تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     23-04-2026

جنگ کا اُلجھا ہوا ریشم

جنگ کے مکمل خاتمے اور کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران امریکہ مذاکرات صرف ایک نکتے پر تعطل کا شکار ہیں اور وہ نکتہ ہے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تیل بردار بحری جہازوں کے لیے کھولنے کے باوجود امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی۔ اس حوالے سے تازہ خبر یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی میں توسیع پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے کوئی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔ انہوں نے کہا: امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہا جائے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے آبنائے ہرمز خود کھولی تو پھر ایران سے امریکہ کبھی ڈیل نہیں کر سکے گا‘ ڈیل نہیں ہو سکے گی تاوقتیکہ ہم بقیہ ایران کو بھی تباہ کر دیں‘ بشمول اس کے رہنماؤں کے۔
آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ جمود کی سی کیفیت کب تک قائم رہ سکتی ہے؟ پاکستان بارِ دگر ان مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے لیکن مذاکرات والی کوئی صورت پیدا ہو نہیں رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایران امریکہ جنگ بندی میں توسیع کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں مذاکرات کے دوسرے دور کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے پاکستانی قیادت ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے کر رہی ہے۔ اجلاس میں پاکستان نے امریکی صدر کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ مختلف وجوہ کی بنا پر پیدا ہونے والے جمود کی کیفیت میں بھی پاکستان اپنا سفارت کاری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی قوی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
جب دو ٹیمیں کھیل کے میدان میں اترتی ہیں تو صرف اور صرف دو طرح کے نتائج نکلتے ہیں اور یہ نتائج دونوں ٹیموں کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ ایک ٹیم ہار جاتی ہے اور دوسری جیت جاتی ہے‘ لیکن جب دو افراد یا دو وفود مذاکرات کے لیے میز پر بیٹھتے ہیں تو بات چیت کے ذریعے ایسے راستے بھی تلاش کر لیے جاتے ہیں جو بین بین ہوں‘ جو سب فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ ناکہ بندی کر کے مذاکرات کی دعوت دینا دوسرے کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اپنی بات منوانے کے مترادف ہے اور امریکہ اس وقت یہی کچھ کرنا چاہ رہا ہے۔ جنگ بندی صرف ایران کی نہیں امریکہ کی بھی خواہش ہونی چاہیے‘ جس طرح باقی ساری دنیا کی خواہش ہے کہ جنگ بند ہو‘ دنیا میں امن قائم ہو اور جنگ کی وجہ سے انسان اور انسانیت کو جو خوفناک خطرات لاحق ہیں‘ ان سے مستقل نجات مل جائے۔ دستیاب وسائل کو جنگوں میں جھونکنے کے بجائے انسانوں کی بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔ نسلِ انسانی کا مستقبل روشن اور تابناک بنایا جا سکے۔ ایوب خاور نے کہا تھا:
زلف سے‘ چشم و لب و رخ سے کہ تیرے غم سے
بات یہ ہے کہ دل و جاں کو رہا کس سے کریں
ہاتھ اُلجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریں
یہاں مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے آبنائے ہرمز میں بھی صورتحال ایسی ہی نظر آتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اکسانے پر ایران کے ساتھ جنگ کو اُلجھے ہوئے ریشم میں ڈال بیٹھے ہیں اور اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سے دھاگے کو کس سے جدا کریں تو انہیں فیس سیونگ مل سکے۔ مذاکرات پر تیار ہونا فیس سیونگ کی خاطر تھا۔ جنگ بندی بھی فیس سیونگ کے لیے ہی تھی۔ جنگ بندی میں توسیع‘ چاہے یہ پاکستان کی درخواست پر کی گئی ہے‘ بھی فیس سیونگ کے لیے ہے اور یہ فیس سیونگ ایران نہیں‘ امریکہ چاہتا ہے۔
ڈونلڈٹرمپ فیس سیونگ کیوں چاہتے ہیں‘ اس سوال کے جواب میں کئی جواب پیش کیے جا سکتے ہیں۔ امریکہ میں داخلی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں افراد اس وقت ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کناں ہیں۔ سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے ایک تقریب کے دوران ٹرمپ انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکہ کی تاریخ کی سب سے کرپٹ‘ بے حس اور نااہل صدارتی انتظامیہ سے نمٹ رہے ہیں۔ ایران سے جنگ کے درمیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف ایوانِ نمائندگان میں مواخذہ کی تحریک پیش کی گئی ہے۔ اپوزیشن ڈیموکریٹس کے اراکین نے بدھ کو پیٹ ہیگستھ کے خلاف تحریک مواخذہ لانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مواخذہ نائب صدر سے ہوتا ہوا صدر ٹرمپ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امسال چھ جنوری کو ریپبلکن ارکان کو خبردار کیا تھا کہ اگر 2026ء کے مڈٹرم انتخابات میں ان کی پارٹی کامیاب نہ ہوئی تو ڈیموکریٹس ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مڈٹرم انتخابات ان کی حکومت اور پالیسیوں کے لیے فیصلہ کن ہوں گے‘ اس لیے ری پبلکنز کو متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترنا ہو گا۔ جنوری میں ڈونلڈٹرمپ کے خوف کا یہ عالم تھا تو اب جبکہ امریکہ ایران کی جنگ میں وہ نتائج حاصل نہیں کر سکا جو سوچ کر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ میں چھلانگ لگائی تھی۔ یہ بدلے ہوئے حالات امریکی صدر کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ فیس سیونگ کا کوئی طریقہ ڈھونڈیں۔ مسئلہ یہ ہے کہڈونلڈ ٹرمپ یہ فیس سیونگ بھی اپنی شرائط پر حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ایران تیار نہیں ہے۔ آپ نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کا وہ بیان تو پڑھا ہی ہو گا جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ مذاکرات کو ''سرنڈر کی میز بنانے یا نئی جنگی مہم جوئی کو جواز دینے‘‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک پاکستان ہے جو ٹرمپ کو بار بار یہ بتا رہا ہے کہ ہاتھ اُلجھے ہوئے ریشم سے کیسے نکالے جاتے ہیں‘ ٹرمپ یہ بات سمجھتے بھی ہیں لیکن ان کو لاحق خوف اور درآمدہ خدشات انہیں اس بات پر اکساتے ہیں کہ وہ ہاری ہوئی بازی کو بھی فتح کے جشن کے ساتھ ختم کریں۔ کیا ایسا ہو پائے گا؟ مذاکرات کا عمل کب دوبارہ شروع ہو سکے گا؟ یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے؟ یہ اور اس سے جڑے دوسرے کئی سوالات کا جواب ملنے میں اب کچھ دن مزید لگ سکتے ہیں۔ اب معاملات آگے بڑھیں گے لیکن کچھ دھیرے دھیرے۔ جس طرح باقی ساری دنیا مذاکرات کی طرف دیکھ رہی ہے‘ آپ بھی دیکھیے لیکن ایسا کرتے ہوئے میری وہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیے کہ یہ کمبل اب ٹرمپ کو جلد چھوڑنے والا نہیں ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved