یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب شادی کی تمام رسومات کی ادائیگی میں اخلاقی اقدار اور معاشرتی روایات کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھا۔ خاص طور پر ہمارے دیہی علاقوں میں ان رسوم و رواج کی پاسداری قدرے سخت تھی۔ رشتہ طے کرتے وقت لڑکی کی شکل و صورت کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کی ملاقات کا کوئی تصور نہ تھا کیونکہ اسے اخلاقی اعتبار سے معیوب سمجھا جاتا تھا۔ رشتہ طے کرنے کیلئے لڑکے کے والدین لڑکی والوں کے گھر آتے اور ہاں کی صورت میں لڑکی کو کچھ رقم بطور سلامی پیش کی جاتی جس کے بعد دونوں خاندانوں کی باہمی رضا مندی سے باقاعدہ منگنی کی رسم کیلئے وقت طے کر لیا جاتا۔ منگنی کے بعد شادی کے دن کا تعین ہو جاتا تو رخصتی سے چند روز قبل لڑکی مایوں بیٹھ جاتی جس سے اس کی نقل و حرکت گھر کی چار دیواری تک محدود ہو جاتی تاکہ اسے اہلِ خانہ کے علاوہ نا محرم لوگ نہ دیکھ سکیں۔ اس کی قریبی سہیلیاں اور گاؤں کی دیگر خواتین سر شام ڈھولک پر شادی بیاہ کے گیت گا کر گھر کی رونقیں دوبالا کر دیتیں۔ شادی والے روز بناؤ سنگھار کے بعد دلہن اپنے والدین کے گھر جس کمرے میں موجود ہوتی‘ وہاں تک رسائی صرف قریبی رشتے دار خواتین کو ہی ہوتی۔ صرف نکاح کے وقت نکاح خواں کے ساتھ دلہن کا باپ یا بھائی اس کی اجازت طلب کرنے اس کمرے میں داخل ہوتے اور چند لمحات پر مبنی اس رسمی کارروائی کے بعد واپس چلے جاتے۔ اسی طرح شادی میں شرکت کرنے والے تمام خواتین و حضرات کے لیے قیام و طعام کا الگ الگ انتظام کیا جاتا۔ دلہن کی رخصتی کیلئے ڈولی کو خاص طور پر سجایا جاتا۔ اگر دلہے کا گھر اسی گاؤں میں ہوتا تو دلہن کو ڈولی بٹھا کر چار افراد اپنے کندھوں پر اٹھائے اس کے سسرال تک پہنچا آتے۔ دور سے آئی بارات کی صورت میں دلہن کو گھر سے ڈولی میں بٹھا کر باہر گاڑی تک لایا جاتا جس میں سوار ہو کر وہ دلہے کے ساتھ اجنبی دیس روانہ ہو جاتی جہاں اسے ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوتا۔
یوں ان تمام رسومات کی پابندی میں مایوں سے لے کر رخصتی تک دلہن پر کسی غیر کی نظر پڑنا ممکن نہیں تھا۔ وہ شرم و حیا کی چادر اوڑھ کر گھونگھٹ کی اوٹ میں دلہا کے گھر پہنچ جاتی۔ اس دوران دلہن شرمائی نظروں سے اپنے سسرال والوں کو دیکھتی اور نگاہیں جھکا لیتی۔ علاوہ ازیں رخصتی کے وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملتے۔ جیسے ہی 'کہار‘ ڈولی کو کندھا دینے کیلئے آگے بڑھتے تو دلہن اپنے والدین‘ بہن بھائیوں اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ لپٹ کر رونے لگتی کیونکہ اب وہ گھر اس کا نہیں رہا تھا۔ اسی گھر میں اب کے بعد وہ مہمان بن کر آیا کرے گی جہاں اس نے پیدائش سے لے کر جوانی تک کا سارا وقت گزارا اور جس کے در و دیوار کے ساتھ اس کا قلب و روح کا گہرا تعلق استوار تھا۔ اس جذباتی ماحول میں تقریباً ہر آنکھ اشکبار ہو جاتی کیونکہ وہاں موجود ہر شخص کو اپنی بہن یا بیٹی کی رخصتی کے لمحات یاد آنے لگتے۔
پھر شادی ہالز بن گئے اور کئی برسوں تک ان میں خواتین اور مردوں کیلئے الگ انتظام کیا جاتا رہا۔ یا تو دو علیحدہ علیحدہ ہال ہوتے یا ایک بڑے ہال کے درمیان میں پردے کا بندوست کر دیا جاتا۔ تقریباً تمام شادی ہالز میں دلہن کیلئے ایک الگ کمرہ ہوتا جس میں پارلر سے تیار ہو کر دلہن کو بٹھایا جاتا اور بارات آنے کے بعد پوری شان و شوکت سے اسے خواتین والے ہال میں موجود سٹیج تک لایا جاتا جسے خاص طور پر تیار کرایا جاتا۔ نکاح کی رسم ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کیلئے دلہے کو بھی اس طرف لا کر دلہن کے ساتھ بٹھا کر فوٹو گرافی کی جاتی‘ جس میں لڑکی کے خاندان‘ رشتہ داروں اور دوست احباب کو خصوصی ترجیح دی جاتی۔ کھانا کھاتے ہی لڑکے والوں کے مہمان اور دلہا کے ذاتی دوست احباب مردوں والے سٹیج پر ہی دلہے کے ساتھ تصاویر بنواتے‘ سلامی پیش کرتے اور وہیں سے اجازت طلب کرنے کے بعد واپسی کا سفر اختیار کرتے۔ جب مہمانوں کی اکثریت چلی جاتی تو آخر میں صرف دلہا دلہن کے خاندان کے افراد کے علاوہ چند انتہائی قریبی عزیزوں کی موجودگی میں رخصتی ہوتی اور دلہن کو دلہے کی گاڑی میں سوار کر دیا جاتا۔ دلہا کو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اور دلہن کو پیچھے بٹھایا جاتا اور عام طور پر اس کے ساتھ دلہے کی والدہ یا بہن کو بٹھایا جاتا۔ اس سے ملتا جلتا اہتمام ولیمہ کی تقریب کیلئے کیا جاتا۔ چند رشتے داروں اور انتہائی قریبی دوستوں کے علاوہ دلہن کو مردوں کی اکثریت نہیں دیکھ پاتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ شادی ہالز میں ایک ہی کشادہ ہال میں اہتمام شروع ہوا اور خواتین اور حضرات کے درمیان لگایا جانے پردہ ہٹا دیا گیا۔ اب دلہا اور دلہن ایک ہی سٹیج پر موجود نظر آتے۔ اس مشترکہ سٹیج کے سامنے کچھ دیر کیلئے بارات کے ساتھ آنے والے دلہے کے دوست اور رشتے دار بینڈ باجے کی دھنوں پر رقص کرتے اور ہلہ گلہ کرکے اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ جاتے۔ پھر سوشل میڈیا کا زمانہ آگیا اور شادی کی تصاویر اور وڈیوز شیئر ہونے لگیں۔ ابتدائی طور پر خواتین کی تصاویر اور وڈیوز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر نہیں کیا جاتا تھا اور اگر غلطی سے کسی تصویر میں کوئی خاتون دور بیٹھے ہوئے بھی نظر آجاتی تو اس پر اعتراض کیا جاتا اور تصویر لگانے والے شخص سے رابطہ کر کے اس کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا جاتا۔ کئی مرتبہ نوبت لڑائی جھگڑے تک بھی پہنچ جاتی۔
مگر گزشتہ چند سالوں سے یہ سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ اب شادی کی تقریبات نے ایک الگ روپ دھار لیا ہے۔ مہندی سے لے کر ولیمے تک تین روز رنگا رنگ تقریبات میں خواتین و حضرات مل کر ناچتے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ ہرگز پتا نہیں چلتا کہ ان میں لڑکے کی طرف سے کون ہے اور لڑکی کے مہمان کون سے ہیں۔ مہمانوں سے زیادہ جوش و خروش سے خود دلہا اور دلہن آگے بڑھ کر رقص کرتے ہیں‘ گانا گا تے ہیں جس کے باعث تقریب میں شریک دیگر لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اب لباس مختصر ہو چکے اور شرم و حیا کی چادر کہیں دور تک نظر نہیں آتی۔ رقص و سرود کی ان محفلوں میں منعقد ہونے والی اس ایک شادی کے دوران نجانے کتنے نئے جوڑے وجود میں آ جاتے ہیں۔ ان تمام تقریبات اور ان سے متعلقہ ناچ گانے کی تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں۔ رقص کرنے والے اپنے اپنے دوست احباب کو باقاعدہ ٹیگ کرکے اپنی پرفرمانس سے متعلق رائے طلب کرتے نظر آتے ہیں۔ آج کے ماحول میں کون کس کے ساتھ محوِ رقصاں تھا‘ یہ قابلِ اعتراض نہیں رہا بلکہ بسا اوقات اہلِ خانہ کے رقص پر فخریہ انداز میں تبصرے بھی کیے جاتے ہیں۔ شادی کی دوران نکاح کی رسم کے بعد فوراً دلہا اور دلہن کا فوٹو شوٹ شروع ہو جاتا ہے۔ مہمانوں کی موجودگی میں وہ اس قدر وارفتگی سے تصاویر اور وڈیوز بنواتے ہیں کہ بالی وُڈ اور ہالی وُڈ کی رومانٹک فلموں کے مناظر بھی شرما جائیں۔ اخلاقی اقدار اور معاشرتی روایات اب قصہ پارینہ بن چکیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved