اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی جمیع مخلوقات میں انسانوں کو غیر معمولی عزت بخشی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس عزت کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 70 میں کچھ یوں فرماتے ہیں: ''یقینا ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی‘‘۔ اسی طرح سورۃ التین کی آیت: 4 میں ارشاد ہوا: ''یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کیلئے زمین وآسمان میں بہت سی چیزوں کو مسخر کیا‘ جن کا ذکرسورۂ ابراہیم کی آیات: 32 تا 34 میں کچھ یوںہوا: ''اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمانوں سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے تمہاری روزی کے لیے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تمہارے بس میں کر دیا ہے کہ دریائوں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں۔ اسی نے ندیاں اور نہریں تمہارے اختیار میں کر دی ہیں۔ اسی نے تمہارے لیے سورج‘ چاند کو مسخر کر دیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے۔ اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے زمین میں جو کچھ بھی موجود ہے‘ اس کو انسان کی طبعی ضروریات اور سہولتوں کو پورا کرنے کیلئے تخلیق کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کا ذکر سورۃ البقرہ کی آیت: 29 میں کچھ یوں فرماتے ہیں: ''وہ اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا‘ پھر آسمان کی طرف قصد کیا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘۔ کائنات میں انسان کیلئے بہت سی چیزوں کو مسخر کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو بہت سی داخلی نعمتوں سے بھی نواز رکھا ہے جن کا ذکر سورۃ البلد کی آیات: 8 تا 10 میں کچھ یوں کیا گیا: ''کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں؟ اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں بنائے)؟ (پھر) ہم نے دکھا دیے اس کو دونوں راستے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو عقل‘ شعور‘ دانائی‘ حکمت‘ غور وفکر اور تدبر جیسی صلاحیتوں سے نوازا اور اس کو محبت‘ وابستگی‘ شیفتگی اور اخوت جیسے احساسات بھی عطا کیے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے زمین پر ہر انسان کو اس کی طبعی ضروریات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت اور معاشرت کے اعتبار سے مختلف طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ اسی طرح انسانوں کی مختلف برادریاں‘ زبانیں اور علاقے بنائے جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الروم کی آیت: 22 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے‘ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں‘‘۔ ان مختلف رنگوں‘ نسلوں اور برادریوں میں تقسیم کرنے کا مقصد درحقیقت انسانوں کی معاشی سرگرمیوں کے اجرا کے ساتھ ساتھ ان کا تعارف بھی تھا۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حقیقت کو سورۃ الحجرات کی آیت: 13 میں کچھ یوں بیان فرمایا: ''اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو‘ کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں‘ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے‘‘۔ انسانوں کو مختلف طرح کے طبقات میں تقسیم کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ انسانوں کے کسی طبقے کو یا کسی زبان بولنے والے گروہ کو دوسرے گروہ پر فوقیت دی جائے بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مذکورہ آیت میں اس بات کو واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔
نبی پاک حضرت محمد کریمﷺ نے جب اسلام کی دعوت دی تو آپﷺ کی دعوت فقط اہلِ عرب کیلئے نہیں بلکہ جمیع انسانیت کیلئے تھی اور آپﷺ نے فلاح کو فقط کسی خاص قوم یا قبیلے کے ساتھ مشروط نہیں کیا بلکہ خطبہ حجۃ الوداع کے دن آپﷺ نے یہ تاریخی اعلان فرما دیا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اس حوالے سے مسند احمد میں ایک صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے ایام تشریق کے درمیانی دن نبیﷺ کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا ''لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے‘ یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر‘ کسی عجمی کو کسی عربی پر‘ کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر‘ سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے‘ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: پہنچا دیا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن۔ فرمایا: یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ۔ فرمایا: یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا: اللہ نے تمہارے درمیان تمہارے خون اور مال کو اسی طرح حرمت والا بنا دیا ہے جیسے اس مہینے اور اس شہر میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: پہنچا دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا: حاضرین کو چاہیے کہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں‘‘۔ اسی طرح مستدرک حاکم میں بھی اسی موضوع سے ملتی جلتی ایک اہم حدیث مذکور ہے۔ حضرت کرز بن علقمہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: ''یا رسول اللہﷺ! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ اس پر آپﷺ نے فرمایا: کسی بھی عربی یا عجمی خاندان سے جب اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ کرے گا‘ ان میں ایمان ڈال دے گا پھر (ایک وقت آئے گا کہ) فتنے بادلوں کی طرح چھا جائیں گے (وہ وقت) اسلام کی انتہا کا ہو گا‘‘۔
دنیا میں لوگ دوسروں کی عزت اسکے چہرے مہرے‘ حسب ونسب اور مال کی وجہ سے کرتے ہیں لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں معیار یہ نہیں بلکہ انسانوں کی دلی کیفیات اور اُنکے اعمال ہیں۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا‘ لیکن وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک تمام انسانوں کیلئے نیکی اور بھلائی میں ترقی کرنے کے یکساں مواقع موجود ہیں۔ چنانچہ کسی بھی شخص کو اپنے حسب و نسب‘ کنبے قبیلے‘ مال وزر اور اسباب کی وجہ سے دوسروں کو حقیر نہیں جاننا چاہیے اور ہمیشہ اپنے مسلمان بھائی کو اپنے برابر حیثیت دینی چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''ایک دوسرے سے حسد نہ کرو‘ ایک دوسرے کیلئے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھائو‘ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو‘ ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو‘ تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جائو جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان (دوسرے) مسلمان کا بھائی ہے‘ نہ اس پر ظلم کرتا ہے‘ نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے‘‘۔ پھر آپﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا۔ (پھر فرمایا:) ''کسی آدمی کے برے ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے‘ ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون‘ مال اور عزت حرام ہیں‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی بھی انسان کو دوسرے انسان کے کنبے‘ قبیلے‘ شکل وصورت اور معیشت کی وجہ سے اس کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ عاجزی وانکساری کو اختیار کرتے ہوئے دوسرے انسانوں کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھنا چاہیے۔ مساواتِ بنی آدم کا یہ عظیم سبق درحقیقت معاشرے میں اخوت اور رواداری کو فروغ دینے کا باعث ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو دوسروں کی عزت‘ احترام اور وقار کو ملحوظِ خاطر رکھنے کی توفیق دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved