اپریل کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ 21اپریل کو پندرہ روزہ جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے پر فریقین میں جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی مگر صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ جلد شروع ہو سکتا ہے‘ خطے میں امن کی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کو کچھ سہارا ملا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں کوئی باضابطہ تاریخ اب تک سامنے نہیں آئی مگر ایران اور امریکہ‘ دونوں کی جانب سے آئندہ چند دنوں میں دوبارہ اسلام آباد میں مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب لبنان اور اسرائیل میں بھی 10دن کیلئے جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ادھر امریکی بحریہ نے 13 اپریل سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ (گزشتہ روز ایران نے جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے) مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ پر فریقین کی طرف سے آمادگی کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 40 روزہ جنگ نے عالمی معیشت خصوصاً تیل اور گیس کی مارکیٹ کو شدید متاثرکیا ہے۔ اگر جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی اور دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو عالمی معیشت کو 1930ء کی کساد بازاری سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چین‘ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے صنعتی ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس درآمد کر کے پورا کرتے ہیں‘ کو زیادہ مشکلات درپیش ہوں گی۔چین اپنی توانائی کی ضروریات کا 50 سے 60 فیصد ایران اور خلیج فارس کے دیگر ممالک قطر‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستے درآمد کرتا ہے۔ چین نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ طویل المیعاد بنیادوں پر تجارتی اور معاشی تعلقات کو دیرپا اور مستحکم بنانے کے لیے 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور ایران کے خام تیل کے 90فیصد حصے کا خریدار ہے۔ اس لیے وہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی اور متنازع مسائل کے حل کیلئے خاموشی مگر غیر معمولی مستعدی سے سرگرم ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا کہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کیلئے چین نے ہی ایران کو پاکستان کے ذریعے خصوصی طور پر پیغام بھیجا تھا۔ مذاکرات پر آمادگی کے ساتھ امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا بھی فیصلہ سامنے آیا جس کا ایک مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی رائے میں اس طرح چین امریکہ کی شرائط پر سمجھوتا کرنے کیلئے ایران پر دباؤ ڈالے گا۔لیکن یہ قیاس آرائی حقیقت پر مبنی معلوم نہیں ہوتی۔ چین ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کو غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئے طاقت کے استعمال کا مینڈیٹ حاصل کرنے کیلئے خلیجی ممالک کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کو چین اور روس کی جانب سے ویٹو کرنے سے ثابت ہو جاتا ہے کہ چین ایران کی طرف سے مزاحمتی کارروائیوں کو حق بجانب سمجھتا ہے۔
ایران امریکہ تنازع کے بارے میں امید کی کرن باقی رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ فریقین نے اسلام آباد مذاکرات کے پہلے رائونڈ کے بے نتیجہ رہنے کے باوجود روابط منقطع نہیں کیے۔ اس کی تصدیق امریکی اور ایرانی حلقوں نے کی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان روابط کو قائم رکھنے میں پاکستان نے بطور ایلچی کلیدی کردار ادا کیا ہے‘ جس کی ایران اور امریکہ دونوں نے تحسین کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ سعودی عرب اور چیف آف دی ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران اس کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان ایران امریکہ مذاکراتی دور کو حتمی اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ بعض خبریں یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس سے فریقین کے درمیان خفیہ بات چیت جسے بیک چینل ڈپلومیسی کہتے ہیں‘ کی راہیں کھلی ہیں۔باخبر حلقوں کے مطابق اس وقت تک امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم مسئلہ ‘جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں کام آنے والی افزودہ یورینیم پر سمجھوتے کی طرف کافی پیشرفت ہو چکی ہے۔ کچھ فاصلہ اگر باقی ہے تو اسے ختم کرنے کیلئے پاکستان کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود باہمی سمجھوتے کیلئے سب سے ضروری چیز یعنی ''اعتماد‘‘ ابھی تک مفقود ہے‘ اور اس کی وجوہات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گزشتہ آٹھ‘ نو ماہ میں ایران دو بار مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ 28 فروری کو سلطنتِ عمان کی وساطت سے جنیوا میں امریکہ اور ایران کے مابین جو بالواسطہ مذاکرات ہو رہے تھے‘ عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی کے مطابق ان میں فریقین معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ ایران نے معاہدے کی خاطر ٹرمپ کی اُن شرائط کو بھی مان لیا تھا جو اُس نے 2015ء میں صدر اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے میں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ ایران کے پاس 65فیصد تک افزودہ یورینیم پر بھی مفاہمت ہو چکی تھی۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ایم گروسی کے ایک امریکی ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو کے مطابق اگلے دن اٹامک انرجی ایجنسی کے ٹیکنیکل ایکسپرٹس کا ایک اجلاس بھی ہونے والا تھا مگر امریکہ اور اسرائیل نے اچانک حملہ کرکے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور عسکری رہنماؤں کو شہید کر دیا۔ 40 روز کی شدید بمباری کے بعد جب ٹرمپ نے محسوس کیا کہ مزید حملے امریکہ کو مہنگے پڑیں گے تو پندرہ روز کیلئے جنگ بندی قبول کر لی۔
اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور میں امریکہ نے جو وفد بھیجا تھا‘ اُس کی کمپوزیشن سے بہت سے حلقے واشنگٹن کو مذاکرات میں غیر سنجیدہ قرار دے رہے تھے۔ اس کے برعکس ایران پوری تیاری کے ساتھ ایک ایسے وفد کے ہمراہ مذاکرات میں شریک ہوا جس میں امریکہ‘ ایران تنازع کے تمام پہلوؤں کی جانکاری رکھنے والے ماہرین موجود تھے۔ایک اور مسئلہ جس کی وجہ سے ایران کی بدگمانی میں اضافہ ہوتا ہے‘ وہ صدر ٹرمپ کی بدلتی ہوئی ترجیحات ہیں۔ کبھی اُن کے نزدیک امریکہ کا سب سے اہم مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی بھی ایک ایٹمی طاقت نہ بن سکے۔ کبھی کہتے ہیں کہ ایران میں رجیم چینج اصل مقصد تھا۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ایران کے تیل اور گیس کے کنویں‘ رئیل انفراسٹرکچر‘ پُلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر کے ایران کو واپس پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائے گا۔ اب آبنائے ہرمز کو ایران کے خلاف حکمت عملی میں مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ ان بدلتے ہوئے گول پوسٹس کے پیشِ نظر ایران ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے حلقوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ جوہری مسئلے پر ایران کے ساتھ سمجھوتا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کیونکہ اگر اُن کا مقصد ایران کے ساتھ جوہری مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ایک سمجھوتے کی صورت میں حل کرنا ہوتا تو وہ اپنی پہلی صدارتی مدت میں 2015ء کے معاہدے سے امریکہ کو الگ نہ کرتے۔ امریکی ماہرین کی رائے میں اوباما دور میں طے پانے والا یہ بہترین معاہدہ تھا۔ اگر صدر ٹرمپ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتے تو پھر آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب آئندہ کالم میں دینے کی کوشش کی جائے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved