تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     20-04-2026

سرمایہ کاری‘ توانائی اور برآمدات کے اثرات

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دورۂ امریکہ کے دوران امریکی محکمہ خزانہ کے حکام سے ملاقات کی ہے جس میں توانائی‘ معدنی وسائل‘ مالیاتی نظام کی بہتری اور منی لانڈرنگ ودہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام پر بات چیت ہوئی۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے بھی ملاقات کی گئی جس میں مزید فنڈنگ کے امکانات پر بات ہوئی جبکہ منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار پر بھی غور کیا گیا۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی حکمت عملی کا بڑا حصہ بیرونی ذرائع پر انحصار کر رہا ہے‘ یعنی قرض اور عالمی اداروں کے تعاون پر زیادہ توجہ ہے۔ یہ حکمت عملی مختصر مدت میں ضروری بھی ہو سکتی ہے‘ خاص طور پر اس وقت جب ملک کو مالی دباؤ کا سامنا ہو۔ لیکن ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ صرف قرضوں سے معیشت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ اصل بہتری اس وقت لائی جا سکتی ہے جب اندرونی پیداوار‘ برآمدات اور ٹیکس بیس میں اضافہ ہو۔ اگر یہ بنیاد مضبوط نہ ہو تو بیرونی فنڈنگ وقتی سہارا تو دے سکتی ہے مگر مستقل حل نہیں بن سکتی۔ اس وقت پاکستان کے لیے بیرونی مالی تعاون کے ساتھ ساتھ اندرونی معیشت خاص طور پر صنعت‘ زراعت اور برآمدات کو مضبوط کرنا بڑا چیلنج دکھائی دیتا ہے۔ دونوں پہلوؤں میں توازن ہی طویل مدتی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ان حالات میں اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد 500 ملین ڈالر کا تین سالہ یورو بانڈ جاری کیا ہے۔ شاید عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت پر اعتماد کچھ بہتر ہوا ہے۔ پاکستان نے 2022ء کے بعد سے براہ راست بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں کوئی بڑا اجرا نہیں کیا تھا‘ اس دوران زیادہ تر انحصار عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے قرضوں پر رہا۔ اس مرتبہ اس بانڈ پر مثبت رسپانس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستان کے قرضے لینے میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ عالمی مالی منڈی میں کسی بھی ملک کی ساکھ اسی سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے بانڈز کتنی آسانی سے فروخت ہوتے ہیں۔ ایسے اقدامات سے پاکستان کو اپنے قرضوں کا معیار قائم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مستقبل میں پانڈا بانڈ‘ سکوک اور چینی مارکیٹ میں بانڈ جاری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ پیش رفت بھی ایک مثبت اشارہ ہے کہ پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں دوبارہ جگہ مل رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ قرض ہے آمدن نہیں اور نہ ہی یہ ایسی سرمایہ کاری ہے جس سے ملک میں روزگار بڑھے اور جی ڈی پی میں بہتری آئے۔ ایسی سرمایہ کاری کے حوالے سے حکومت کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔
پاکستان میں یورپی یونین کی جانب سے تجارتی سرمایہ کاری کے نئے آپشن بھی سامنے آئے ہیں لیکن یورپی حکام کے مطابق فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے اور اگر یہ تاخیر زیادہ بڑھی تو یہ موقع کسی اور ملک کی طرف جا سکتا ہے۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جہاں سے پاکستان کو سالانہ تقریباً آٹھ ارب ڈالر کی آمدن ہوتی ہے جو کل برآمدات کا تقریباً 28 فیصد ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں یورپی کمپنیوں کی تعداد بہت کم‘ چند سو کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں دیگر ممالک میں یہ تعداد ہزاروں میں ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے مکمل طور پر پُرکشش ماحول نہیں بنا سکا اور حکومت کا فوکس بدستور قرضوں پر ہے۔ اسی تناظر میں یورپی یونین کی کاوش سے یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان بزنس فورم منعقد کیے جانے کی اطلاع ہے جس میں بڑی یورپی کمپنیوں کے نمائندے شرکت کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اعتماد کو بہتر کیا جا سکے اور قرضوں کے بجائے حقیقی سرمایہ کاری کے نئے راستے تلاش کیے جا سکیں۔ سرمایہ کار صرف دعوت پر نہیں آتے وہ استحکام اور یقین دیکھتے ہیں۔ اگر پالیسی میں تسلسل ہو‘ فیصلے تیز ہوں اور کاروباری ماحول آسان ہو تو سرمایہ کاری خود بخود بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر غیر یقینی صورتحال برقرار رہے تو بڑے مواقع بھی صرف بات چیت تک محدود رہ سکتے ہیں۔
پاکستان کا پاور ڈویژن معیشت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ملک میں تقریباً 45 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ طلب عموماً 25 سے 28 ہزار میگاواٹ تک ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں 17 سے 20 ہزار میگاواٹ کا اضافی فرق موجود ہے۔ اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے‘ جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ پاور ڈویژن ایک وضاحت یہ دیتا ہے کہ لوڈشیڈنگ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم کرنے اور بجلی کے نرخوں میں تیزی سے اضافے کو روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ لیکن یہ دلیل کمزور دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہ قیمت اور لاگت کے فرق کو نظر انداز کرتی ہے۔ جب دستیاب بجلی کو بند کیا جاتا ہے تو لاگت ختم نہیں ہوتی بلکہ صرف اس کی ترتیب بدل جاتی ہے۔ کیپیسٹی پیمنٹس‘ جو اَب دو کھرب روپے سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں‘ پلانٹس بند کرنے سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ جاری رہتی ہیں۔ 2006ء سے پہلے پاور سیکٹر میں گردشی قرضہ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا لیکن اس کے بعد یہ بڑھتے بڑھتے آج تقریباً دو کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے‘ جبکہ توانائی کے مجموعی شعبے (بجلی اور گیس) کا قرض پانچ کھرب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ کسی ایک بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل غلط پالیسی کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔ گردشی قرضہ تقریباً 15 فیصد سالانہ کی شرح سے دو دہائیوں تک بڑھتا رہا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2030ء تک یہ آٹھ کھرب روپے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال کسی جنگ یا قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل نظامی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان میں خوراک کے شعبے کی صورتحال اس وقت واضح طور پر تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کا فوڈ امپورٹ بل 15.22 فیصد بڑھ کر 7.09 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں خوراک کی برآمدات 33.90 فیصد کم ہو کر 3.80 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ اس طرح درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ اضافہ زیادہ تر چینی‘ خوردنی تیل اور دالوں کی درآمدات کی وجہ سے ہوا ہے۔ حکومت نے بعض اوقات مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور کمی پوری کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے زیادہ خریداری کی ہے۔ پام آئل اور چینی کی درآمد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چینی کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مقامی سطح پر پیداوار اور سپلائی میں مسائل موجود ہیں۔ اسی طرح دالوں اور دیگر خوردنی اشیاکی درآمد بھی بڑھ گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک اپنی کچھ بنیادی ضروریات کے لیے بیرونی سپلائی پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ دوسری طرف خوراک کی برآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ چاول کی برآمدات خاص طور پر کم ہوئی ہیں جو پاکستان کی ایک اہم زرعی ایکسپورٹ ہے۔ سبزیوں اور کچھ دیگر زرعی مصنوعات کی برآمد بھی کم ہوئی ہے۔ ان کے مقابلے میں گوشت اور پھل کی برآمد میں معمولی اضافہ ہوا ہے‘ لیکن یہ مجموعی کمی کو پورا نہیں کر سکا۔ اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں۔ زرعی پیداوار میں مشکلات‘ پانی کی کمی‘ پیداواری لاگت اور جدید ٹیکنالوجی کا کم استعمال ان میں سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ برآمدات کے معیار اور ویلیو ایڈیشن میں بھی مسائل موجود ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ درآمدات بڑھ رہی ہیں اور برآمدات کم ہو رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو تجارتی توازن پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved