اصل آزمائش باقی ہے اور وہ ہے عرب و ایران کو ایک میز پر بٹھانا۔ اہلِ عرب اور اہلِ فارس میں پُرامن بقائے باہمی کا معاہدہ‘ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ کیا پاکستان اس گھاٹی کو عبور کرنے میں فریقین کا مددگار بن سکتا ہے؟
یہ کام امریکہ اور ایران کو ایک معاہدے پر متفق کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس کی جڑیں معاصر سیاست ہی میں نہیں تاریخ میں بھی بہت گہری ہیں۔ امریکہ اور ایران کا اختلاف چند عشروں کو محیط ہے۔ عرب و فارس کا جھگڑا صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ابتدا میں دونوں جس اسلام کو مانتے تھے‘ اس کے خدو خال ایک جیسے تھے۔ پھر اختلاف نے امتیازات کو نمایاں کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ 'دو اسلام‘ کا تاثر گہرا ہو گیا۔ غالی گروہوں نے ان امتیازات کو تشخص بنا لیا۔ بات تکفیر تک جا پہنچی۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ پہلے جو کچھ کتابوں میں تھا‘ بعد میں چوکوں اور چوراہوں میں آ گیا۔
آغاز 21ہجری کو ہوا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فارس پر حملے کا فیصلہ کیا۔ کہتے ہیں یہی فیصلہ ان کی شہادت کا باعث بنا۔ امام شبلی نعمانی نے 'الفاروق‘ میں 21ہجری کے واقعات بیان کرتے ہو ئے لکھا: ''اس وقت تک حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایران کی عام تسخیر کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اب تک جو لڑائیاں ہوئیں وہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کے لیے تھیں۔ عراق‘ البتہ ممالکِ محروسہ میں شامل کر لیا گیا تھا لیکن وہ در حقیقت عرب کا ایک حصہ تھا کیونکہ اسلام سے پہلے اس کے ہر حصہ میں عرب آباد تھے۔ عراق سے آگے بڑھ کر جو لڑائیاں ہوئیں وہ عراق کے سلسلہ میں خود بخود پیدا ہوتی گئیں۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ''کاش ہمارے اور فارس کے بیچ میں آگ کا پہاڑ ہوتا کہ نہ وہ ہم پر حملہ کر سکتے‘ نہ ہم ان پر چڑھ سکتے‘‘۔
لیکن ایرانیوں کو کسی طرح چین نہ آتا تھا۔ وہ ہمیشہ نئی فوجیں تیار کر کے مقابلے پر آتے تھے اور جو ممالک مسلمانوں کے قبضے میں آ چکے تھے‘ وہاں غدر کروا دیا کرتے تھے۔ نہاوند کے معرکے سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو اس پر خیال ہوا اور اکابر صحابہ کو بلا کر پوچھا کہ ممالکِ مفتوحہ میں بار بار بغاوت کیوں ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: جب تک یزد گرد ایران کی حدود سے نکل نہ جائے یہ فتنہ فرو نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک ایرانیوں کا یہ خیال رہے گا کہ تختِ کیان کا وارث موجود ہے‘ اُس وقت تک ان کی امیدیں منقطع نہیں ہو سکتیں۔ اس بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عام لشکر کشی کا ارادہ کیا۔
ایرانی تاریخ کا دوسرا دور تب شروع ہوا جب صفوی برسرِ اقتدار آئے۔ اس نے سارا منظر بدل ڈالا۔ اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے‘ ایران نے عربوں سے مختلف تشخص اپنا لیا۔ ایک کا ہیرو دوسرے کا ولن قرار پایا۔ یہ معمولی فرق نہیں تھا۔ قائداعظم نے جب دو قومی نظریے کی وضاحت کی تو اس کی ایک دلیل یہ دی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے ہیرو الگ الگ ہیں۔ مسلمان کا ہیرو ہندوکا ولن ہے۔ مرورِ زمانہ کے ساتھ اختلافات نمایاں ہوئے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سعودی عرب میں آنے والے تبدیلی کا مذہبی رنگ گہرا تھا۔ ریاستی سطح پر امام محمد ابن عبدالوہاب کی تعبیرات اور شدت کو اپنا لیا گیا۔ ایران میں انقلاب آیا تو آتش کدہ فارس کی تپش سارے عالمِ عرب میں محسوس ہونے لگی۔ عراق اور ایران کے مابین ہونے والی جنگ اس اختلاف کا ایک مظہر تھی جو آٹھ برس جاری رہی۔ اس پر مستزاد وہ فرقہ وارانہ جنگ و جدل‘ پاکستان بھی جس سے متاثر ہوا۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں اس طرح کی تاریخ حامل نہیں۔
دونوں اطراف سے اختلافات کی اس خلیج کو پاٹنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اہلِ ایران کو توجہ دلائی کہ وہ علوی اور صفوی شیعیت میں امتیاز کریں۔ شیعہ علما نے تحریفِ قرآن کی نسبت کو اعلانیہ مسترد کیا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے صحابہ اور امہات المومنین کی توہین کو حرام کہا۔ دوسری طرف اہلِ سنت کے سوادِ اعظم نے اہلِ تشیع کی تکفیر کو رد کیا اور عملاً یہ اقلیت کا مؤقف بن کر رہ گیا۔ ان کاوشوں کے باوصف‘ امتیازات پر اصرار باقی ہے بلکہ میرا مشاہدہ ہے کہ ان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ مجھے پندرہ بیس برس بعد ایک مختلف منظر نامہ دکھائی دیتا ہے‘ جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے خوف آتا ہے۔ آج اتنی توجہ دلا سکتا ہوں کہ اتحاد کی کوششوں کے باوجود‘ زیرِ زمین پھیلی 'فالٹ لائنز‘ کسی وقت زلزلہ برپا کر سکتی ہیں۔ سطحِ زمین پر ان کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان اسباب کی وجہ سے‘ میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ کا پائیدار امن عرب و ایران کے باہمی تعلقات پر منحصر ہے۔ ان کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کا معاہدہ ناگزیر ہے تاکہ عربوں اور ایرانیوں کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ نہ ہو اور انہیں ایک دوسرے سے بچاؤ کیلئے کسی خارجی قوت کی ضرورت نہ رہے۔ اسامہ بن لادن کی حکمتِ عملی سے عدم اتفاق کے باجود ان کا یہ مطالبہ درست تھا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے نکل جائے۔ تاہم انہوں نے اس پہلو کو نظر انداز کیا کہ یہ مطالبہ اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں داخلی سطح پر اتفاق ہو۔ یہی اتفاق آج بھی پائیدار امن کا ضامن ہے۔
اس کے لیے چار کام ناگزیر ہیں۔ ایک یہ کہ ایران اپنی تمام پراکسیز بند کرے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایران کی سیاسی قیادت ان ہاتھوں میں ہو جن کے سیاسی شعور کی جڑیں تاریخ کے بجائے عصرِحاضر اور مذہبیات کے بجائے مذہبی اخلاقیات میں ہوں۔ ایران عراق کے ماڈل کو اپنا لے جہاں دینی و سیاسی قیادت کو عملاً الگ رکھا گیا ہے۔ اہلِ مذہب کی طاقت کا انحصار ان کی اخلاقی قوت میں ہے اور یہ ریاستی قوت سے زیادہ ہے۔ سیاسی معاملات اہلِ سیاست کے حوالے ہیں۔ یہ دوسرا کام ہے۔ تیسرا کام یہ ہے کہ عرب امریکہ کے دفاعی حصار سے نجات پائیں۔ پاکستان انہیں ضمانت دے کہ وہ کسی خارجی جارحیت کے خلاف ان کا دفاع کرے گا۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے کو پھیلایا جائے اور اس میں ترکیہ اور ایران شامل ہوں۔ چوتھا یہ کہ سب مل کر فلسطینیوں کی خود مختار ریاست کے قیام اورگریٹر اسرائیل کے منصوبے کی ناکامی کے لیے متفقہ حکمتِ عملی اپنائیں۔
ایران کے حالات اور تاریخ سے باخبر میرے ایک محترم دوست کی رائے ہے کہ ایران دونوں باتوں پر آمادہ نہیں ہو گا۔ وہاں کے سیاسی نظام کی بنیادیں ولایتِ فقیہ کے تصور میں پیوست ہیں۔ اس نظام کو اب کم و بیش پچاس برس ہونے کو ہے اور یہ جڑ پکڑ چکا۔ اس میں قیادت کی دوئی کے خیال کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ دوسرا یہ کہ ایران حزب اللہ کو کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا۔ اس مؤقف میں وزن ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ عربوں اور ایرانیوں کے مابین اعتماد کی بحالی کے بغیر اس خطے میں پائیدار امن نہیں آئے گا۔ اگر رویوں میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی تو حالات بھی تبدیل نہیں ہوں گے۔ یہ تبدیلی تدریجاً آئے گی لیکن اس جانب پیش رفت آج سے ہونی چاہیے۔ اگر اہلِ یورپ اور اہلِ کلیسا تاریخ کی گرفت سے نکل کر حال میں جی سکتے ہیں تو اہلِ حرم بھی اس صلاحیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ دیکھیے‘ اس کے لیے ہمیں صدیوں کی ضرورت ہے یا عشروں کی۔ میرا خیال یہ بھی ہے کہ جیسے ہی امریکہ کے ساتھ جنگ ختم ہو گی‘ ایران‘ پاکستان اور دوسرے مسلم ممالک کے داخلی مسائل سر اٹھائیں گے جن میں معاشی مسئلہ سب سے اہم ہے۔ ان کے بارے میں ابھی سے سوچنا ہو گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved