امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستانی کردار کی دنیا معترف ہے۔ بلاشبہ مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی بریک تھرو نہیں ہو سکا‘ تاہم امریکہ اور ایران کی لیڈر شپ کے مذاکرات کی میز پر آنے سے بہت سے خدشات کا ازالہ ضرور ہوا۔اس کے باوجود کہ فریقین ایک دوسرے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں‘ اگر کسی ایک نکتہ پر دونوں کا اتفاقِ رائے ہوا تو وہ پاکستان کا ثالثی کا کردار تھا‘ جس کی بڑی وجہ پاکستان کا غیرجانبدارانہ اور ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے مذاکرات کے پہلے دور کے خاتمے کے ساتھ ہی دوسرے دور کیلئے کوششیں شروع کر دیں‘ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا فریقین سمیت اہم ممالک کی لیڈرشپ سے رابطہ رہا اور مذاکرات کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے تجاویز و آرا پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ‘ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تین روزہ دورۂ ایران کو اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل اور خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سہ ملکی دورے کے دوران اسلام آباد مذاکرات اور اس میں زیرِ غور نکات پر دوست ممالک کی لیڈرشپ کو اعتماد میں لیا۔ دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ تہران غیرمعمولی اہمیت کا حامل رہا۔ ایرانی لیڈر شپ کی جانب سے ان کی پذیرائی سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ پاکستان کے جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں اس کے کردار کو اہمیت دیتی ہے۔ مذکورہ دورے کے حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ اس کا مقصد ایرانی لیڈرشپ کے سامنے بعض امریکی شرائط رکھنا تھا۔ ایرانی لیڈر شپ نے مذکورہ امریکی شرائط کے بارے میں کیا کہا اس سے قطع نظر مذکورہ دورے کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی اہمیت دی اور تاثر یہ بنا کہ اس دورے کے نتیجے میں مذاکرات کے دوسرے دور میں بریک تھرو ہو سکتا ہے۔ اس دورے کے دوران ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اس ٹویٹ نے کہ ''ایران آبنائے ہرمز کھول رہا ہے‘‘ مذاکراتی عمل کے بارے میں توقعات اور بڑھا دیں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اس طرزِ عمل کو خوش آئند قرار دینے سے مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امیدیں قائم ہوئیں۔ پاکستانی لیڈرشپ نے مذکورہ پیشرفت کو مذاکرات کی نتیجہ خیزی قرار دیا‘ لیکن اس اعلان کے 24گھنٹوں کے اندر ہی ایران نے پھر سے آبنائے ہرمز بند کردی اور اس کا جواز یہ پیش کیا کہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے باوجود امریکہ نے اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کی‘ لہٰذا ان کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں۔
اس صورتحال میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے خدشات بڑھتے نظر آئے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے ردِعمل میں ایران نے بھی ان نکات پر کاربند رہنے کا عندیہ دیا جن کے حوالے سے اس نے پہلے مذاکراتی دور میں لچک ظاہر کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے مثبت پیغام دیا تھا۔ اس کی ایک وجہ خود ایران کے اندر بعض ایشوز خصوصاً امریکہ سے مذاکرات اور اس میں پیش ہونے والی بعض شرائط پر لچک کا رویہ تھا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایران کی لیڈرشپ نے اپنے اصولی مؤقف پر کاربند رہتے ہوئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے اپنا مثبت رویہ ظاہر کیا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہی امریکہ نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کا اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے جہاں نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر ذمہ داران کو اسلام آباد بھجوانے کا عندیہ دیا وہاں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ایرانی لیڈرشپ کو بھی ٹارگٹ کیا۔ وہ اپنے طرزِ عمل اور اعلانات کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات پر امریکہ کے اندر بھی ردعمل بڑھ رہا ہے‘ جس سے نہ صرف امریکی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت بھی خطرے میں ہے‘ اس لیے صدر ٹرمپ ہر حالت میں ''عظیم ڈیل‘‘ چاہتے ہیں۔ امریکہ نے اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کا اعلان کیا ہے لیکن ایران کی طرف سے دوسرے مرحلے میں ابھی تک شرکت کا واضح اشارہ نہیں دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کر کے انہیں مشورہ دیا کہ ایران کے تحفظات پر مذاکرات کے دوسرے دور میں بات ہو سکتی ہے۔ ایران کے مذاکرات میں عدم شرکت کے فیصلے پر ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ایران کو مذاکراتی عمل کا حصہ بن کر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا چاہیے۔ایران کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج اگر امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ہے تو اس میں پاکستان کی ثالثی کا اہم کردار ہے۔ باوجودیکہ اس وقت بھی پاکستان کا ثالثی کردار اپنے عروج پر ہے‘ یہ اعتراف بھی لازم ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے پیچھے چین‘ روس‘ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ قطر اور بعض عالمی طاقتوں کی تائید بھی ہے‘ جو یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگی صورتحال جہاں عالمی امن کے حوالے سے خطرناک ہے وہاں اس تناؤ اور ٹکراؤ کے مضر اثرات دنیا کی معیشت اور پٹرولیم کی قلت اور نرخوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔اس بنا پر دنیا بھر کے اہم ممالک کی لیڈرشپ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے مذاکرات کو ہی مسائل کا حل قرار دیتی ہے۔ حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مذاکرات کے سوا فریقین کے پاس کوئی حل نہیں۔ ایران کی جانب سے تحفظات کے باوجود ایک بات واضح نظر آ رہی ہے کہ ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کا حصہ بننا چاہیے‘ اور اس ضمن میں بنیادی فیصلہ خود ایران کے اندر ہونا ہے۔ ایرانی لیڈرشپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ جنگی آپشن کی طرف بڑھنا ہے یا مذاکرات اور امن کی راہ پر گامزن ہو کر اپنے مثبت کردار کو یقینی بنانا ہے۔ اس امر کے باوجود کہ پاکستان ایران کے حوالے سے ہمدردانہ رویہ رکھتا ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے جس میں فریقین کو فیس سیونگ بھی ملے اور دونوں اپنے اپنے عوام کے سامنے بھی سرخرو ہوں۔اگر دنیا کے حالات پر نظر دوڑائی جائے تو ایک بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ اب کوئی جنگ و جارحیت کا حامی نہیں۔ سب اپنے اپنے معاشی مفادات کو دیکھ رہے ہیں‘ کوئی بھی ایسے رجحان کی حمایت کیلئے تیار نہیں جس کے نتیجے میں دنیا میں تباہی آئے‘ اس لیے ایران امریکہ جنگ میں مغربی ممالک نے بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو امریکہ ایران پر غلبہ حاصل کر سکا اور نہ ہی اس کی طاقت اور قوت نتیجہ خیز بنی۔ جبکہ ایران نے امریکی جارحیت کا ثابت قدمی سے جواب دے کر دنیا پر واضح کر دیا کہ طاقت اور قوت سب کچھ نہیں‘ شعور اور جذبہ بھی جارحیت کو ناکام بنانے میں اہم ہوتے ہیں۔ تاہم ایران کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگی بخار کبھی قوموں اور ملکوں کیلئے فائدہ مند نہیں ہوتا‘ بالآخر مسائل کا حل مذاکرات ہی سے نکلتا ہے۔ایران کے پاس امریکی جارحیت کے خلاف مؤثر کیس موجود ہے تو اسے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ مذاکرات سے گریز اس کی پوزیشن کو کمزور کرے گا۔ فریقین پر یہ بھی لازم ہے کہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر یں کیونکہ یہی عمل فریقین کے مفادات اور دوطرفہ مذاکرات کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved