تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     23-04-2026

قربانت شوم آغا!

آغا!بس جانے دیں۔ غصہ تھوک دیں۔ بس کردیں۔ آپ اپنی دانست میں حق بجانب سہی لیکن دل سے فیصلے نہ کریں۔ یہ دماغ سے فیصلے کرنے کا وقت ہے۔ اس وقت آپ کا خون گرم ہے‘ لیکن ذرا ٹھنڈا پانی پئیں۔ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔ بیٹھے ہیں تو ذرا دیر لیٹ جائیں۔ آپ کے ساتھ زیادتیاں بھی ہوئی ہوں گی اور ہوئی ہیں لیکن اس وقت کی نزاکت سمجھیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سمجھیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا کس طرح ان زیادتیوں کا برملا اعتراف کرے۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ اس وقت لازماً امریکہ کی ناک رگڑ کر ہی جنگ سے نکلنا ہے۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ کسی فیصلے سے ایرانی سیاسی حکومت یا کسی عہدیدار کو اس کا کیا سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ وہ بعد میں کتنا مقبول یا کتنا غیر مقبول رہے گا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ پاکستان کی بھاگ دوڑ اور کوششیں آخر میں معاہدے تک پہنچیں گی یا نہیں۔ مسئلہ ایک ہے اور صرف ایک۔ اسی کی بنیاد پر فیصلے کیجئے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران اور ایرانیوں کے بہتر مستقبل اور ترقی کیلئے کیا کرنا چاہیے۔ جنگ جاری رکھنی چاہیے یا ایرانیوں کی جانیں بچانی چاہئیں؟ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے ہیں اور فیصلے بھی فوری۔
آغا!بہت سے راستے شمشیر سے نہیں تدبیر سے کھولے جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دور اندیشی اور مصلحت کو پیشِ نظر رکھ کر بہت سے فیصلے کیے گئے اور وہ درست ثابت ہوئے۔ معاہدے کمزوری کی علامت نہیں ہوتے‘ دانش مندی اور تدبر کی علامت ہوتے ہیں۔ یاد کیجئے کہ صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں نے عمرے کی نیت سے احرام باندھے ہوئے تھے۔ وہ لڑنے نہیں عبادت کرنے آئے تھے‘ لیکن انہیں عمرے سے روک دیا گیا۔ یہ واضح زیادتی تھی۔ یہ بھی تو ممکن تھا کہ مسلمان جو حق پر تھے‘ مشتعل ہوکر ہر صلح‘ ہر مذاکرات سے انکار کر دیتے اور ایک نئی جنگ کا آغاز ہو جاتا لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اور اس لیے نہیں ہوا کہ نبی اکرمﷺ کی دور اندیش نگاہیں اس صلح سے حاصل ہونے والے فوائد کو دیکھ رہی تھیں۔ یہ وقتی صلح لوگوں کیلئے بآسانی اسلام میں داخل ہونے کا راستہ کھول رہی تھی۔ یہ بالآخر فتح مکہ کا راستہ کھول رہی تھی‘ حالانکہ یہ وہ معاہدہ تھا جس میں قریش کی کئی شرطوں کو مان لیا گیا تھا حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ نے اپنے نام کے ساتھ رسول اللہ کے الفاظ قریش کے اعتراض پر مٹا دیے تھے۔ کئی اور شقیں بھی بظاہر مسلمانوں کے دب کر صلح کرنے کا تاثر دیتی تھیں لیکن ایک بڑے اور ارفع مقصد کیلئے انہیں گوارا کر لیا گیا تھا۔
آغا!یاد کیجئے کہ خود مسلمانوں میں یہ تاثر پایا جارہا تھا کہ ہم نے حق پر ہونے کے باوجود دب کر صلح کی ہے۔ عمرے کے بغیر احرام کھول دینا اور مکہ داخل ہوئے بغیر واپس چلے جانا انہیں گوارا نہیں ہو رہا تھا۔ یہ صلح بظاہر ایک غیرمقبول فیصلہ تھا‘ لیکن یہ سب سے بڑی شخصیت کا فیصلہ تھا اور معاہدہ درست لگے یا نہ لگے‘ اپنے نبیﷺ پر سب کا اعتماد تھا۔ دل بے قرار اور بے چین تھے۔ اضطراب کی لہر دوڑتی پھرتی تھی لیکن معاہدہ کر لیا گیا۔ اس کا مقبول یا غیرمقبول ہونا نہیں دیکھا گیا۔ آپ کو علم ہے کہ اس فیصلے کو قرآن نے کھلی فتح سے تعبیر کیا۔ یاد کیجے کہ اس طرح کے الفاظ کسی اور معاہدے کیلئے نہیں بیان ہوئے۔ معاہدے انا اور ناک کے مسئلوں پر طے کیے جاتے تو صلح حدیبیہ نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ معاہدہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ قوموں کے معاہدات اور مذاکرات ذاتی اور اجتماعی انا اور ناک کے مسئلے الگ رکھ کر کرنے چاہئیں۔ انا اور ناک بہت چھوٹی چیزیں ہیں‘ مقاصد اور منزل کیلئے ان کی کوئی اہمیت نہیں۔
جانے دیجیے‘ انا کا مسئلہ نہ بنائیے۔ یہ امریکہ کیلئے انا کا مسئلہ ہو سکتا ہے تو ہونے دیجیے۔ آخر انا کے پجاری منہ کے بل زمین بوس ہوا کرتے ہیں۔ امریکہ جس تیزی سے زوال پذیر ہے‘ جیسی عالمگیر سبکی اس کی ہوئی ہے‘ جیسا اس کی طاقت کا بھرم ٹوٹا ہے اس کے پیشِ نظر اسے تو بچی کھچی ناک ہر حال میں بچانی ہے۔ آپ نے تو اسے دھول چٹائی ہے‘ آپ نے تو اس کا گھمنڈ توڑا ہے۔آپ اسے پندار اور انا کا مسئلہ کیوں بناتے ہیں۔ ذرا ارد گرد کی دنیا پر نظر ڈالیں۔ اس خطے کے کتنے ملک ہیں جو کسی قابل ہوں اور آپ کے ساتھ کھڑے ہوں؟ جو مالی یا عسکری نہ سہی اخلاقی مدد بھی کر سکتے ہوں۔ کیا خلیجی ممالک؟ کیا ترکیہ؟ وسط ایشیا کے ممالک؟ آذربائیجان؟ کوئی نہیں۔ کوئی ایک بھی نہیں! سب آپ کے خلاف ہیں۔ صرف پاکستان ہے جوماضی کی تلخیوں کو بھول کر‘ کھل کر آپ پر ہوئے حملوں کی مذمت کرتا ہے‘ آپ کیلئے بانہیں کشادہ کرتا اور آپ کے سر پر لٹکتی تلوار کو اپنے ہاتھ سے دور کرتا ہے۔ تنہا ایک ملک جو آپ کا خیرخواہ ہے۔ آپ کی وجہ سے اس نے یو اے ای کی ناراضی بھی مول لی اور دیگر نقصانات بھی اٹھائے لیکن وہ غیرجانبدار رہا۔ وہ غیرجانبداری جو در حقیقت آپ کا ساتھ دینے سے ہرگز کم نہیں۔
اب ذرا فاصلوں پر دنیا کے ممالک کو دیکھیں۔ چین اور روس آپ کیلئے ہرگز کسی جنگ میں نہیں الجھیں گے۔ اپنا نقصان ہرگز نہیں کریں گے ۔ وہ امریکہ کو نیچا دکھانے کیلئے آپ کی مدد ضرور کر سکتے ہیں لیکن اس وقت اور اس حد تک جب تک ان کے اپنے مفاد خطرے میں نہ پڑ جائیں۔ کیا یورپ آپ کے ساتھ کھڑا ہے یا کھڑا ہوگا؟ یورپ کی ٹرمپ‘ نیتن یاہو مخالفت یا ناپسندیدگی اور چیز ہے لیکن آپ کی مالی‘ عسکری اور اخلاقی مدد بالکل اور بات۔ یورپ کیا دنیا کا کوئی ملک یہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نیتن یاہو پسندیدہ نہ سہی لیکن پسندیدہ آپ بھی نہیں۔ یہ خوش فہمی بھی نکال دیجیے کہ آپ اصولوں پر کھڑے ہیں تو دنیا میں کچھ لوگ آپ کا ساتھ دیں گے۔ ایسا نہیں ہونے والا اور آج کی دنیا میں ایسا نہیں ہو گا۔ یہ طاقت اور دولت کو ماننے والی دنیا ہے اور آپ کے پاس دونوں ہی نہیں۔ یہ کمزوریاں اور بڑھانی ہیں یا ان کا مداوا کرنا ہے؟ ملکوں کی مزید دشمنیاں مول لینی ہیں یا دنیا میں کچھ دوست بھی رکھنے ہیں؟ آپ ایٹمی طاقت بننا چاہتے ہیں‘ ضرور بنئے لیکن جو چھوٹے ملک یہ طاقت بنے ہیں‘ انہوں نے تدبیر سے یہ صلاحیت حاصل کی تھی۔ پاکستان بے شمار جنگیں لڑا ہے لیکن جوہری طاقت اس نے جنگ لڑ کر حاصل نہیں کی۔ یہ قوت اسے شمشیر نے نہیں تدبیر نے بخشی ہے۔ آپ ایک اثاثے کیلئے کیوں اپنا ہر اثاثہ برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ دانشمندی نہیں‘ یہ حکمت نہیں۔ حکمت یہ ہے کہ آپ موزوں وقت اور حالات کا انتظار کریں اور اپنے باقی اثاثے بچا کر رکھیں۔ میرا خطاب کسی ایک سے نہیں‘ ایران سے ہے اور ایران آپ سب ہیں۔ ہم آپ کے فیصلوں پر مسلط نہیں ہو سکتے۔ ہم خیر خواہی کر سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ثالثی کر سکتے ہیں۔ آپ کے گھر جاکر ہمارے سپہ سالار تین دن تک آپ کے اختلاف دور کرانے اور سمجھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ سب تو ہم کر چکے اور بعض آوازیں یہ بھی سن چکے کہ پاکستان امریکہ کیلئے یہ جنگ بندی اور مذاکرات کروا رہا ہے۔ آپ میں سے بیشتر نے پاکستانی کوششوں کا اعتراف کیا لیکن خیر خواہی اور مہمان نوازی کرنے پر وہ آوازیں جو منفی جملے کہتی ہیں‘ ان کا دکھ بھی بہت ہوتا ہے۔
اگر یہ جنگ جاری رہی‘ آپ کے ڈالر منجمد رہے‘ آپ پر پابندیاں بدستور رہیں‘ آپ کی ناکہ بندی جاری رہی‘ آپ پر بم برستے رہے تو بے شک آپ اسرائیل اور امریکی اڈوں کو تہس نہس کر دیں‘ آبنائے ہرمز بند رکھیں‘ پھر بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے آپ کے پاس۔ آپ کا نقصان بڑا ہے اور زیادہ اثرات والا ہے۔ نہ کریں! بس کردیں۔ انا کا مسئلہ امریکہ کیلئے چھوڑ دیں۔ یہ راستہ کعبہ کو نہیں‘ ترکستان کو جاتا ہے۔ من فدائے تو شوم۔ قربانت شوم آغا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved