تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     23-04-2026

مذاکرات میں تعطل کیوں پیدا ہوا؟

مذاکرات میں تاخیر کا حقیقی سبب کیا ہے؟ ایران کے باب میں امریکہ سے اصلاً کس غلطی کا صدور ہوا؟
ایران کے ساتھ تعلقات‘ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے مدت سے ایک لاینحل مسئلہ ہے۔ امریکہ کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایران نے اسے زچ کر رکھا تھا۔ ہر آنے والا دن اس کے اضطراب میں اضافہ کر ر ہا تھا۔ حماس کی عملی نصرت اور اسرئیل پر حملہ‘ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ صدر ٹرمپ وہ کر گزرے‘ جو ہر امریکی صدر نے کرنا چاہا۔ وہ اب ان نتائج کو بھگت رہے ہیں‘ سابقہ صدور نے جن کے خوف سے یہ اقدام نہیں کیا۔
سیاسیات کے ماہرین نے اس امریکی مخمصے کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ حالیہ دنوں میں مَیں نے بعض ایسی کتابوں کو ایک بار پھر سے دیکھا جو گزشتہ چار عشروں میں لکھی گئیں۔ یہ لٹریچر اتنا زیادہ ہے کہ اس سے ایک لائبریری وجود میں آ جائے۔ میں چند کتب ہی دیکھ سکا جو اس وقت میرے پاس مو جود تھیں۔ مثال کے طور پر مصر کے عالمی شہرت رکھنے والے صحافی محمد حسین ہیکل کی 'آیت اللہ کی واپسی‘۔ یہ انقلابِ ایران سے متصل تاریخ کے پس منظر میں ایک باخبر صحافی کا تجزیہ ہے جس نے شہنشاہِ ایران اور روح اللہ خمینی مرحوم سمیت اس انقلاب کے مرکزی کرداروں سے کئی ملاقاتیں کیں۔ پھر فواز جرجس کی 'امریکہ اور سیاسی اسلام‘ ہے۔ فواز آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن سکول آف اکنامکس کے فارغ التحصیل سکالر ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور بڑی طاقتوں کی خارجہ پالیسی ان کی تحقیق کا خصوصی میدان ہے۔ اسی طرح ولی رضا نصر کی 'احیائے تشیع‘۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے اس بنیادی سوال کا جواب مل جاتا ہے جو اِس کالم کے آغاز میں اٹھایا گیا ہے۔
تعلقات میں اس کشیدگی کا آغاز انقلابِ ایران سے ہوا جو دشمنی میں بدل گئی۔ امریکی سفارت خانے پر انقلابی نوجوانوں کے قبضے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ سب کا ا تفاق ہے کہ ایران کے باب میں امریکہ کی خارجہ پالیسی درست نہیں تھی۔ امریکی قیادت اگر حکمت کا مظاہرہ کرتی اور معاملات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری سے سلجھانے کی سعی کرتی تو تلخی میں کمی آ سکتی تھی۔ ایک عالمی قوت کا تکبر مانع ہوا اور امریکہ نے ان مواقع کو گنوا دیا جب ایران کی طرف سے خیر سگالی کا پیغام دیا گیا۔ اس سے ایران پر شدت پسند مذہبی گروہ کا تسلط مضبوط ہوا اوراصلاح پسندوں کے لیے آگے آنے کا راستہ مسدود ہو گیا۔ اس سے امریکہ کے مفادات کو بھی بے پناہ نقصان پہنچا۔ یہی امریکہ کی اصل غلطی ہے۔ کہاں وہ ایران ہے جو خلیج میں امریکہ کا داروغہ تھا اور کہاں یہ ایران جس کا مشن 'مرگ بر امریکہ‘ ہے۔
فواز نے مشرقِ وسطیٰ پر کئی کتابیں لکھیں۔ 2024ء میں ان کی کتاب''What Really Went Wrong‘‘ شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے اس خطے میں جمہویت کی ناکامی پر لکھا۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں اور آمروں کے بجائے عوام اور آزاد راہنماؤں کی حمایت کرتا تو اس خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ 'امریکہ اور سیاسی اسلام‘ 1999ء میں سامنے آئی۔ یہ صدر بل کلنٹن کا دور ہے۔ فواز نے ان کی پالیسی کا بالخصوص جائزہ لیا ہے۔ اسے پڑھیے تو تب اور آج کے حالات میں حیرت انگیز مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ ایک یہ کہ امریکی پالیسی میں حکمت کے بجائے غصہ غالب ہے۔ 1997ء میں محمد خاتمی ایران کے صدر بنے۔ یہ سخت گیر مذہبی قیادت کی جگہ ایک معتدل آواز کا ابھرنا تھا جو ایک بڑی تبدیلی تھی۔ امریکی قیادت اس میں چھپے امکانات کا ادراک نہ کر سکی۔ صدر خاتمی نے پہلی پریس کانفرنس میں اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ طرفین نے مفاہمت کی طرف پیش قدمی نہیں کی۔ 'منافقا نہ کلام کے بجائے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مابین بامعنی مکالمہ ہو‘۔ خاتمی نے یہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے یورپ اور مسلم دنیا بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں ایران میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہی نہیں‘ ایٹمی پروگرام کے بارے میں بھی انہوں نے اشارہ دیا کہ اس پر بات ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس پروگرام کے ڈائریکٹر کو بدل ڈالا جو اس کے لیے شب و روز محنت کر رہے تھے۔ اس کی جگہ انہوں نے یہ ذمہ داری اپنے ایک حامی کو سونپ دی۔ یہ ایک اشارہ تھا جسے نہیں سمجھا گیا۔ فواز کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام اور شدت پسند تنظیموں کے معاونت کے باب میں مبالغہ کیا گیا۔ صورتحال ایسی سنگین نہیں تھی جیسی بیان کی گئی۔ وہ 'اکانومسٹ‘ (16مئی 1995ء) کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا کہ اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ ایران کو حزب اللہ کے علاوہ کسی مسلح تنظیم پر کوئی اختیار حاصل ہے۔ سابق ایرانی صدر علی اکبر رفسنجانی نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیل اور شام کے مابین امن معاہدہ ہوتا ہے تو وہ اس کا احترام کریں گے۔
فواز کا تجزیہ ہے کہ امریکہ اگر ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ اسے پتھر کے دور میں لے جانے کی دھمکی دے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ اس کو عالمی برادری میں شامل کیا جائے۔ وہ ایران کی سکیورٹی پالیسی کے ایک ماہر شہرام کوبن کا حوالہ دہتے ہیں جنہوں نے لکھا: ''ایرانی حکمران جتنا زیادہ تنہائی کا شکار ہوں گے‘ اتنا ہی ان کا یہ عزم مستحکم ہو گا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے مالک بنیں‘‘۔ فواز کا کہنا ہے: ''ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے لازم ہے کہ امریکہ اسے عالمی برادری کا حصہ بنائے نہ کہ تنہائی میں دھکیلے۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو سلامتی یا سٹرٹیجک مسئلہ بنانے کے بجائے‘ اسے ایک سیاسی معاملہ سمجھنا چاہیے‘‘۔ (صفحہ 138)
سخت گیر ا مریکی پالیسی کے ساتھ حالات میں دوسری مماثلت یورپ کا رویہ ہے۔ کلنٹن انتظامیہ نے جب ایران پر پابندیاں عائد کیں تو یہ چاہا کہ یورپ بھی یہی کرے مگر آج کی طرح‘ اس وقت بھی یورپ ایران کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے پر آمادہ نہیں ہوا۔ ایوانِ نمائندگان نے اگست 1996ء میں ان کمپنیوں پر پابندی کا قانون پاس کیا جنہوں نے ایران میں تیل کی صنعت میں چالیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ اس پر یورپ سے سخت ردعمل آیا۔ فرانس کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ ساری دنیا پر اپنے قوانین نافذ نہیں کر سکتا۔ فرانس کی تیل کی کمپنی 'ٹوٹل‘ نے 1997ء میں ایران سے دو ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔ برطانیہ ا ور جرمنی نے بھی تنقید کی اور ان پابندیوں کو مسترد کر دیا۔
آج بھی یہی صورتحال ہے۔ امریکہ نے ایران کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا اور یورپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ بیس برس پہلے یہ حکمتِ عملی پوری طرح ناکام رہی اور آج بھی ناکام ہے۔ اُس وقت ایرا ن میں سخت ردِ عمل پیدا ہوا اور آج بھی یہی ہے۔ اُس وقت یورپ نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا اور آج بھی اس پر قائم رہا۔ 1999ء میں فواز جیسے ماہرین کا تجزیہ تھا کہ ایران کے ساتھ دشمنی کی پالیسی ایران میں شدت پسندوں کو مضبوط کرے گی جو امریکہ کو شیطانِ کبیر کہتے ہیں اور اصلاح پسند کمزور ہوں گے۔ اس وقت اصلاح پسند کمزور ہوئے اور آج بھی یہی ہوا۔
امریکہ کی اصل غلطی یہ ہے کہ اس نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔ اس کی حکمتِ عملی نے شدت پسندوں کو مضبوط کیا اور سماجی تبدیلی کے فطری عمل کو روک دیا۔ طارق علی کے الفاظ مستعار لیے جائیں تو یہ جنگ اب 'بنیاد پرستوں کا تصادم‘ (Clash of Fundamentalism) بنتی جا رہی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved