انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے بااثر لوگوں کا ایک طبقہ کمزور لوگوں کو دبانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اسی طرح قرابت داروں کے حق میں بات کرنے کا چلن بھی انسانی سماج کا حصہ رہا ہے۔ دشمن کے بارے میں غلط گفتگو کرنا اور اس کے عیوب کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا بھی معاشروں میں کوئی نئی بات نہیں‘ حالانکہ یہ تمام باتیں انتہائی نامناسب ہیں اور اس حوالے سے کتاب وسنت کی تعلیمات بالکل واضح ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ انہیں اپنے یا اپنے قرابت داروں کے حق میں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو خلافِ عدل ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 135 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودیٔ مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جائو‘ گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا تمہارے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے (خلاف ہو)‘ وہ شخص اگر امیر ہو یا فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے‘ اس لیے تم خواہشِ نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں جو اصول بیان کیا گیا ہے وہ بیک وقت سماج اور قانون کے حوالے سے اتنہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نہ تو انسان کو سماجی معاملات وتنازعات میں حق بات کو چھپانا چاہیے اور نہ ہی قانونی حوالے سے ایسی گفتگو کرنی چاہیے جس میں حقیقت کو مسخ کر کے اپنے اعزہ واقارب کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہو۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں اس حقیقت کو بھی بیان کر دیا کہ انسانوں کو اپنے مخالفوں کے بارے میں بھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو خلافِ حقیقت ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 8 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جائو‘ راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو‘ کسی قوم کی عداوت تمہیں خلافِ عدل پر آمادہ نہ کر دے‘ عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ یقین مانو کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں جو اصول بیان کیا گیا ہے وہ بھی بیک وقت سماجی اور قانونی اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر انسان اس حد تک عادل ومنصف ہو جائے کہ وہ اپنے دشمن کے بارے میں بھی غلط گفتگو سے گریز کرے اور اس کے خلاف بھی باطل گواہی دینے پر آمادہ وتیار نہ ہو تو معاشرے میں امن اور خیر کو اس حد تک تقویت مل سکتی ہے کہ عام انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے عدل کی اہمیت کو اس لیے بہت زیادہ اجاگر کیا کہ انسان نہ تو کسی کے حق میں غلط بات کرے اور نہ ہی مخالف کی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ان رویوں کو اختیار کر لیا جائے تو معاشرے میں بہت سے تنازعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے قرابت داروں کو نوازنے کیلئے غلط بیانی سے کام لیتے‘ اسی طرح بہت سے لوگ اپنے مفادات کے حصول کیلئے اپنے دشمنوں کی کردار کشی کرتے ہیں‘ جبکہ یہ بات کسی بھی طور پہ اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیث طیبہ میں بھی عدل کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (1) انصاف کرنے والا حاکم‘ (2) وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو‘ (3) وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے‘ (4) دو ایسے افراد جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں‘ اسی پر وہ جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے‘ (5) ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ (6) وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور (7) وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوئوں سے بہنے لگ جائیں۔ صحیح بخاری ہی میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی‘ اس نے میری نافرمانی کی۔ امام (امیر) کی مثال ڈھال جیسی ہے کہ اس کے پیچھے رہ کر اس کی آڑ میں (یعنی اس کے ساتھ ہو کر) جنگ کی جاتی ہے اور اسی کے ذریعے (دشمن کے حملے سے) بچا جاتا ہے‘ پس اگر امام تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دے اور انصاف کرے اس کا ثواب اسے ملے گا‘ لیکن اگر بے انصافی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہو گا‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حکام کو لوگوں کے درمیان انصاف کرنا چاہیے۔ جو حاکم اور عہدیدار انصاف کرے گا وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اجر کا حقدار ہوگا اور اس کے مدمقابل جو حاکم اور عہدیدار ناانصافی کرے گا اور اپنے اختیار کا غلط استعمال کرے گا اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
صحیح بخاری میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ ''میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا تو (حضرت نعمانؓ کی والدہ) عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب تک رسول اللہﷺ کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ (حاضر خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپﷺ کو اس پر گواہ بنا لوں‘ رسول کریمﷺ نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں‘ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو؛ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سماجی سطح پر والد اور سرپرست کو اپنی اولاد اور ماتحتوں کے ساتھ بھی انصاف سے کام لینا چاہیے اور والدین کو اپنی اولاد کے درمیان ہدیہ یا عطیہ دیتے ہوئے کوئی تفریق نہیں کرنی چاہیے۔
احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بااثر مجرم یا عام مجرم کے درمیان تفریق کی اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی‘ قریش نے (اپنی مجلس میں) سوچا کہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے؟ کوئی اس کی جرأت نہیں کر سکتا تھا‘ آخر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آنحضرتﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔ اگر آج (بفرض محال) میری بیٹی فاطمہ نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔
مذکورہ بالا آیات اور احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں عدل وانصاف کا حکم دیتا ہے۔ اگرعدل وانصاف کو معاشرے میں قائم کر دیا جائے تو معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے اور معاشرے میں بسنے والے لوگ امن اور اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے معاشرے کو عدل وانصاف کا گہوارہ بنائے تاکہ ہر شخص کو اس کے جائز حقوق صحیح طور پر میسر آ سکیں اور بدامنی اور بے سکونی کا خاتمہ ہو سکے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved