت لی گئی کہ ہمیں سوئس حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اجازت دیں‘ جس کے تحت سوئس بینک اُن پاکستانیوں کا سارا ڈیٹا فراہم کریں گے اور اگر اکائونٹ ہولڈرز سورسز نہ بتا سکے تو یہ پیسہ پاکستان کو ٹرانسفر ہو جائے گا۔ پاکستان ان لوگوں کو نوٹس دے کر خود بھی انکوائری کر سکتا تھا اور اگر مطمئن نہ ہو تو اکائونٹ میں پڑے ڈالرز پاکستان کو مل سکتے تھے۔ کابینہ نے اجازت دی‘ ایک وفد سوئٹزرلینڈ بھیجا گیا جس کا سربراہ ایف بی آر کے ایک زبردست افسر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد کو بنایا گیا۔ طارق باجوہ اس وقت چیئرمین ایف بی آر تھے۔ وہاں جن سوئس حکام سے ملاقات ہوئی ان کے انچار ج نے بتایا کہ اسے پاکستان سے بہت محبت ہے کہ وہاں سوئس سفارتخانے میں اس نے بڑا عرصہ کام کیا ہے۔ اس کا بیٹا وہیں پیدا ہوا‘ لہٰذا وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم تیار ہیں‘ آپ ایم او یو لائیں‘ ہم دستخط کر دیتے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد ریٹائر ہو رہا ہے‘ اس لیے اس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ کام کرا لیں۔ ڈاکٹر اشفاق احمد واپس آئے تو اُن دنوں اسلام آباد میں عمران خان کا دھرنا شروع ہو چکا تھا۔ نواز شریف حکومت کو پیپلز پارٹی کی ضرورت پڑ گئی اور یوں یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ مبینہ طور پر پی پی پی کے بڑوں کے ڈالرز وہاں پڑے تھے‘ جن کی ریکوری کیلئے 1998ء میں بھی نواز شریف حکومت نے ایک کوشش کی تھی۔ بعد میں جسٹس افتخار چودھری بھی گیلانی حکومت سے سوئس حکومت کو خط لکھوا کر کیس کھلوانا چاہتے تھے لیکن صدر زرداری نہ مانے اور یوسف رضا گیلانی کو گھر جانا پڑا۔ شنید ہے کہ پیپلز پارٹی کے حکومت کے ساتھ تعاون کی یہی شرط رکھی گئی کہ سوئس معاہدہ ابھی سائن نہ کریں۔ الٹا ڈاکٹر اشفاق احمد کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی کہ تم نے ایم او یو پر رضامندی کیوں ظاہر کی۔ پھر وہ دو سو ارب ڈالر‘ جسے اس قوم نے مذاق بنا لیا ہے‘ جن کے اکائونٹس میں وہ پیسہ تھا‘ انہیں وقت مل گیا کہ یہ سارا پیسہ ادھر ادھر کر لیں۔ اب وزیر داخلہ کے سو ارب ڈالر والے بیان سے یاد آیا کہ پہلے اسحاق ڈار اور پھر عمران خان نے دو سو ارب ڈالر ملک میں واپس لانے تھے۔ یہ الگ کہانی ہے کہ عمران خان دور میں ان دو سو ارب ڈالر کا کیا بنا۔ مطلب جس ملک کے اپنے تین سو ارب ڈالر باہر پڑے ہیں‘ وہ متحدہ عرب امارت کے تین ارب ڈالر واپس کرنے کیلئے سعودی عرب سے قرض مانگ رہا ہے۔ ایسے ہیں ہم اور ہمارا پاکستان۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved