اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک سمندری ٹکڑا ہے جسے بحیرہ عرب کہا جاتا ہے۔ اس سمندر کا پانی ایک مقام سے اوپر کو بڑھنا شروع کر دیتا ہے اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہ اتنا وسیع سمندری حصہ ہے کہ اس کی چوڑائی تین سو کلومیٹر سے بھی زائد ہے۔ اسے خلیج عمان کہا جاتا ہے۔ عمان وہی ملک ہے جس کا دارالحکومت مسقط ہے۔ یہ بائیں طرف ہے جبکہ دائیں طرف ایران ہے۔ یہ سمندر اوپر چڑھتے چڑھتے قدرے تنگ ہوتا چلا جاتا ہے۔ عمان کے بعد بائیں جانب متحدہ عرب امارات کا رقبہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ سے یو اے ای کا رقبہ دائیں جانب ایک تیر کی شکل میں اس قدر آگے بڑھتا ہے کہ اس کا آخری کنارہ عمان کی ملکیت بن جاتا ہے۔ اب سمندر دائیں طرف ہو کر ایران کی سرزمین کے اندر گھستا ہوا ایک موڑ بناتا ہے اور واپس پھر سیدھا ہو کر اوپر کو چڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی موڑ کا نام آبنائے ہرمز ہے‘ انگریزی میں جسے Strait of Hormuz کہتے ہیں۔ یہاں پر سمندر کی چوڑائی محض 32 کلومیٹر ہے۔ کہیں یہ زیادہ ہو کر بتدریج 39 کلومیٹر تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ یہاں بحری جہازوں کی رفتار قدرے سست ہو جاتی ہے۔ ایک جزیرہ جو صدیوں پہلے یہاں آباد تھا‘ اسے جزیرۂ ہرمز کہا جاتا تھا۔ جس ایرانی صوبے کے ساتھ آبنائے ہرمز وابستہ ہے اس کا نام ''ہرمزگان‘‘ ہے۔ قارئین کرام! اوپر کو ہم اپنا سفر جاری رکھیں تو آگے سمندر کا نام ''خلیج فارس‘‘ ہے۔ ہمارے دائیں جانب مسلسل ایران ہے جبکہ بائیں جانب بحرین‘ قطر‘ سعودی عرب اور کویت جیسے عرب ممالک ہیں۔ آخری ملک کویت ہے جو خشکی کی جانب سے سعودی عرب اور عراق سے ملتا ہے جبکہ پانیوں کے حوالے سے اس کا بارڈر اس طرح ہے کہ عراق سے آتے ہوتے دو دریا فرات اور دجلہ باہم مل کر یہاں خلیج فارس میں گرتے ہیں۔ یہاں کویت‘ عراق اور ایران باہم ایک جگہ قریب ہوتے ہوئے اور ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
کویت کا پرانا نام کاظمیہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ''ذات السلاسل‘‘ کے نام سے ریاست مدینہ اور فارس کی ساسانی سلطنت میں ایک جنگ ہوئی تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی لشکر کو فتح سے نوازا۔ اسی جنگ میں سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فارس کے جرنیل ہرمز کو قتل کیا تھا۔ قارئین کرام! اب ہم واپسی کا سفر شروع کریں تو ہمارے بائیں جانب آخر تک ایران ہی ہو گا جبکہ دائیں جانب کویت ہوگا‘ جس کے پاس خلیج فارس میں نو عدد جزائر ہیں۔ قطر کے پاس بھی نو قدرتی جزائر ہیں۔ بحرین کو جزائر کا مجموعہ کہا جاتا ہے‘ جس کے جزائر کی تعداد 50کے قریب ہے۔ عمان کی سلطنت کے پاس پانچ بڑے جزائر ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات جو سات ریاستوں کا ایک اتحاد ہے‘ کے پاس 200 سے زائد جزائر ہیں‘ جن میں سے سب سے زیادہ ابوظہبی کے حدود میں ہیں۔ یہ عبوری معلومات ہیں جو محض سمجھنے کیلئے قارئین کی خدمت میں پیش کی ہیں۔ ایران کی ملکیت میں ویسے تو چھوٹے بڑے سینکڑوں جزائر ہیں مگر 35 جزائر سٹرٹیجک اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ہیں۔ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ خلیج کا یہ سارا علاقہ دولت کے اعتبار سے سونے کی چڑیا ہے۔ ان پانیوں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں اور یہ علاقہ ان سرخ وسپید موتیوں کی فاختہ ہے۔ اس فاختہ کو امن درکار ہے مگر شکرے جو دور سے جھپٹتے ہیں‘ وہ امن کی فاختہ کو خون آلود کر دیتے ہیں۔ اس خون آلودگی کی پیشگوئی رحمت دو عالمﷺ نے ڈیڑھ ہزار سال قبل فرما دی تھی۔ حضورﷺ اہلِ اسلام کو مخاطب کر کے خبردار فرماتے ہیں: ''وہ وقت آیا چاہتا ہے جب دنیا کی مختلف اقوام تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں گی جس طرح بھوکے لوگ اپنے دستر خوان پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ مجلس میں موجود ایک شخص نے پوچھا: کیا اس زمانے میں ہماری کم تعداد کی وجہ سے ایسا ہوگا؟ فرمایا: بالکل نہیں! اس کے برعکس تمہاری تعداد بہت زیادہ ہو گی۔ تمہاری حیثیت سیلاب کے اوپر جھاگ کی مانند ہو گی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے سینے سے تمہارا رعب د دبدبہ نکال پھینکے گا اور تمہارے دلوں میں ''وہن‘‘ (کا مرض کوٹ کوٹ کر) بھر دے گا۔ ایک شخص نے پوچھا: وھن کیا چیز ہے؟ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: دنیا سے (بے پناہ) محبت اور موت سے (بہت زیادہ) کراہت (کا نام وہن ہے)۔ (سنن ابو دائود، صحیح عند للبانی)
اہلِ اسلام کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک صدی سے وسائل کی جو عالمی لوٹ مار جاری تھی‘ ایران میں اس کا خاتمہ ہے تو خاتمہ عرب دنیا میں بھی ہو رہا ہے۔ دونوں کے درمیان جو خلیج ہے‘ حضورﷺ کے فرمان کے مطابق یہ دستر خوان ہے۔ دونوں طرف کے مسلمان دائیں بائیں بیٹھ کر اسے اچھے طریقے سے کھائیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بہتری کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ پاکستان امن کا پاسبان بن کر سامنے آیا ہے۔ دستر خوان کے دونوں کناروں پر بیٹھے والے اپنے پاسبان کی نگرانی میں خود بھی کھائیں اور ساری دنیا کو بھی کھلائیں۔ انواع واقسام کے کھانوں (تیل‘ گیس اور معدنیات) کی تفصیل پچھلے کالم میں عرض کر چکا۔ یہ کھانے اس قدر زیادہ ہیں اور رنگ برنگ ہیں کہ یہاں سے جہازوں کے جہاز نکلتے ہیں۔ کویت سے چلتے ہوئے آغاز کرتے ہیں‘ خلیج فارس کا سفر طے کر کے ایران کے صوبہ ہرمزگان سے ملحق آبنائے ہرمز کو کراس کر کے بعض جہاز خلیج عمان میں داخل ہوتے ہی بائیں سمت سے بحیرہ عرب میں آ جاتے ہیں‘ یہاں سے وہ کھانے گوادر اور کراچی والوں کو دیتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو بھارت کو بہت زیادہ دیتے ہیں کیونکہ اس کا پیٹ کافی بڑا ہے۔ الغرض! آگے بڑھتے ہوئے مشرقِ بعید کے ملکوں کو دیتے ہوئے آبنائے ملاکا کو پار کرتے ہیں تو آگے چین کا شکم انڈیا سے کہیں بڑا ہے۔ یہ صنعت و حرفت کا شکم ہے۔ آگے کوریا‘ جاپان‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک یہ کھانا کھایا جاتا ہے۔ جو بحری جہاز بحیرہ عرب سے دائیں جانب مڑتے ہیں وہ مسقط اور یمن سے ہوتے ہوئے ''باب المندب‘‘ سے بحر احمر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اب ان کے دائیں جانب یمن کے بعد سعودی عرب کی پاک سرزمینِ حجاز ہے‘ جہاں مکہ مکرمہ‘ مدینہ منورہ اور حاجیوں کی بندرگاہ جدہ ہے۔ بائیں جانب افریقہ کے ممالک ہیں۔ یہ جہاز افریقہ کو تیل بانٹتے ہوئے نہر سویز پار کرتے ہیں تو دائیں جانب مشرق وسطیٰ ہے تو بائیں جانب شمالی افریقہ کے ممالک مصر‘ لیبیا‘ تیونس‘ الجزائر اور مراکش ہیں جبکہ سامنے ترکیہ اور یورپ ہے۔ جی ہاں! خلیج فارس سے نکلنے والے کھانوں سے چھ براعظموں ایشیا‘ افریقہ‘ یورپ‘ شمالی و جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا کے لوگ اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں‘ کھانے کھاتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ آرام دہ زندگی گزارتے ہیں۔
لوگو! یاد رکھو! یہ دستر خوان حضرت محمد کریمﷺ کا ہے۔ آنحضورﷺ اپنی مرضی سے تکلم نہیں فرماتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبﷺ کے لب مبارک نہیں کھلواتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو خزانے رکھے ہوئے تھے‘ وہ اُمت کے آخری حصے کیلئے تھے۔ ہم کلمہ پڑھنے والی اُمت ہیں۔ یہ خزانے حضورﷺ نے ہمارے لیے ارشاد فرمائے۔ ان میں خصوصی لوگ عرب اور ایرانی ہیں کہ جن کے علاقوں میں یہ دستر خوان ہے۔ وہ خود بھی کھائیں اور امت کا بھی خیال رکھیں۔ ویسے وہ خیال رکھتے بھی ہیں۔ اسی طرح باقی ساری انسانیت بھی ہمارے حضورﷺ کی امت ہے مگر امتِ دعوت ہے۔ وہ بھی اپنے حصے کا کھائیں۔ سب لوگ دستور کے مطابق حاصل کریں‘ اس لیے کہ ہمارے حضورﷺ تمام عالمین کے لیے سراپا رحمت ہیں۔ یہ اسی رحمت کی تقسیم ہے۔ خزانے پیدا کرنے والا ''رب العالمین‘‘ ہے۔ اس دستر خوان پر جو شکرے بن کر دور سے جھپٹنا چاہتے ہیں‘ دنیا بھر کی انسانیت انہیں اسلام آباد کا راستہ دکھلا رہی ہے۔ یورینیم مسئلے کا حل بھی یہاں ہو سکتا ہے۔ سلامتی کی فاختہ اسلام آباد سے اپنی پرواز کا آغاز کر چکی ہے۔ سونے کی چڑیا کی سنہری چونچ کے قطرے سے ان شاء اللہ سارے جہان کو امن ملے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved