مجھے پنجاب کے دیگر شہروں کے بارے میں تو پکا پتا نہیں لیکن ملتان کی حد تک میں اپنے بہترین علم کے مطابق پورے تیقّن سے کہہ سکتا ہوں کہ مدینۃ الاولیاء میں غائبانہ افتتاحوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ایسے ایسے پروجیکٹس کا افتتاح کر رہی ہیں جن کو دیکھنا تو کجا ان کے بارے میں شاید ان کو یہ بھی علم نہیں کہ ان پر ان کے نام کی افتتاح بدست مبارک والی تختی لگ چکی ہے بلکہ وہ اس شہرِ ناپرساں میں ایک ایسے فلائی اوور کا سنگ بنیاد بھی رکھ چکی ہیں جو تب بننا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ یعنی ابھی تعمیر شروع ہونا خود اس فلائی اوور کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اس پر Ground Breaking بدست مریم نواز شریف کی تختی لگ چکی تھی۔ اس کے علاوہ اور بہت سے مقامات ایسی ہی افتتاحی تختیوں کیلئے قطار بنائے پذیرائی کے منتظر ہیں۔ اس سے مجھے ن م راشد کی شہرہ آفاق نظم ''گماں کا ممکن‘‘ کی آخری چند سطریں یاد آ گئیں۔
گماں کا ممکن
تمام کندے (تو جانتی ہے) ؍ جو سطح دریا پہ ساتھ دریا کے تیرتے ہیں
یہ جانتے ہیں یہ حادثے ؍ کہ جس سے ان کو؍ (کسی کو) کوئی مفر نہیں!
تمام کندے جو سطح دریا پہ تیرتے ہیں ؍ نہنگ بننا یہ ان کی تقدیر میں نہیں ہے
(نہنگ کی ابتدا میں ہے اک نہنگ شامل ؍ نہنگ کا دل نہنگ کا دل!)
نہ ان کی تقدیر میں ہے پھر سے درخت بننا
(درخت کی ابتدا میں ہے اک درخت شامل ؍ درخت کا دل درخت کا دل!)
تمام کندوں کے سامنے بند واپسی کی ؍ تمام راہیں
وہ سطح دریا پہ جبر دریا سے تیرتے ہیں
اب ان کا انجام گھاٹ ہیں جو ؍ سدا سے آغوش وا کیے ہیں
اب ان کا انجام وہ سفینے ؍ ابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھی
اب ان کا انجام ؍ ایسے اوراق جن پہ حرف سیہ چھپے گا
اب ان کا انجام وہ کتابیں ؍ کہ جن کے قاری نہیں‘ نہ ہوں گے
اب ان کا انجام ایسے صورت گروں کے پردے
ابھی نہیں جن کے کوئی چہرے ؍ کہ ان پہ آنسو کے رنگ اتریں‘
اور ان میں آئندہ ؍ ان کے رویا کے نقش بھر دے
غریب کندوں کے سامنے بند واپسی کی ؍ تمام راہیں
بقائے موہوم کے جو رستے کھلے ہیں اب تک
ہے ان کے آگے گماں کا ممکن ؍ گماں کا ممکن جو تُو ہے میں ہوں!
جو تُو ہے میں ہوں
اس شانداراور عہد سازنظم کی یاد نے اس فقیر کے دل سے کلفت کے کئی پرت اتار پھینکے ہیں۔ بات غائبانہ جعلی افتتاحی پھَٹیوں سے ن م راشد کی طرف چلی گئی۔ اس بے جوڑ بات سے بات نکل آنے پر میں قارئین سے معذرت خواہ ہوں۔
ملتان شہر سے انڈسٹریل اسٹیٹ میں داخل ہونے کیلئے ایک عدد ریلوے کراسنگ بذریعہ پھاٹک عبور کرنا پڑتی تھی۔ ٹرین کی متوقع آمد سے کافی دیر پہلے پھاٹک بند کر دیے جانے والے معمول کے باعث ٹریفک کافی کافی دیر تک پھنسی رہتی تھی۔ چار عشرے قبل‘ اسّی کی دہائی میں بننے والی جنوبی پنجاب کی اولین انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم فیکٹریوں کے مالکان‘ ملازمین اور ان سے منسلک دیگر کاروباری افراد اس پھاٹک پر دیر تک پھنسے رہتے۔ ملتان کے صنعتکاروں اور عوامی نمائندوں کی بھرپور تگ و دو اور منت ترلوں کے بعد لاہور میں بیٹھے ہوئے فیصلہ سازوں نے چالیس سال بعد بالآخر اس دیرینہ مطالبے کے پیشِ نظر ایک عدد فلائی اوور کی منظوری دے دی۔ 10 فروری 2022ء کو سابقہ حکومت کے دور میں اس کی تعمیر کا آغاز ہو گیا۔ لاہور والے جب دل کرتا تھا پیسے بھیج دیتے تھے اور جب جی چاہتا روک لیتے۔ پیسے ملنے اور روکنے کی اس کشمکش میں ملتان سے بلوچستان اور سندھ کیلئے براستہ مظفرگڑھ‘ ڈیرہ غازی خان یہ قومی شاہراہ تقریباً اڑھائی سال بند رہی۔ عام مسافر اور اہلِ ملتان عمومی طور پر اور انڈسٹریل اسٹیٹ آنے جانے والے خصوصی طور پر اس سارے عرصے میں ذلیل وخوار ہوتے رہے۔ بہر حال یہ فلائی اوور بمشکل 29 جولائی 2024ء کو کھل گیا۔ اس کے کھلنے کا قصہ بھی خاصا دلچسپ ہے۔ فلائی اوور تو دراصل جون 2024ء میں مکمل ہو گیا تھا مگر افتتاحی پھٹی کا رولا پڑ گیا۔ پنجاب حکومت اس فلائی اوور کا افتتاح اپنی محبوب وزیراعلیٰ سے کرانا چاہتی تھی جبکہ دوسری طرف سید یوسف رضا گیلانی اینڈ کمپنی اس فلائی اوور کا افتتاح کرنے کی طلبگار تھی۔ ان کی یہ خواہش اس لیے کافی شدید تھی کہ یہ پروجیکٹ گیلانی فیملی کے حلقۂ انتخاب میں تھا اور وہ اس پر اپنے نام کی تختی لگوانا چاہتے تھے۔
ادھر عالم یہ ہے کہ پنجاب حکومت ملتان کے کسی تھانے میں سید یوسف رضا گیلانی وبرخورداران کی مرضی کا ایس ایچ او نہیں لگاتی کجا کہ ان کے نام کی تختی لگنے دیتی‘ جو سالہا سال ان کے اس ترقیاتی کام کا اشتہار بنی رہتی۔ ویسے بھی اس پروجیکٹ میں حقیقی طور پر گیلانیوں کا رتی برابر حصہ یا کاوش شامل نہیں تھی۔ اسی کشمکش میں دو ماہ گزر گئے اور ''پَھٹی‘‘ کے رولے میں تیار شدہ فلائی اوور کو عوام کیلئے شجرِ ممنوعہ بناتے ہوئے بند رکھا گیا۔ اس دوران ایک بار اس کے افتتاح کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کے آنے کی تاریخ بھی طے ہو گئی اور وہ ملتان آئیں بھی لیکن اس فلائی اوور کے بجائے کوئی اور افتتاح کر کے واپس چلی گئیں‘ تاہم اس فلائی اوور پر اُن کے دست مبارک سے افتتاح کی تختی نصب کر دی گئی جو آج بھی جگمگا رہی ہے۔
ملتان کے مصروف ترین چوک‘ جو کسی زمانے میں یہاں پر قائم چونگی کے نام پر نو نمبر چونگی چوک کہلاتا ہے‘ کی افتتاحی تختی پر بدست وزیراعلی مریم نواز شریف کا نام نامی کندہ ہے جبکہ وہ اس چوک پر کبھی تشریف ہی نہیں لائیں۔ ان تختیوں کی بنیاد پر آج سے تیس چالیس سال بعد والی جنریشن یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو گی کہ کم از کم نصف ملتان تو مریم نواز شریف نے بنایا ہے۔ تاریخ اسی قسم کی غلط معلومات سے بھری پڑی ہے۔
ان تختیوں پر مجھے بیسیوں سال بعد پھپھی بصری یاد آ گئیں۔ اللہ بخشے پھپھی بصری میرے بہشتی دادا کی بہن بنی ہوئی تھیں۔ دادا جی کی ساری اولاد یعنی میرے تایا‘ چچا‘ ساری پھوپھیاں اور ابا جی انہیں پھپھی کہہ کہ پکارتے تھے اور ان کی بے انتہا عزت واحترام کرتے تھے۔ ہم سب بہن بھائی اور کزن بھی ان کو پھپھی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ عید قربان پر وہ چھری پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے بیٹے غلام محمد عرف چاچا گاماں کو دے دیتیں۔ وہ قربانی کا بکرا یا دنبہ جو بھی ہوتا‘ ذبح کر دیتے۔ بعد میں پھپھی بصری سب کو فخر سے بتاتیں کہ انہوں نے اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے کی ہے۔ تب ہم سب بچے اس بات پر بہت ہنستے تھے۔ اب سوچتا ہوں ممکن ہے پھپھی بصری کی طرح سنگِ بنیاد پر لگنے والی پتھر کی تختی کو نصب ہونے سے پہلے لاہور منگوا کر اس پر ہاتھ پھیر دیا جاتا ہو۔ اس خیال سے آج پچاس‘ پچپن سال بعد پھپھی بصری یاد آ گئیں‘ لیکن اب ہمیں ایسی باتوں پر ہنسی نہیں‘ رونا آتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved