تین مغل بادشاہ ایسے ہو گزرے ہیں جن کا ذکر ادب پاروں میں اب بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن ان تینوں کے ذکر واذکار کے حوالے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ان میں سے آگرہ کے ایوانِ عشق‘ تاج محل کے علاوہ شہاب الدین محمد خرم المعروف شاہ جہاں کی دوسری وجہ شہرت بھی ہے۔ لیکن ان دونوں حوالوں پر نظامِ بادشاہی کے خاتمے کے بعد حریت پسند شاعروں نے ایسی طبع آزمائی کی جس نے ادبی دنیا میں بادشاہ کو برباد کر ڈالا۔
شاہ جہاں کے پہلے شاہکار‘ تاج محل پر ایسے شاعر نے لفظی حملہ کیا جس کا ابتدائی زمانہ لدھیانہ میں گزرا۔ پھر وہ لاہور آ گئے۔ مگر لاہور کے کچھ شاہ پرست حلقوں سے ساحر لدھیانوی کا نباہ نہ ہو سکا؛ چنانچہ ان کا مستقل مستقر پھر سے بھارت ٹھہرا۔ تاج محل پر تاج محل کے عنوان سے ترقی پسند ساحر لدھیانوی نے طبقاتی نظریات کا یہ ڈرون چلایا۔
یہ چمن زار‘ یہ جمنا کا کنارا‘ یہ محل
یہ منقّش در و دیوار‘ یہ محراب‘ یہ طاق
اِک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے مذاق
مغل بادشاہوں کے زمانے تو لد گئے‘ جو اپنے دور کے غریبوں کی محبت کا مذاق اُڑایا کرتے تھے مگر اُن کی جگہ اب شغلیہ بادشاہوں نے لے لی ہے۔ جو محبت کے بجائے سیدھے سیدھے غریبوں کا مذاق اُڑاتے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام کی بھد بھی اُڑا رہے ہیں جس کا تازہ ثبوت معرکہ لوڈ شیڈنگ کا آغاز ہے۔ انرجی کی دنیا کے ایک بڑے رازدان کا کہنا ہے ہائبرڈ نظام کو مشورہ یہ دیا گیا کہ لوگ آئی پی پیز کو نقصان پہنچانے کے لیے سولر پینل سے ملنے والی قدرتی بجلی کو مِس یوز کر رہے ہیں اس لیے پیک آور ٹائم میں پھر سے لوڈ شیڈنگ برپا کر دی جائے۔ بات ہو رہی تھی شاہ جہاں کی جس کے بارے میں کچھ مقامی زبانوں‘ اُردو‘ سنسکرت اور ہندی کی روایتوں میں سے ایک عجیب روایت یہ ہے کہ شاہ جہاں کے عہد میں کچھ اعلیٰ درباری فنکار جھوٹ کا سالانہ مقابلہ کرواتے تھے۔ جو کوئی سب سے بڑا جھوٹ بولتا ''شاہ جہانی کوڑا‘‘ کا ٹائٹل مل جاتا۔ ''کوڑ‘‘ کئی مقامی زبانوں میں جھوٹ کو کہتے ہیں۔ ملک کے جنرل الیکشن 2024ء کی انتخابی مہم یاد آ گئی ہے۔ پی ڈی ایم سیریز ون اور پی ڈی ایم دوسری سیریز کی دو بڑی برسرِ اقتدار پارٹیوں کے لیڈروں نے بجلی سستی کرنے کا آئندہ کا پنج سالہ منظر نامہ یوں کھینچا۔ (ن) لیگ کی کمپین لیڈ کرنے والوں نے‘ لیڈر کی وڈیو نکال کر دیکھ لیں‘ ایک جلسے میں جاری دور کے بارے میں بجلی مفت دینے کا وعدہ ان لفظوں میں کیا کہ جو بھی پنجاب کے خاندان سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں اُن کو کبھی بھی بجلی کا بل نہیں آئے گا‘ غریب کا پنکھا بھی چلے گا‘ اس کی لائٹ بھی جلے گی اور میں نے سنا ہے اس کا فریج بھی چلے گا لیکن مہینے کا بِل نہیں آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا ''ہم تھر کول سے کوئلے کی بجلی بھی بناتے ہیں اس لیے آپ ہمیں ایک اور موقع دیں ان شاء اللہ آپ کا عوامی حکومت آپ کو تین سو یونٹ فری میں دے گا اور کوئی بل نہیں بھیجے گا‘‘۔ شاہ جہانی کوڑے سے ایک اور بات یاد آتی ہے‘ جن خاندانوں کی دوسری اور تیسری نسل نے عوام سے مفت بجلی پر ووٹ مانگا تھا عوام نے انہیں ووٹ دینے سے انکار کیا۔ پھر فارم 47 نے الیکشن فتح کر لیا۔ہارے ہوئے لشکر نے جونہی ہارا ہوا الیکشن فتح کیا ساتھ آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز کی فتوحات کا نیا آغاز ہو گیا۔ جن کی وجہ سے وزیرِ توانائی نے ایک انتہائی کنفیوژن زدہ پریس کانفرنس میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا انتہائی بدترین دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اس وقت ملک بھر کے سوشل میڈیا صارفین کروڑوں کی تعداد میں میمز اور تبصروں کی صورت میں بجلی مفت کرنے کے شاہ جہانی کوڑ مسلسل ایکسپوز کر رہے ہیں۔ مسئلہ توانائی کے حوالے سے دو حقائق انتہائی چشم کشا ہیں۔ توانائی کے بحران پر دو سوال دیکھنے کے قابل ہیں۔
معرکہ توانائی پر چشم کشا سوالِ اول: اب اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ بجلی کا بحران حکومتی بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عوام 46 ہزار میگا واٹ پر بجلی گھروں کو کیپیسٹی چارجز دینے پر مجبور ہیں۔ وہ بھی پاکستانی روپے میں نہیں بلکہ امریکی ڈالروں میں۔ بجلی پھر بھی کیوں نہیں مل رہی؟ گھریلو اور کمرشل بجلی استعمال کرنے والوں کو سات سے 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ گرمی کا ابھی آغاز ہی ہوا کہ بجلی کا شارٹ فال چار ہزار 90میگاواٹ سے بڑھ چکا ہے۔ پیک آورز کے دوران بھی بجلی کی طلب 20 ہزار 520میگاواٹ ہے۔ جبکہ بجلی کی پیداوار 13ہزار 558میگا واٹ ہے۔ ایک سابق وزیرِ توانائی نے بتایا: جون سے اگست کے دوران بجلی کی ڈیمانڈ 20 سے بڑھ کر 30 سے 33ہزار میگاواٹ تک جا پہنچے گی۔ اگر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا دعویدار ہائبرڈ رجیم آج بجلی کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہا تو جون سے اگست کے مہینے تک یہ ڈیمانڈ کس جادوئی چھڑی سے پوری کی جائے گی؟
معرکہ توانائی پر چشم کشا سوالِ دوم: کیا ہائبرڈ سرکار دو حقیقتوں سے انکار کر سکتی ہے؟ پہلی‘ گیس کی ناقص‘ من پسند‘ سیاسی اور نان ٹرانسپیرنٹ تقسیم کی وجہ سے گیس پاور پلانٹس کو استعمال ہی نہیں کیا جا رہا۔ دوسری‘ یہ پاور پالیسی اور حکومتی پاور سیکٹر کی ناکامی ہے کہ پن بجلی کا سستا منصوبہ نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ بھوت بنگلہ بن گیا ہے اور اس پر تالے پڑے ہیں۔ لوڈ مینجمنٹ ہر علاقے میں اپنی مرضی سے کی جاتی ہے۔ بجلی چور خوشحال اور ناجائز بل دینے والے عوام بدحال وبے حال۔
کشتیاں غرقاب‘ طوفاں تیز‘ موجیں بے لگام
پنجۂ گرداب‘ قہرِ ناخدا ہے دوستو
دل شکن حالات پر موقوف ہے اس کا جواب
کون کس کا اس سفر میں راہنما ہے دوستو
بات بنتی ہے تو عرضِ مدعا ہم بھی کریں
کوئی اپنا بھی یہاں درد آشنا ہے دوستو
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved