جنرل امیر عبداللہ خان نیازی سے بعد کے زمانے میں بھی بہت یادگار ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس سلسلے کی ایک ملاقات لاہور کینٹ میں ایک تقریبِ نکاح میں ہوئی۔ مجھے اس میں جماعت کے بزرگ رکن نواز خان ترین مرحوم نے نکاح پڑھانے کیلئے دعوت دی تھی۔ دلہا ان کے رشتہ داروں میں سے تھا۔ دلہن جنرل نیازی کی نواسی بتائی گئی تھی۔ نواز خان صاحب کے ساتھ جب میں تقریب میں پہنچا تو سٹیج پر جنرل نیازی صاحب اپنی معمول کی شان کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ علیک سلیک کے بعد جنرل صاحب کو معلوم ہوا کہ میں جماعت کا کوئی ذمہ دار ہوں تو بہت احترام کے ساتھ پیش آئے۔ پھر انہوں نے اپنے فوجی کیریئر کے بعد سیاسی سفر کا مختصر تذکرہ کیا جب وہ جمعیت علمائے پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔ کچھ ہی عرصے کے بعد وہاں سے جی بھر گیا اور جمعیت علمائے پاکستان چھوڑ دی۔ پھر مجھ سے کہنے لگے کہ جماعت اسلامی میں پروفیسر غفور احمد میرے اچھے دوست ہیں مگر انہوں نے میرے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ میں نے پوچھاکیا تعاون نہیں کیا؟ کہنے لگے: میں نے ان سے کہا تھاکہ میں جماعت میں آنا چاہتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ مجھے مرکز میں کوئی منصب دیا جائے۔ پروفیسر صاحب نے مجھے مایوس کیا کہ جماعت میں مشروط داخلے کی گنجائش نہیں۔ جنرل صاحب کی بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی اور میں نے عرض کیا: جنرل صاحب! پروفیسر صاحب نے بالکل ٹھیک کہا۔ جماعت میں کوئی بھی آدمی اس طرح نہ آیا ہے نہ آئندہ آنے کا امکان ہے۔ جماعت کا طے شدہ اصول وضابطہ ہے‘ اسکے مطابق لوگ آتے ہیں اور جن میں صلاحیت ہوتی ہے وہ آگے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جنرل صاحب کو یہ بات اچھی نہ لگی۔
ابھی بارات کے آنے میں کچھ دیر تھی‘ اس لیے مزید باتوں کا تذکرہ شروع ہو گیا۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ جب میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھا تو جماعت کا ایک لڑکا حکومت کے خلاف تقریر کرنے پر گرفتار ہوا تھا۔ اس کے امتحان کا مسئلہ میرے سامنے آیا تو میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا مگر جماعت کے لوگوں نے مجھے حلف دیا کہ وہ طالبعلم بی اے میں گولڈ میڈلسٹ ہے اور اب اس کا ایم اے کا امتحان ہے کہ اسے پولیس نے ایک کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ آپ بتائیں کہ جماعت والوں کی اس بات میں کتنی صداقت تھی؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا: محترم جنرل صاحب! وہ بات سو فیصد درست تھی۔ ویسے بھی وہ کوئی جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان سے آپ جیسی عظیم شخصیت کی طرف سے حلف لیا جائے گا تو کیسے جھوٹ بولیں گے؟باتوں ہی باتوں میں جنرل صاحب سے میں نے عرض کیا کہ اگر کبھی آپ کی اس طالبعلم سے ملاقات کرا دی جائے تو کیسا رہے؟ کہنے لگے کہ کوئی حرج نہیں‘ مجھ سے رابطہ کر کے ٹائم لے لو اور ملاقات کرا دو۔ اس دوران بارات آ گئی۔ رجسٹرار نے فارم پُر کیے اور نواز ترین صاحب نے اعلان کیاکہ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نکاح پڑھائیں گے۔ نکاح کے بعد کھانے کی میز پر ہم بیٹھے تھے۔ ظاہر ہے نیازی صاحب کو اس طالبعلم کا نام کہاں یاد رہا ہو گا جس کے امتحان میں انہوں نے مدد کی تھی۔ اب میں نے کہا: جنرل صاحب! اگر اس درخواست گزار طالبعلم سے ابھی ملاقات ہو جائے تو کیسا رہے؟ کہنے لگے: وہ یہاں موجود ہے؟ میں نے کہا: نہ صرف موجود ہے بلکہ آپ سے کافی دیر سے ہم کلام ہے۔ اس پر انہوں نے خوشگوار قہقہہ لگایا اور کہا: آپ تو جماعتیے ہیں پھر آپ نے اتنا سسپنس کیوں پیدا کیا؟ میں نے کہا: بس آپ سے کچھ مزید باتیں کرنے کو جی چاہ رہا تھا۔
جنرل صاحب نے مجھ سے پوچھا: آپ جماعت میں کیا کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ تنظیمی‘ دعوتی‘ تربیتی اور سیاسی امور ومعاملات کے ساتھ کچھ لکھنے پڑھنے کا کام بھی کرتا ہوں اور سیرتِ نبویﷺ‘ سیرتِ صحابہ کرامؓ کے ساتھ افسانہ نویسی اور سفر نامے لکھنا بھی میرا خاص موضوع اور مشغلہ ہے۔ یہ سن کر انہوں نے پوچھا: مؤرخین لکھتے ہیں کہ جنگ موتہ میں تین ہزار مسلمانوں نے ایک لاکھ سے زیادہ رومیوں کو شکست دی تھی۔ کیا آپ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی! نہ صرف تسلیم کرتا ہوں بلکہ اس پر میرا ایمان ہے اور حسنِ اتفاق سے میں اُن دنوں سیرت کا یہی حصہ لکھ رہا ہوں جو ان شاء اللہ عنقریب چھپ جائے گا۔ اس پر انہوں نے کہا: میرے نزدیک یہ ناممکن ہے اور میں اس پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: ضرور لکھیں! آپ اپنی تحریر لکھ کر مجھے بھی عنایت فرمائیے گا اور میں اپنی معروضات آپ کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔ میں نے ''رسولِ رحمتﷺ تلواروں کے سائے میں‘‘ کی پانچ جلدوں میں تمام غزوات اور اہم جنگوں خصوصاً جنگِ موتہ کا تفصیلاً ذکر کیا ہے مگر جنرل صاحب کو غالباً لکھنے کا موقع نہ ملا کہ اس ملاقات کے کچھ عرصے بعد یکم فروری 2002ء کو 89 سال کی عمر میں وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے‘ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ میری کتاب رسولِ رحمتﷺ تلواروں کے سائے میں (جلد سوم) میں جنگِ موتہ کا تذکرہ ہے۔ میں نے اس کتاب کا ابتدائی مسودہ تو 2003ء میں تیار کر لیا تھا مگر مصروفیات کی وجہ سے اسے حتمی شکل دینے میں مزید کچھ سال لگ گئے۔ پھر اس کی طباعت میں بھی تاخیر ہوتی رہی تاآنکہ کتاب کا پہلا ایڈیشن 2011ء میں شائع ہوا۔ اس مجلس میں اتنی دلچسپ باتیں ہوئی تھیں کہ ان پر میں نے اپنے بعض مضامین میں کچھ روشنی ڈالی‘ جو نیازی صاحب کی زندگی میں مختلف اخبارات ورسائل میں چھپے تھے۔
اسی نشست میں جنرل صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت خالدؓ بن ولید جنگ میں بطور سپاہی شریک تھے۔ آپؓ نے تینوں سپہ سالاروں حضرت زیدؓ بن حارثہ‘ حضرت جعفرؓ بن ابی طالب اور حضرت عبداللہؓ بن رواحہ کی شہادت کے بعد جب کمان سنبھالی تو حالات واقعی بہت مشکل تھے۔ اللہ کی تائید اور نصرت سے حضرت خالدؓ نے رات کے وقت اہل الرائے صحابہ کرامؓ سے مشاورت کے بعد ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ جس سے دشمن کی ہوا اکھڑ گئی۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے 500 کے قریب گھڑ سواروں کو چار حصوں میں تقسیم کر کے سب کے کمانڈر مقرر کیے اور فرمایا کہ راتوں رات مختلف سمتوں میں کچھ فاصلے پر چلے جائو۔ صبح جونہی جنگ شروع ہو تو ایک دستہ اپنے کمانڈر کی نگرانی میں گھوڑے دوڑاتا ہوا تکبیر کے نعروں کے ساتھ ہماری مدد کے لیے آ جائے۔ کچھ دیر کے بعد اسی طرح دوسرا دستہ بھی میدانِ جنگ میں آ جائے‘ پھر تیسرا اور آخر میں چوتھا دستہ آئے۔ اس جنگی حکمت عملی نے دشمن کو اتنا ہراساں کر دیا کہ وہ سمجھے عرب سے مسلسل تازہ دم فوجیں چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ میں نے جنرل صاحب کو کہا کہ آپ کو یقینا علم ہو گا کہ صحابہ کرامؓ کی جنگی مہارتیں آنحضورﷺ کی تربیت ہی کی وجہ سے بے مثال تھیں اور ان کی جرأت و بہادری اور ایمان کی مضبوطی بھی ایسی تھی کہ وہ ہتھیار ڈالنا نہیں جانتے تھے۔ یہ الفاظ میری زبان سے نکل گئے تو مجھے احساس ہوا کہ جنرل صاحب اس کا غلط مفہوم سمجھ لیں گے اور شاید غصہ کریں گے حالانکہ میرے ذہن میں ایسا کوئی خیال نہیں تھا مگر اس سے ایسا نتیجہ اخذ کرنے کا جواز بہرحال موجود تھا۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جنرل صاحب نے فرمایا: تم نے مجھے Taunt کیا یعنی میرا مذاق اڑایا ہے۔ حالانکہ میرے ذہن میں یہ تصور نہیں تھا کہ وہ اس بات کو سقوطِ ڈھاکہ کے معنوں میں لے جائیں گے۔ بہرحال میں نے معذرت کی جس پر انہوں نے کہا: ڈھاکہ میں جو واقعہ ہوا تھا اس کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پھر اپنے فوجی کیریئر کے حوالے سے انہوں نے اپنی بہادری کے بہت سے واقعات سنائے‘ ساتھ ہی کہا کہ مجھے 'ٹائیگر‘ کا خطاب دوسری عالمی جنگ کے دوران ملا تھا۔ گفتگو کے کافی حصے مجھے اچھی طرح یاد ہیں مگر طوالت کے خوف سے ان سب کو چھوڑتا ہوں۔ جنرل نیازی مرحوم کے حق میں دعاگو ہوں کہ اللہ ان کی مغفرتِ تامہ فرمائے۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved