جنگ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کی تاریخ۔ قدیم زمانے میں جنگیں ڈنڈے سوٹے سے ہوتی تھیں‘ پھر تلوار اور تیر کمان کا دور آیا‘ اس کے بعد منجنیق ایجاد ہوئی اور چلتے چلتے بندوق اور توپ وتفنگ کا دور آیا۔ پھر بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک ایجاد ہوئے‘ اس کے بعد بحری جہاز اور جنگی ہوائی جہاز ایجاد ہوئے‘جنہیں جیٹ فائٹر کہا جاتا ہے۔ ابتدائی زمانے میں جنگیں کھلے میدان میں آمنے سامنے ہوتی تھیں اور اپنی طاقت وشجاعت پر ناز کرنے والے سورما ''ھَل مِنْ مُّبَارِزٍ‘‘یعنی کوئی ہے جو مقابل آئے۔ بہزاد لکھنوی نے کہا ہے: اے جذبۂ دل گر میں چاہوں‘ہر چیز مقابل آ جائے؍ منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
پہلے مقابلے برسرِ زمین ہوتے تھے‘ اس لیے شہرِ پناہ‘ قلعے اور فصیلیں بنائی جاتی تھیں تاکہ قلعوں اور فصیلوں کے اندر محفوظ رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ آج بھی لاہور‘ پشاور‘ ملتان‘ اٹک اور پوٹھوہار کے قلعوں کے نشانات موجود ہیں۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر قلعۂ خیبر فتح نہیں ہو رہا تھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا: ''کل میں جھنڈا اُس شخص کے ہاتھ میں دوں گاجس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ قلعۂ خیبر کو فتح فرمائے گا‘‘ اور پھر فاتحِ خیبر ہونے کا اعزاز شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نصیب ہوا۔ اُس وقت دشمن کو فتح کرنے کیلئے زمین دشمن کے پائوں سے چھینی جاتی تھی‘ اسی کو آج کل ''Foot on the ground‘‘ یعنی قدم برسرِ زمین کہتے ہیں۔ افغانستان میں پہلے سوویت یونین نے قدم جمائے‘ پھر بے آبرو ہوکر نکلنا پڑا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج نے قدم جمائے‘مگر پھر انہیں بھی بصد سامانِ رسوائی افغانستان سے نکلنا پڑا ۔
مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ میں پہل بھارت نے کی مگر دشمن کی سرزمین پر قدم رکھے بغیر پاکستان کی مسلّح افواج نے بھارت کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ اس کے بعد ایران پر جون 2025ء میں امریکہ اور اسرائیل نے یلغار کی‘ مگر زمین پر قدم رکھنے کی نوبت نہ آئی۔ 28 فروری 2026ء کو دوبارہ امریکہ واسرائیل نے ایران پر یلغار کی اور پھر 7 اپریل کو دو ہفتے کیلئے جنگ بندی ہوئی‘ مگر زمین پر قدم رکھنے کی نوبت پھر بھی نہیں آئی۔ الغرض اب جنگ سمندروں میں اور فضائوں میں لڑی جائے گی اور زمین سے دور مار میزائل اور راکٹ داغے جائیں گے اور یوں زمین پر قدم رکھے بغیر دشمن ممالک کو تاراج اور تہس نہس کیا جائے گا‘ جیسا کہ ہم نے غزہ اور ایران میں دیکھا اور پھر جواباً ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ڈرون اور میزائلوں سے حملے کیے۔ الغرض اب زمینی جنگ کی نوبت کم ہی آئے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے زمانوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ جائے اور انسانوں کے بجائے جنگوں میں روبوٹ کا استعمال شروع ہو جائے۔ اب یہ تصور ممکن نظر آتا ہے۔
پس آنے والی جنگیں ٹیکنالوجی کی جنگیں ہوں گی‘ اسے ہائی ٹیک کہتے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مختلف ممالک کے مواصلاتی سیارچے (Satellites) خلائوں میں تیر رہے ہیں اور زمین پر جو بھی تنصیبات‘ میزائل‘ راکٹ لانچرز اور بم ہیں‘ اپنے اہداف تک ٹھیک ٹھیک پہنچنے کیلئے اُن کو رہنمائی انہی مواصلاتی سیارچوں سے ملتی ہے۔ تمام سٹیلائٹ موبائل فون انہی کے ذریعے چل رہے ہیں۔ ان سیارچوں کو مثبت مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور جنگی مقاصد کیلئے بھی ان کا استعمال ہو رہا ہے۔ اسی طرح جو راکٹ دشمن کے داغے گئے میزائلوں اور راکٹوں کو فضا میں نشانہ بناکر تباہ کرتے ہیں اور ہدف تک پہنچنے سے روکتے ہیں‘ اُن کی رہنمائی بھی انہی مواصلاتی سیارچوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ انٹرنیٹ کا سارا نظام انہی کے بل پر کامیابی سے چل رہا ہے۔ الغرض سارے جدید تکنیکی وسائنسی نظام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی نبض انہی سیارچوں کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہے۔
پس دنیا کی برتر فوجی قوتوں کے درمیان اصل جنگ انہی سیارچوں کو ہدف بناکر گرانا ہو گا‘ کیونکہ اس کے بعد پھر سب زمین پر اتر آئیں گے اور ماضی کی طرح زمینی جنگ کی طرف آنا پڑے گا۔ لہٰذا حقیقی سپر پاور وہی قرار پائے گی جو دشمن کے سارے سیارچوں اور اطلاعاتی نظام کو آنِ واحد میں تباہ وبرباد کر سکے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران اپنے سپرسانک میزائلوں کو نشانوں تک پہنچانے اور دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے میں تب کامیاب ہوا جب اُسے روس یا چین کے سیارچوں کے ذریعے معلومات فراہم کی گئیں اور اہداف کا تعین کرنے میں مدد کی گئی‘ واللہ اعلم بالصواب۔
سو قرآنِ کریم نے قیامت کی جو علامات بتائی ہیں کہ زمین میں زلزلے آئیں گے‘ زمین اپنا بوجھ باہر نکال پھینکے گی اور اپنے اوپر بیتی ہوئی سب خبریں بتائے گی‘ آنکھیں چندھیا جائیں گی‘ چاند بے نور ہو جائے گا‘ سورج اور چاند یکجا کردیے جائیں گے‘ سورج کی بساطِ نور کو لپیٹ دیا جائے گا‘ ستارے جھڑ جائیں گے‘ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح چلائے جائیں گے‘ سمندر بھڑکا دیے جائیں گے‘ آسمان پھٹ پڑے گا‘ سمندر بہا دیے جائیں گے‘ قبریں کھول دی جائیں گی‘ ہر شخص جان لے گا جو اُس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا‘ زمین پھیلادی جائے گی اور جو اُس کے اندر ہے‘ وہ اسے باہر ڈال دے گی اور خالی ہو جائے گی اور اس طرح کی دیگر آیاتِ کریمہ موجود ہیں۔ اللہ جب چاہے گا‘ قیامت برپا ہوجائے گی‘ لیکن جس رفتار سے انسان مہلک اور تباہ کن ہتھیار تیار کر رہے ہیں‘ کوئی بعید نہیں کہ انسانوں کے اپنے ہاتھوں سے قیامت برپا ہو جائے اور یہ دنیا فنا ہو جائے۔ اس وقت وہی طاقت غالب ہے‘ جس کے پاس تباہی اور بربادی کے ہتھیار سب سے زیادہ ہیں ۔ مسابقت کی دوڑ جاری ہے‘ اس وقت اس کی قیادت اہلِ مغرب کے پاس ہے‘ لیکن کوئی بعید نہیں کہ یہ توازن بدل جائے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''ہم (عروج وزوال کے) ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں‘‘ (آل عمران: 140)۔
بعض سائنسدان یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ جتنے انسان زمین پر رہے ہیں اور زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں‘ ان کی آوازوں کی لہریں فضا میں اب بھی موجود ہیں اور ایک وقت آئے گا کہ انسان ان لہروں میں تمیز کر سکے گا اور ان آوازوں کو سن بھی سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''آج ہم اُن کے مونہوں پر مہریں لگا دیں گے‘ اُن کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور اُن کے پائوں ان اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے‘‘ (یس: 65) (2) ''اور جس دن اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف لایا جائے گا‘ پھر ان کو جمع کیا جائے گا حتیٰ کہ جب وہ دوزخ کی آگ تک پہنچ جائیں گے تو اُن کے کان‘ اُن کی آنکھیں اور اُن کی کھالیں اُن کے خلاف اُن کرتوتوں کی گواہی دیں گے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے‘ وہ (حیرت زدہ ہوکر) اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی‘ وہ جواب دیں گی: ہمیں اُسی اللہ نے گویائی بخشی جس نے ہرچیز کو گویا کر دیا اور اُسی نے ان کو پہلی بار پیدا بھی کیا تھا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے‘‘ (حم السجدہ: 19 تا 21)۔ الغرض اپنے اعمال واقوال اور حرکات وسکنات کو محفوظ کرنے کے سامان بھی خود انسان پیدا کر رہا ہے اور حالیہ جنگوں سے ثابت ہوا کہ وہ وقت دور نہیں کہ کسی کی کوئی بات یا کوئی کیفیت یا کوئی حالت دوسروں سے پوشیدہ نہیں رہے گی اور سب کچھ عیاں ہو جائے گا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک عالمی نظام قائم ہوا‘ اقوامِ متحدہ وجود میں آئی‘ پندرہ ارکان پر مشتمل سکیورٹی کونسل میں پانچ مستقل ارکان مقرر کیے گئے اور انہیں حقِ تنسیخ دے دیا گیا۔ یہ امریکہ اور سوویت یونین پر مشتمل دو قطبی (Bipolar) نظام تھا‘ پھر سوویت یونین کے زوال کے بعد یک قطبی (Unipolar) نظام وجود میں آیا اور امریکہ واحد سپر پاور بن گیا۔ اب حالیہ جنگوں کے بعد ایسا لگتا ہے کہ دنیا کثیر القطبی (Multipolar) نظام کی طرف جا رہی ہے اور چین تیزی سے سپر پاور بننے کی طرف گامزن ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved