تحریر : بابر اعوان تاریخ اشاعت     17-04-2026

پوسٹ مذاکرات کے حالات

ہمیں میں نہ مانوں کبھی اچھا نہیں لگا لیکن ایک بات ایسی ہے جو میں نہ مانوں کے قابل تھی‘ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ یہی کہ امریکہ بہادر کا صدر چاہے کوئی بھی ہو وہ اسرائیل کے مفادات کے خلاف نہیں جا سکتا۔ یا یوں کہہ لیں کہ امریکہ کسی بھی مسلم ملک کو اسرائیل کے مقابلے پر ترجیح کیا‘ برابری کی لفٹ بھی نہیں کروائے گا۔ شہرِ اقتدار میں جب بھی بیرونِ ملک سے مہمان آئے نااہل حکمرا ن اہلِ وطن کے ساتھ ''ہنگر گیم‘‘ کھیلنا نہیں بھولتے۔ سیدھی بات ہے جب پورا دارالخلافہ ''کنٹینرستان‘‘ میں تبدیل کر دیا جائے۔ ہر سیکٹر کے چوک میں‘ ہر گلی کے نکڑ پہ ناکہ لگا ہو۔ میلوں لمبی ٹریفک لائنیں لگا کر سرکاری اہلکار وٹس اَیپ پر کھیل رہے ہوں۔ پھر ٹہلتے ٹہلتے گاڑی کے اندر فیملیوں کو جھانک کر پوچھتے ہوں کہ کہاں جانا ہے؟ ہر ناکے پر موٹر سائیکلوں کا طومار اکٹھا کر کے ایڈوانس عیدالاضحی کی مبارک بادی وصولنا نہیں بھولتے۔ ایسے میں سبزی‘ پھل‘ دودھ جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ دارالخلافہ میں داخل کہاں سے ہوں گی؟ مختصراً یہ کہ بلا خوف و تردید اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ اور روڈ کنٹرول کے علاوہ باقی ہر کام بڑی محنت سے کیا جاتا ہے۔ امریکہ ایران ڈائیلاگ کے دوران جڑواں شہروں کو لاک ڈاؤن کر کے مسلسل پانچ روز تک بند رکھا گیا۔ امریکہ سے آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ اب دوبارہ دارالحکومت کو بند کرنے والے حرکت میں آئیں گے۔
ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے کچھ افراد کی توقعات ہیں کہ یہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہم نے امریکہ اسرائیل حقیقی گٹھ جوڑ پر ایک تبصرہ اوپر کر دیا۔ دوسرا یہ ہے کہ امریکہ کے باخبر صحافیوں نے صدر ٹرمپ کے بیٹے کے ایک بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات پبلک کی ہیں۔ اس حوالے سے شائع شدہ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز پر بیان بازی‘ نیویارک کی سٹاک مارکیٹ وال سٹریٹ کو اِن سائیڈ ٹریڈنگ کے لیے استعمال کرکے مبینہ طور پر دو سو ملین ڈالر ایک جھٹکے میں بنائے گئے۔ برسبیلِ تذکرہ یہ کہنا برمحل ہے کہ دنیا کا جو حکمران ڈیلر‘ ٹریڈر یا انویسٹر ہو گا وہ اپنی حکومتی حیثیت کو خاندانی سلطنت سمجھ کر ذاتی بزنس ایمپائر میں سرکاری وسائل جھونکے گا۔ ایسے حکمران کے لیے دھونس‘ فراڈ‘ منی لانڈرنگ‘ کِک بیکس‘ کمیشن اور رشوت خوری سب جائز ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی روشن تاریخ کے ایک درخشاں باب سے ہمیں جو مثال ملتی ہے اس سے غیرمسلم تو کجا مسلم حکمران اشرافیہ بھی سبق سیکھنے سے کتراتی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مدینہ طیبہ میں بڑا کاروبار تھا۔ آپؓ جونہی خلیفہ بنے سیدھے اپنے مرکزِ کاروبار پر پہنچے اور اس پہ تالے لگا دیے۔ مدینہ کے باسیوں کے سوال پر کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب تھا کہ جسے کاروبارِ سلطنت سنبھالنے کی ذمہ داری پر لگایا جائے وہ ذاتی کاروبار نہیں کر سکتا‘ ذاتی کاروبار کی وجہ سے وہ کاروبارِ سلطنت سے انصاف نہیں کر سکے گا۔ اسی تصور کو ماڈرن نیشن سٹیٹ اور ویلفیئر سٹیٹس میں Conflict of Interest کہتے ہیں۔ یہ اصولِ قانون لاگو کرنے کے لیے دنیا کے تمام مہذب ملکوں میں قوانین اور ضابطے موجود ہیں۔
ان دنوں امریکہ میں کسی اور مسئلے پر اتنا شور نہیں جتنا ایران پر امریکہ اسرائیل حملے کے نتیجے میں عام آدمی کی معیشت اجاڑنے اور جنگ سے مقتدر اشرافیہ کے کاروبار میں جیٹ سپیڈ اضافے پر شور ہے۔ یہ بحث ٹرمپ کے بڑے حامیوں کی کافی تعداد‘ ٹکر کارلسن سمیت مخالف دھڑے کر رہے ہیں۔ یہ چھپے حقائق کھول کر وہ ڈٹ کر ٹرمپیانہ طرزِحکمرانی کے بخیے ادھیڑ رہے ہیں۔ پوسٹ مذاکرات کے حالات کے کچھ علیحدہ منظر نامے یوں ہیں:
پوسٹ مذاکرات کا پہلا منظر نامہ: چلیے اپنے گھر سے شروع کرتے ہیں۔ پاکستان کو نام نہاد ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے تین سال گزر چکے‘ اب چوتھا سال ہے‘ جس میں ترقی کی اڑانیں مزید اونچی ہو گئیں۔ شام سات بجے بجلی بند‘ آٹھ بجے کاروبار بند‘ نو بجے گیس بند‘ پھر بجلی بند‘ دس بجے شادی ہال بند۔ ہر روز صبح دوپہر شام مرحومہ اسپرو کی طرح تین وقت ہر شہر‘ ہر روڈ کی آرٹری پر گھنٹوں کے ناکے دیکھ کر عوام گھروں میں بند۔ ایک فکاہیہ شاعر نے خوب کہا:
شکاگو میں دکانیں ہیں وہ سارا جھوٹ ہی نکلا
تیری اونچی اڑانیں ہیں وہ سارا جھوٹ ہی نکلا
یہ سوال ہر شخص پوچھتا ہے کہ ہائبرڈ نظام بین الاقوامی اور سفارتی فتوحات کے بعد اب مہنگائی کے عفریت کو کب فتح کرے گا؟ ایک ایک ملک میں دس دس لش پش دوروں کا سب سے بڑا نتیجہ اور میزبانی یہ ہے کہ ہمیں یو اے ای کا قرضہ واپس کرنے کے لیے سعودی عرب اور قطر سے مزید قرضہ ملے گا۔ یہ قرضہ عام آدمی پر مزید بوجھ ڈال کر اسے جبری مشقت کے بیگار کیمپ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ حق بات یہ ہے کہ ٹرمپ امن بورڈ کی ممبرشپ فیس میں سے پچاس ہزار ڈالر کا جرمانہ ادا کرکے عافیہ صدیقی کو رہا کروا لیا جائے۔ ویسے بھی پنجاب ایئر لائن کا پہلا جیٹ طیارہ آپریشنل ہے۔ جس طرح وطن سے بھاگنے والے نامزد ملزموں کو سپیشل جہاز ملتے آئے ہیں‘ اسی طرح شہباز شریف ٹرمپ پر نوبیل پرائز احسان کے جواب میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی مانگنے کی جسارت کر دکھائیں۔
پوسٹ مذاکرات کا دوسرا منظر نامہ: جو میگا سائز کی اکانومی امریکہ کی ہے اسے درپیش خدشات اکانومی سے بھی بڑے ہیں۔ ہنگری میں 16 سال سے امریکی حمایت کی وجہ سے قابض وزیراعظم وِکٹر اوربن کو نئے الیکشن میں نئے اپوزیشن لیڈر Peter Magyar نے منہ کے بل گرا دیا۔ ہنگری الیکشن میں امریکہ کے وائس پریزیڈنٹ جے ڈی وینس نے کھلی مداخلت کی تھی۔ ہنگری کے جمہوری نازی کہلانے والے سابق وزیراعظم کے حق میں جے ڈی وینس نے ہنگری پہنچ کر جلسہ کیا تھا‘ وہ بھی پاکستان آنے سے صرف تین دن پہلے۔
شہرِ اقتدار میں اکثر سفیروں سے آمنا سامنا رہتا ہے۔ پورا یورپ اس بات سے خوفزدہ ہے کہ کہیں امریکہ یہ جنگ نپولین وار‘ ورلڈ وار وَن اور دوسری عالمی جنگ کی طرح یورپ کی زمینوں تک نہ کھینچ لائے۔ امریکہ کو ایران سے مذاکرات کرکے اسے فتح قرار دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ غیر سرکاری عرب اور انگلش میڈیا کے بڑے نام پوسٹ مذاکرات حالات کو اسی سٹینڈ پوائنٹ سے دیکھ رہے ہیں۔ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا مطلب پورے خلیج کو نیوکلیئر ڈسٹ میں ڈبونا ہے۔ چین کی ایک تہائی سے زیادہ انرجی کو نذرِ آتش کرنا اور روس کی انرجی کے بحری راستے بند کرنا بھی۔ یورپ کی 65 فیصد انرجی کی ضروریات روس پوری کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پرشیئن گلف میں جس کمبل کو لاوارث سمجھ کر اٹھانے کے لیے چھلانگ لگائی تھی‘ وہ کمبل نہیں ریچھ نکلا اور حالات اب اس کے جپھے میں ہیں۔
میر تقی میر یاد آ گئے:
ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے
بو گئی کچھ دماغ میں گل کے
جائے روغن دیا کرے ہے عشق
خونِ بلبل چراغ میں گل کے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved