میری پلکوں میں آویزاں متعدد خوابوں میں سے ایک خواب مثالی گاؤں کا بھی ہے۔ مثالی گاؤں کے بارے میں ہر کسی کی اپنی تعریف ہے۔ میرے نزدیک مثالی گاؤں وہ ہے کہ جس کے باسیوں کو شہری سہولتوں کے ساتھ ساتھ فضائے سبزگوں‘ چمکتی ہوئی دھوپ‘ فضائی و صوتی اور آبی آلودگی سے پاک ماحول میسر ہو۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مثالی دیہات کے فیز ٹُو کا اعلان کرتے ہوئے 7500دیہات کو ماڈل ویلیج بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے مطابق ان دیہات کے مدتوں سے خراب فلٹریشن پلانٹس کو درست کر کے دوبارہ چالو کرنے یا نئے پلانٹس لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان مثالی دیہات میں سیوریج سسٹم کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیہات کے تالابوں یعنی چھپڑوں کی صفائی بھی کی جائے گی۔ اسی طرح ٹیوب ویلوں کو واپڈا بجلی کے بجائے سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔
میں نے جب مثالی دیہات کا چرچا سنا تو ذہن میں ایک خیالی تصویر بنا لی۔ یہ خیالی تصویر مذکورہ مثالی گاؤں سے بہت مختلف ہے۔ ذیل میں ہم حقیقی مثالی گاؤں کا ایک نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ مثالی گاؤں میں گلیاں پختہ ہوں۔ دیہات اور شہروں کے درمیان رابطے کی سڑکیں اچھی اور محفوظ ہوں۔ دیہات کے اندر زمانوں سے گندے چھپڑ موجود ہیں۔ یہ چھپڑ بیماریوں کی آماجگاہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں چھوٹے بچے ڈوب جاتے ہیں۔ ان چھپڑوں کو باقاعدہ سیوریج کے ذریعے گاؤں سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے۔میٹرک تک اچھے سرکاری سکول ہر چھوٹے بڑے دیہات میں موجود ہونے چاہئیں۔ صرف ٹیوب ویلز نہیں بلکہ ہر دیہات کو سولر یا بائیو گیس (گوبر انرجی)کے ذریعے رات دن بجلی کی فراہمی کا انتظام کیا جائے۔ میں سرگودھا میں ایسے کاشتکاروں یا زمینداروں کو جانتا ہوں کہ جنہوں نے اپنے ہی گاؤں کے دوسرے افراد کی مدد سے حقیقی معنوں میں بائیو گیس کے ذریعے 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی کا معمولی نرخوں میں بندوبست کر دیا ہے۔ دیہات سے متصل ہر قصبے میں کم از کم گریجویشن تک کالج ہونا چاہیے۔ ہر مثالی گاؤں میں میٹرک کے بعد مختلف ہنر سکھانے والے ادارے قائم کیے جائیں۔ اسی طرح لڑکیوں اور لڑکوں کو آئی ٹی کی ٹریننگ دی جائے۔ فری لانس انسٹرکٹر یہاں آ کر انہیں دنیا بھر میں کام کے مواقع حاصل کرنے اور اس میں کامیابی کے طریقوں کی تربیت دیں۔ سب سے بڑھ کر دیہات میں کمیونٹی کی اپنی کمیٹی ہو جس میں خواتین و حضرات شامل ہوں جو اپنے دیہات کو معاشی‘ سماجی‘ تعلیمی اور طبی سہولتوں کے اعتبار سے اپنی مدد آپ کے تحت چار چاند لگا سکیں۔
چند سال قبل مجھے برطانیہ سمیت یورپ کے اندر ڈرائیو کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس سفر میں میری توجہ کا مرکز شہر نہیں دیہات تھے۔ یہ دیہات کیا تھے تعمیراتی و زرعی حسن کا شاہکار تھے۔ مجال ہے کوئی جانور باڑے سے باہر نظر آئے۔ باڑے کے اندر یوں صفائی تھی جیسے ہماری ایلیٹ کلاس کے شہروں کے اندر لانوں میں ہوتی ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے چند دیہات کو دیکھ کر یہمحسوس ہوتا تھا کہ یہ صفحۂ ارضی پر حقیقی دیہات نہیں بلکہ خوبصورت پینٹنگز سجا دی گئی ہیں۔ برطانیہ میں لیک ڈسٹرکٹ کی طرف سفر کرتے ہوئے راستے میں کئی خوبصورت مثالی گاؤں دیکھے۔ ورڈز ورتھ کے لیک ڈسٹرکٹ میں شاعرِ فطرت کا صدیوں پرانا گھر مگر ترو تازہ ڈیفوڈلز کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ورڈز ورتھ ابھی اپنے گھر کے کسی جھروکے سے ان پھولوں کو دیکھے گا اور ان کی مدح سرائی شروع کر دے گا۔ ''بورن ویلی‘‘ کے نام کو ہمارے امرا گہرے رنگ کی چاکلیٹ کے نام سے جانتے ہوں گے۔ دراصل بورن ویلی برمنگھم کے اس مثالی گاؤں کا نام ہے جسے اس چاکلیٹ کو بنانے والی مشہور کیڈ بری فیملی نے 19ویں صدی میں تعمیر کیا تھا۔ اس مثالی گاؤں میں جارج اور رچرڈ کیڈبری نے اپنے کارکنوں کو زبردست سہولتیں فراہم کی تھیں۔ اس علاقے کے بہترین کوکا سے چاکلیٹ بنانے کا کام ان کے والد جان نے شروع کیا تھا۔ جب چاکلیٹ کی طلب بہت بڑھی تو دونوں بھائیوں نے برمنگھم سے چند میل کے فاصلے پر بورن ندی کے کنارے 120 ایکڑ پر یہ مثالی گاؤں اپنے کارکنوں کے لیے تعمیر کرایا ۔ کارکن چاکلیٹ فیکٹری میں دل و جان سے محنت کرتے اور مالکان انہیں بہترین رہائشی سہولتوں کے علاوہ منافع میں بھی حصہ دیتے تھے۔ اسی طرح صابن وغیرہ بنانے والی مشہور فرم کے ولیم لیور نے برطانیہ میں لیور پول کے قریب ''سن لائٹ‘‘ کے نام سے 1880ء میں مثالی گاؤں تعمیر کیا تھا۔ ورکرز کے لیے تعمیر کردہ یہ مثالی گاؤں اپنے خوبصورت فنِ تعمیر‘ باغات‘ ثقافتی مراکز‘ سکولوں اور ہسپتال کی بنا پر دور نزدیک ابھی تک خوب پہچانا جاتا ہے۔
خصوصی طور پر تعمیر کردہ دیہات کے علاوہ بھی برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک کے دیہات میں بھی زندگی کی تمام شہری سہولتیں اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل سے موجود ہیں۔ یورپ کے دیہات بالعموم عافیت کدے سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے شہروں میں مقیم وہاں کی ایلیٹ کلاس بالعموم ویک اینڈ اپنے کنٹری ہومز میں گزارنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اسکے برعکس اگر ہمارے شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ چھ گھنٹے اور دیہات میں دس سے بارہ گھنٹے ہوتی ہے تو پھر کون دیہات میں جانے پر آمادہ ہوگا۔حکومت پنجاب نے صاف پانی اور سیوریج کی سہولتوں کی فراہمی سے کام کا آغاز تو کیا ہے مگر مثالی گاؤں اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مثالی دیہات بنانے کیلئے بہت سے کام ضروری ہیں۔ سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ ماڈل ویلیج کو نورِ علم سے منور کیا جائے۔ میٹرک تک ہر بچے اور بچی کو لازمی زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ جہالت ہمارے سر سبز و شاداب دیہات کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ گاؤں بڑا ہو یا چھوٹا‘ وہاں میٹرک تک لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے بہترین سرکاری سکولوں کی موجودگی ازبسکہ ضروری ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ان دیہات کے مثالی سکولوں کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات جب اعلیٰ تعلیم کیلئے لاہور کے اداروں میں پہنچتے تو پروفیسرز اُن کی پرفارمنس اور قابلیت کی بہت تعریف کیا کرتے تھے مگر اب حکومتوں کی شب و روز بدلتی ہوئی پالیسیوں نے دیہی سکولوں کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ میٹرک تک تعلیم کے علاوہ ٹیکنیکل ایجوکیشن اور دورِ جدید کے مطابق آئی ٹی کی تعلیم و تربیت کا بندوبست بھی ہونا چاہیے۔ دیہات میں جدید زراعت کی تربیت کے علاوہ فوڈ پروسیسنگ‘ سمال انڈسٹریز کیلئے زمین اور سود سے پاک قرضوں اور تربیت کا انتظام بھی ہونا چاہیے۔
کئی برس قبل قرطبہ سے غرناطہ جاتے ہوئے دیکھا کہ ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں زیتون پروسینگ کی فیکٹریاں کام کر رہی تھیں۔ یہ فیکٹریاں سپین کے خوش ذائقہ زیتون بوتلوں میں بند کر کے کئی ملکوں کو برآمد کرتی ہیں۔ طرح طرح کے دستکاری یونٹس بھی دیہات کے گھر گھر میں ہونے چاہئیں۔ اس طالبعلم نے دوسرے ملکوں کے سٹوروں میں کہیں کہیں پاکستانی دستکاریوں کے نمونے دیکھے‘ انہیں مزید پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ایک منظم طریقے سے سمال انڈسٹری کو دیہات میں خوب پھیلایا جا سکتاہے۔ دیہات میں بطور خاص نوجوانوں کیلئے کھیلوں کے میدان ہونے چاہئیں جن میں صحتمند مقابلوں کے رحجان کو زیادہ سے زیادہ پروان چڑھایا جائے۔ دیہات میں گڈ گورننس اور ہر یونین کونسل کی منتخب لوکل حکومت کا ہونا دیہی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے۔ اگر دیہات میں تعلیمی و طبی اور روزگار کی سہولتیں اور جان و مال کا تحفظ ہوگا تو پھر دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی کے رجحان میں واضح کمی آئے گی۔ جب تک دیہات میں باہمی تعاون سے ایک خود کار اور خود کفیل کلچر قائم نہیں ہوتا اس وقت تک حقیقی مثالی گاؤں وجود میں نہیں آ سکتا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved