حال ہی میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا مشکل فیصلہ کیا کیونکہ اس نے قرض کی مدت میں مزید توسیع کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس ادائیگی میں تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک میں رکھے گئے ڈپازٹس اور پچاس کروڑ ڈالر کا دو طرفہ قرض شامل تھا۔ تاہم یہ عمل اس لیے ممکن ہوسکا کہ سعودی عرب نے فوری طور پر مزید تین ارب ڈالر کے ڈپازٹس سٹیٹ بینک آف پاکستان میں بھجوا دیے۔ یوں وقتی طور پر ایک ممکنہ بحران ٹل گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیرونی اور اندرونی قرضوں کی واپسی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی ذمہ داری اور مسئلہ بن چکی ہے۔ ہر سال قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہماری یہ صلاحیت بھی محدود ہوگئی ہے کہ ہم اپنے معمول کے اخراجات بھی پورے کرسکیں۔ اس تشویشناک صورتحال کا ایک سبب تو یہ ہے کہ قرض کی واپسی کی قسط کا حجم بہت بڑا ہوچکا ہے۔ دوسرا‘ اب آئی ایم ایف بھی اس معاملہ پر تشویش ظاہر کر رہا ہے حالانکہ وہ اب بھی ہمارے قرض کو قابلِ برداشت سمجھتا ہے۔ فنڈ کا پاکستان کے جاری پروگرام کی پہلی جائزہ رپورٹ میں کہنا تھا کہ ''خود مختار مالی دباؤ کا مجموعی خطرہ بہت زیادہ ہے‘ جو زیادہ قرض‘مجموعی مالی ضروریات کی زیادتی اور کم زرِ مبادلہ ذخائر کی وجہ سے شدید کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
کسی بھی حکومت کا قرض لینا کوئی غیرمعمولی بات نہیں بشرطیکہ یہ قرض پیداواری معیشت کیلئے حاصل کیا جائے کیونکہ اس سے متعدد مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ فضول اخراجات اور کم ترجیح کے حامل اور ناقص منصوبہ بندی والے منصوبوں کیلئے قرض لیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مجموعی سرکاری قرض سرکاری محصولات کے 650فیصد کے برابر ہو چکا ہے‘ جبکہ ایک درجن سے زیادہ تقابلی ممالک کیلئے یہ اوسط 214فیصد ہے۔ اسی طرح ہمارا بیرونی قرض ہماری اشیا اور خدمات کی برآمدات کے 265فیصد کے برابر ہو چکا ہے جبکہ تقابلی ممالک کیلئے یہ اوسط 64فیصد ہے۔
آزادی کے بعد پہلے 67برسوں میں جتنا بیرونی قرض لیا گیا تھا پچھلے تقریباً سات برسوں میں یہ دُگنا ہو گیا ہے اور اب تقریباً 138ارب ڈالر (مجموعی قومی پیداوار کا 34 فیصد) تک پہنچ چکا ہے۔ اس قرض کا تقریباً 22 فیصد ایک سال سے کم مدت میں واپس کرنا ہے۔ 32فیصد بیرونی قرض دو سے پانچ برس کے درمیان ادا کرنا ہے اور 22 فیصد دس برس سے زیادہ مدت کیلئے ہے۔ ہماری معیشت مستقبل قریب میں واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کیلئے وسائل پیدا کر لے‘ اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ اس گمبھیر صورتحال میں بہتری کا امکان اس بات پر منحصر ہے کہ قرضوں کو ایسی سطح پر لایا جائے جن کی واپسی کا آسانی سے بندوبست کیا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ اس بیرونی قرض کی ری سٹرکچرنگ کیلئے ممکنہ راستے کیا ہیں؟
سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قرض کی ری سٹرکچرنگ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس کیلئے کوئی فوری ہنگامی حل یا مختصر راستہ موجود نہیں۔ قرض کی واپسی میں رعایت حاصل کرنا عموماً ایک تلخ تجربہ ہوتا ہے جس میں تکلیف دہ پالیسی اقدامات کرنا پڑتے ہیں‘ خاص طور پر ایسے اقدامات جو کم آمدن والے گھرانوں کیلئے مشکل ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً 30کم آمدنی والے ممالک بھاری قرض کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں سے اب تک کم و بیش بارہ ممالک نے ری سٹرکچرنگ کی کوشش کی ہے۔ ان کی قرض خواہوں کے ساتھ بات چیت کم و بیش ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ زیمبیا کی مثال ہمارے لیے سبق آموز ہے جہاں دو برس کے بعد صرف 34فیصد قرض کی تنظیمِ نو کیلئے معاہدہ ہوا‘ لیکن اس شرط پر کہ قرض دینے والی نجی پارٹیاں بھی ایسا نقصان برداشت کرنے پر رضامند ہوں۔
غیر ملکی واجب الادا ادائیگیوں کی تین شکلیں ہیں: غیر ملکی قرضے بشمول ڈپازٹس‘ غیرملکی سرمایہ کاری (جیسے آئی پی پیز)‘ اور کرنسی کا تبادلہ یا کرنسی سویپ‘ جو اس وقت صرف چینی کرنسی یوآن میں ہے اور یہ بھی قرض کی ایک شکل ہے۔ ہمارے بیرونی حکومتی اور حکومت کے ضمانت یافتہ قرض کا نصف سے زیادہ حصہ کثیر فریقی اداروں یعنی آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا ہے۔ اس قرض کا ایک بڑا حصہ رعایتی شرح سود پر ہے۔ اس وجہ سے ہمیں ان اداروں کا قرض سب سے پہلے واپس کرنا ہوتا ہے۔ ان قرضوں کی واپسی موجودہ نظام کے تحت مؤخر نہیں کی جا سکتی۔ مجموعی بیرونی قرض میں دو طرفہ غیرملکی قرض (بشمول ڈپازٹس) کا حصہ تقریباً 40فیصد ہے‘ یعنی ایسے قرضے جن کا لین دین پاکستان اور کسی دوسرے ملک کے درمیان براہِ راست ہوا۔ اس کے بعد سات فیصد کمرشل قرض باقی رہ جاتا ہے۔ دو طرفہ چینی قرضوں کی شرائط و ضوابط مکمل طور پر شفاف نہیں۔ اب تک چین ادائیگی کا وقت آنے پر قرض کی تجدید کرتا رہا ہے (تقریباً آٹھ ارب امریکی ڈالر) لیکن وہ اپنے قرضوں پر نقصان قبول کرنے کیلئے تیار نہیں لگتا۔ ایک اور پیچیدگی یہ ہے کہ چینی قرض دینے والے اداروں کو کس زمرے میں رکھا جائے: انہیں قرض کہا جائے یا سرمایہ کاری۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے کہ کرنسی تبادلوں اور سٹیٹ بینک میں چین اور سعودی عرب کے ڈپازٹس کے معاملے میں ترجیحی درجہ بندی کے اصول کو کیسے لاگو کیا جائے۔ مزید برآں‘ یہ واضح نہیں کہ حکومت کے ضمانت یافتہ نجی سرمایہ کاری کے معاہدوں (مثلاً بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز) کو قرض دہندگان کی درجہ بندی میں کس درجے پر رکھا جائے‘ یعنی پہلے ڈپازٹس رکھنے والوں کو ادائیگیاں کرنا ہیں یا سرمایہ کاری کرنے والوں کو۔
سری لنکا کے حالیہ قرض کی تنظیمِ نو کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے قرض دہندگان کے ساتھ مساوی سلوک کے اصول پر عمل کرنا ضروری ہے‘ یعنی آئی ایم ایف کے قرض کی پائیداری کے اصول کے مطابق سب قرض دینے والوں کو نقصان برداشت کرنے کے عمل میں شریک ہونا ہوگا۔ اس لیے بھی ملک کا آئی ایم ایف کے پروگرام میں موجود ہونا ضروری ہے۔ تاہم‘ بیرونی قرض میں کمی یا اس کی تنظیمِ نو کیلئے کوشش کرنے کے قابل ہونے کیلئے بھی قرض دہندگان کے سامنے ایک مؤثر مقدمہ پیش کرنا ہو گا‘ اور اس کے لیے ضروری ہوگا کہ (الف) بطور پیشگی شرط ہم اپنی دیرینہ بنیادی اصلاحات کا منصوبہ پیش کریں جسے ہم نافذ کریں گے تاکہ قرض دہندگان کو یہ دکھایا جا سکے کہ ہم پُرعزم ہیں کہ ایسے حالات دوبارہ پیش نہ آئیں جن کے سبب قرض میں رعایت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ (ب) اسی نوعیت کی اصلاحات اندرونی قرض کی ری سٹرکچرنگ کیلئے بھی کرنا ہوں گی۔
اندرونی قرض کا معاملہ بیرونی قرض جتنا ہی سنگین ہے۔ اس قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے سالانہ بجٹ میں مختص رقوم کا 90فیصد استعمال ہو جاتا ہے۔ اس کام کیلئے مجموعی قومی پیداوار کے سات فیصد سے زیادہ بنیادی بچت درکار ہوتی ہے۔ چونکہ بینک ایک دیوالیہ قرض لینے والی پارٹی (یعنی حکومت) کو سب سے زیادہ قرض دیتے ہیں‘ اس لیے انہیں بھی اس بوجھ کو برداشت کرنا ہوگا۔ اس قرض میں کمی کیلئے ایک تدریجی حکمتِ عملی درکار ہوگی۔ یہ کام کرنے کیلئے افراطِ زر سے کم شرحِ سود‘ مثلاً دو سال کیلئے سود کی ادائیگی پر پابندی یا معطلی‘ مدتِ ادائیگی میں توسیع‘ حتیٰ کہ قرض کی اصل رقم میں کچھ کمی شامل ہو سکتی ہے۔ اصل رقم میں نمایاں کمی سے بینکوں کے سرمائے کی بنیاد کمزور ہو جائے گی‘ اس بنیاد کی بحالی کیلئے ممکنہ طور پر انہیں رعایتی شرحوں پر قرض دینا ہوگا یا؍اور سٹیٹ بینک کے ان احتیاطی ضوابط میں عارضی نرمی کرنا ہو گی جو سرمائے کی کفایت (یعنی بینک کم سے کم کتنا سرمایہ اپنے پاس لازمی رکھیں)سے متعلق ہیں۔ آخری آپشن اگرچہ آئیڈیل نہیں‘ لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ بینکوں کی آمدن پر زیادہ شرح سے ٹیکس عائد کر دیا جائے۔
آخر میں کہنا چاہوں گا کہ معیشت کو درپیش سنگین چیلنجز کے پیش نظر اہلِ اقتدار کے پاس ایسی حکمتِ عملی بنانے کیلئے گنجائش کم ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved