تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     17-04-2026

تراہ نکالو کام چلاؤ

کیسے جادوئی سفر پہ رواں دواں ہیں‘ فیصلہ کرنا مشکل ہو چلا ہے کہ آگے جا رہے ہیں یا پیچھے۔ اُدھر عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی اور بلّے بلّے ہو رہی ہے‘ اِدھر عوام کی ہائے ہائے اور دہائی کہیں تھمنے میں نہیں آ رہی۔ پٹرول‘ بجلی اور گیس سمیت بدترین بحران اور گرانی پر ماتم ضرور کریں لیکن اخبارات کی شہ سرخیاں اور خیر مقدمی تصاویر کے علاوہ ٹی وی چینلز پر آؤ بھگت کے مناظر بھی تو ہمارے اپنے ہی ملک سے جڑے ہوئے ہیں۔ عوام کا رونا دھونا تو ہمیشہ سے یونہی چلا آرہا ہے۔ ارے بھئی! رونے دھونے کو تو ساری عمر پڑی ہے‘ فی الحال جھوم کے ناچو‘ ناچ کے گاؤ‘ موجیں مارو‘ خوشی مناؤ۔ وزیراعظم سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ جبکہ فیلڈ مارشل ایران کے اہم ترین دورے پر ہیں۔ اُدھر وزیر باتدبیر نے ایسا پنڈورا باکس کھولا ہے‘جس کی جوابدہی خود ان پر بھی برابر عائد ہوتی ہے۔
حالیہ تین‘ چار برسوں میں خطیر رقوم کی بیرونِ ملک منتقلی خبر سے کہیں زیادہ وزیر داخلہ کا برملا اعتراف ہے۔ ترسیلات کے ذرائع پر گفتگو سے گریز کرتے ہوئے جناب نے یہ بھی کہا کہ کراچی سے ایک دو لوگوں کو اٹھا لیا جائے تو سب کو سب پتا چل جائے گا۔ خدا جانے کیا امر مانع ہے کہ وزارتِ داخلہ ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی تو درکنار حقائق سے پردہ اٹھانے سے بھی گریزاں ہے‘ جبکہ متعلقہ حکومتی ادارے بھی اس گھٹالے پہ اب تک چپ ہیں۔ سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ تبصرہ کیا ہے کہ اگر دو بندے اٹھانے سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو بات کرنے سے پہلے ان دو بندوں کو ضرور اُٹھا لینا چاہیے تھا۔ محسن نقوی قانونی کارروائی کریں یا نہ کریں لیکن انہوں نے ان دو بندوں کا تراہ تو نکال ڈالا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اٹھائے جا سکتے ہیں۔ بھلے نہ بھی اٹھائے جائیں لیکن تیر نشانے پر ٹھیک جا لگا ہے‘ کارروائی ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں رقوم بھجوانے والے بینی فشری وزارتِ داخلہ کے ریڈار پہ آچکے ہیں۔ اس طرح ان دو لوگوں سے جڑے ہوئے سبھی بینی فشری بھی یقینا سہم گئے ہوں گے‘ اس موقع پر مزید وضاحت اور تفصیل کے بجائے ایک پنجابی محاورے کے اُردو ترجمے سے کام چلاتے ہیں: ''مارنے سے بھگانا بہتر ہوتا ہے‘‘۔ یعنی تراہ نکالنے سے ہی جب کام چل جائے تو گرفتاریوں اور قانونی چارہ جوئی کے جھنجھٹ میں کون پڑے۔ تاہم یہ معمہ بھی حل طلب ہے کہ ایک ذمہ دار وزیر اتنے بڑے مالیاتی سکینڈل کا انکشاف کرے اور وارداتیوں کا بھرم بھی بدستور قائم رہے۔
سونے پہ سہاگا یہ کہ اس موقع پر سرکاری محکموں میں کاموں کا نرخنامہ بھی آؤٹ کر ڈالا گیا۔ ان سبھی قابلِ گرفت کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کے بجائے ادھر اُدھر کی باتیں ناقابلِ فہم ہیں۔ مخصوص سرکاری بابوؤں کی تقرریوں اور تبادلوں سے ٹینڈر کا گماں ہو تو کیسی گورننس‘ کہاں کا میرٹ؟ حصہ بقدرِ جثہ بہتی گنگا میں کوئی ہاتھ دھوتا رہا ہے تو کوئی ڈبکیاں لگا کر بھی باز نہیں آرہا۔ سب کو سبھی جانتے ہیں کہ کون کہاں جھوم رہا ہے۔ من پسند افسران کی یلغار نے ماضی کے سبھی ریکارڈز ریکارڈ مدت میں توڑ ڈالے ہیں۔ خدا کی پناہ! ایسا ایسا اندھیر کہ بند آنکھ سے بھی سب صاف صاف دکھائی دے رہا ہے۔
یہ انکشاف صرف ایک مالی معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی‘ معاشی استحکام اور ریاستی نگرانی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوشل میڈیا پر طوفان کا سماں ہے۔ دور کی کوڑی لانے سے لے کر دانشوری بگھارنے کے علاوہ تانے بانے ملانے تک سبھی کچھ جاری ہے۔ اٹھائے جانے والے کڑے سوالات میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت سے لے کر لمحۂ موجود تک حکمرانی کے سبھی کردار اور ادوار کے نقطے ملائیں تو بننے والے خاکوں میں سبھی شکلیں آج بھی برسرِ اقتدار اور صاحبِ اختیار ہیں جبکہ نگران دور میں چند چہروں کی تبدیلی بس تکلّفاً اور محض ذائقہ بدلنے کے لیے تھی۔ عملاً سبھی ایک دوسرے کا تسلسل ہیں۔ وزارتیں اور ادارے اشاروں کنایوں میں ملزمان کے تراہ نکالنے کو ہی گورننس تصور کیے بیٹھے ہیں۔ گویا: تراہ نکالو کام چلاؤ۔
ملک سے اتنی بھاری اور خطیر رقوم کسی بھی طریقے سے بیرونِ ملک چلی جائیں تو اس کے اثراتِ بد ہر خاص و عام کو متاثر کرنے کے علاوہ بڑے سماجی بگاڑ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ روپے کی قدر مزید گرنے کے علاوہ ڈالر بھی پہنچ سے باہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کے علاوہ روزگار کے مواقع بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ مہنگائی اور گرانی کے ساتھ ساتھ ریاست کا قرضوں پر انحصار بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ملک و قوم پہلے ہی زرمبادلہ کے ذخائر‘ قرضوں اور مہنگائی کے شدید دباؤ سے گزر رہے ہیں۔ ایسے میں نیا پنڈورا باکس معاشی انتشار اور بے یقینی کے ساتھ ساتھ مارو ماری کو بھی دوام بخشے گا۔ اربابِ حکومت اس واردات سے بخوبی آگاہ ہیں تو کردار اور چہروں کو بھی بخوبی جانتے ہوں گے ورنہ ان دو بندوں کو ریت میں سوئی کی طرح تھوڑی تلاش کرنا تھا؟ گویا: جتنی بڑی واردات اتنا بڑا فنکار‘ جتنی چھوٹی واردات اتنا بڑا مجرم۔ یعنی بڑے کو پکڑنا نہیں اور چھوٹے کو چھوڑنا نہیں۔
ان تین برسوں میں جہاں کاروباری حضرات نے بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے سے لے کر اثاثہ جات اور رہائشی سہولتیں حاصل کیں وہاں ایسے سرکاری بابوؤں کی بھی فہرست طویل ہے جو اس میراتھن میں کاروباریوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ دھن دولت باہر بھجوانے کی دُھن میں ایسے ایسے کمالات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں جو دیدہ دلیری اور دھونس دھاندلی کے سبھی ریکارڈ توڑ کر بھی تازہ دم اور دوڑ میں برابر شامل ہیں۔ انہی تین برسوں میں مخصوص انتظامی و پولیس افسران نے تو اس میراتھن میں جہاں سبھی تمغے ہتھیا لیے ہیں وہاں ماضی کے بیشتر ریکارڈ بھی چکنا چور کر ڈالے ہیں۔ جھاکا اترے افسران کی دیدہ دلیری کا عالم یہ ہے کہ جہاں اندرونِ ملک معیارِ زندگی سمیت نسلوں اور مستقبل کو محفوظ بنا چکے ہیں وہاں بیرونِ ملک بھی متوازی بندوبست کیے بیٹھے ہیں۔ کس کس کا نام لوں‘ سب کو سبھی جانتے ہیں۔
ویسے بھی نسلیں اور مستقبل سنوارنے کا بہترین اور مضبوط ترین ماڈل اس ٹرائیکا میں فِٹ ہو کر ہی بنتا ہے جو سیاستدان‘ سرکاری بابو اور بزنس مین پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ تینوں اگر ہاتھ ملالیں تو ان کے اٹھائے ہوئے طوفان کو کوئی نہیں روک سکتا تاہم ان سبھی کی رسائی اور تعلق راج نیتی سے ضرور ہونا چاہیے‘ تب کہیں جاکر ایک مضبوط اور مؤثر ٹرائیکا بنتی ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر میں سرکاری بابوؤں اور وزیروں سمیت اکثر بااثر سیاستدان سروسز اور سہولت کاری کے عوض پارٹنر شپ بھی بخوبی نبھاتے آرہے ہیں۔ یہ ماڈل ہاؤسنگ سیکٹر کی ہوشربا ترقی اور بے تحاشا پھیلاؤ کیلئے مؤثر ترین ہی ثابت ہوتا چلا آیا ہے۔ واجبی پسِ منظر رکھنے والے اس ٹرائیکا میں فِٹ ہو کر ترقی اور خوشحالی کے وہ کوہِ ہمالیہ بنا چکے ہیں جن پر چڑھ کر عوام اور ان کے مسائل بے معانی نظر آتے ہیں۔ جائز ناجائز کاموں کے ٹیرف سے لے کر منصوبوں میں شراکت داری جیسے ماڈل سرکاری بابوؤں کی اکانومی کا جہاں سنگِ میل ہیں وہاں بیرونِ ملک اثاثے اور شہریت بعد از ریٹائرمنٹ پُرسکون اور عیش بھری زندگی کی ضمانت ہیں۔ حکومت کاروباری طبقے کا تراہ ضرور نکالے لیکن ٹرائیکا میں فِٹ بابوؤں اور سماج سیوک نیتاؤں کا پرچہ بھی آؤٹ کرے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved