موجودہ عالمی نظام اور امنِ عالم کو اصل خطرہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہے۔ مُتلوّن مزاج اور سیماب طبیعت کے حامل! اور اس عہد کی بدقسمتی کہ وہ ہٹلر اور مسولینی کی طرح جمہوری عمل سے سپر پاور کے تختِ اقتدار پر متمکن ہوگیا اور کانگریس سمیت امریکی مقتدرہ بھی اس کے سامنے بے بس ہے۔ عالمی قوتوں پر لازم ہے کہ دنیا کو اس شخص کے شر سے نجات کیلئے اجتماعی طور پر کوئی تدبیر کریں۔ ٹرمپ کی شخصیت تضادات کا مجموعہ ہے‘ مثلاً ایک لمحے میں وہ کہتا ہے: ''ایران کی نیوی ختم ہو چکی ہے‘ ایئر فورس تباہ ہو چکی ہے‘‘ لیکن دوسرے لمحے کہتا ہے: ''ایران اب بھی امریکہ کی فورسز پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ (2) وہ کہتا ہے: ''امریکہ نے اہم تزویراتی مقاصد حاصل کر لیے ہیں‘‘ لیکن دوسرے سانس میں وہ کہتا ہے: ''ہمارا مشن مکمل ہونے کے قریب ہے‘‘۔ (3) ''جنگ کے اختتام کی بابت اُس نے کہا: ''ہمارا مشن تکمیل کے قریب ہے‘‘ لیکن پھر دوسری سانس میں کہتا ہے: ''اگلے دو تین ہفتوں میں ہمارا مشن مکمل ہو جائے گا‘‘۔ (4) وہ کہتا ہے: ''اگلے دو تین ہفتوں میں ایران پر شدید ترین حملے جاری رہیں گے اور ہم توانائی کی تنصیبات (بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا نظام) کو تباہ کرد یں گے اور ایران کو پتھر کے دور میں لے جائیں گے‘‘ پھر وہ کہتا ہے: ''چار پانچ ہفتوں میں یہ کام ہو جائے گا اور کبھی کہتا ہے : جب تک ضروری ہے‘ حملے جاری رہیں گے‘‘۔ (5) جنگ بندی اور مذاکرات کے بارے میں ایک دن کہا: ''ایران نے یورینیم ہمارے حوالے کرنے سمیت سب باتیں مان لی ہیں‘‘ مگر پھر دوسرے ہی سانس میں وہ کہتا ہے: ''اگر ایران نے سب باتیں نہ مانیں اور ڈیل نہ ہوئی تو ہم تمام پاور پلانٹس اور پُل تباہ کر دیں گے‘‘۔ (6) سیز فائر کے بارے میں کہا: ''انتہائی ناپسندیدہ چیز ہے‘ لیکن ایران کی نئی حکومت ڈیل کی شدت سے خواہش مند ہے‘‘ اس کے برعکس ایران نے اسے جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا۔ (7) ایران کی نیوکلیئر اور میزائل صلاحیت کے بارے میں جون 2025ء کے حملوں کے بعد دعویٰ کیا ''اسے مکمل تباہ کر دیا گیا ہے‘‘ لیکن بعد میں کہا: ''ایران ایٹم بم بنانے سے چند قدم کے فاصلے پر تھا اوردور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل تیار کر رہا ہے‘ یہ امریکہ کو بھی ہدف بناسکتے ہیں‘‘۔ (8) ایک طرف کہا: ''امریکہ کو دوسروں کی مدد کی ضرورت نہیں‘‘ دوسری جانب وہ یورپی ممالک‘ جاپان اور جنوبی کوریا کو کوس رہے ہیں اور ملامت کر رہے ہیں کہ وہ مدد کو نہیں آئے‘ کبھی اُنہیں کاغذی شیر قرار دیتا ہے‘‘۔ (9) آبنائے ہرمز کھولنے کے بارے میں پہلے کئی ڈیڈ لائنیں مقرر کیں‘ 48 گھنٹے کے اندر کھول دیا جائے‘ پھر اس مدت کو پانچ دن بڑھایا اور پھر دس دن کی توسیع کی‘ پھر کہا: امریکہ پر آبنائے ہرمز کی بندش کا کوئی اثر نہیں پڑتا‘‘۔ یہ سارے متضاد بیانات سماجی رابطے کی ویب سائٹ یا مختلف مواقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے جاری کیے۔ ہمارے حکمرانوں کی طرح ٹرمپ بھی میڈیا سے سخت نالاں ہیں اور اسے جھوٹ کا پرچارک قرار دیتے ہیں‘ نیز اپنی حریف جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کو بھی جھوٹ کا پرچار ک اور غدار قرار دیتے ہیں۔
ہم اپنی طالب علمی کے زمانے میں کبھی مداری کے کرتب دیکھا کرتے تھے‘ وہ اپنے چیلے سے کہتا: ''بچہ جمورے! میں کون؟‘‘ وہ جواب دیتا: ''عامل‘‘۔پھر پوچھتا: ''تُو کون؟‘‘ وہ جواب دیتا: ''معمول‘‘ پھر وہ کہتا: ''جو پوچھوں گا بتائے گا‘‘ وہ کہتا: ''ہاں! حکم میرے آقا‘‘۔ اسی طرح نیتن یاہو مداری کے کرتب والا ''عامل‘‘ ہے اور ٹرمپ اس کا ''معمول اور بچہ جمورا‘‘ ہے‘ مداری کے چیلے کی طرح اس کا ہر حکم بجا لاتا ہے‘ لہٰذا امریکہ کا اصل دارالحکومت تل ابیب کو قرار دینا چاہیے۔ ان دونوں عامل اور معمول کی ڈکشنری میں رحم‘ ترس‘ بخشش اور نرمی جیسے الفاظ نہیں ہیں‘ صرف ظلم ہے‘ عدوان ہے‘ انتقام ہے‘ گرفت ہے اور اپنے ہر مخالف کو صفحۂ ہستی سے مٹانے اور نیست ونابود کرنے کی نہ ختم ہونیوالی خواہش ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ بتاتے ہیں کہ امریکی صدور کی تاریخ میں ٹرمپ امریکی عوام میں اپنی نامقبولیت کے کم ترین ترجے پر ہے‘ مگر ٹرمپ کو اس کی قطعاً پروا نہیں ہے‘ اُس نے اپنے رائے دہندگان کو عصبیت کی عینک پہنا دی ہے اور انہیں ٹرمپ ہی سچا نظر آتا ہے۔
امریکی دستور کے مطابق ایٹم بم کی کلید یعنی دنیا کو تباہ وبرباد کرنے کی کنجیاں صدارتی منصب کے سبب ٹرمپ کے پاس ہیں اور ایسا ناقابلِ اعتبار اور مغلوب الغضب شخص کسی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ہم نے اپنی شعوری زندگی میں امریکی کانگریس اور مقتدرہ کو اتنا بے بس نہیں دیکھا کہ وہ ٹرمپ جیسے شخص کو ممنوعہ حدود عبور کرنے پرروک ٹوک عائد کر سکیں۔ پس اس کا وجود دنیا کیلئے خطرے کی علامت ہے۔ بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے: بعض مواقع پر ٹرمپ انتہائی حساس بیان دیتا ہے اور پھر اگلے دن اسکے برعکس بیان جاری کرتا ہے‘ اس کے نتیجے میں نیویارک سٹاک ایکسچینج میں ٹرمپ سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض دلالوں نے ایک دن میں کروڑوں ڈالر کمالیے۔ چونکہ ٹرمپ کاروباری آدمی ہے‘ اس لیے اس کو ڈِیل کا لفظ بہت پسند ہے۔
اسی طرح برطانیہ‘ فرانس اور ہالینڈ وغیرہ کبھی نوآبادیاتی عالمی طاقتیں تھیں‘ ٹرمپ نے انہیں بھی بے توقیر کر دیا ہے‘ وہ انہیں کچوکے لگاتا ہے‘ یعنی جھٹکے پہ جھٹکے دے رہا ہے‘ کبھی انہیں کاغذی شیر کہتا ہے۔ پس اُس نیٹو اتحادیوں کوسمجھ نہیں آرہی کہ ٹرمپ کی ملامت اور بے توقیری سے کیسے اپنا دامن بچائیں۔ فرانسیسی صدر ایمانول میکرون کی برسرِ عام بے عزتی کی اور کہا: ''یہ اسی قابل ہے‘ اسی وجہ سے اس کی بیوی نے اسے تھپڑ مارا ہے‘‘۔ فتح کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ دشمن شکست تسلیم کرلے‘ہتھیار ڈال دے اور گھٹنے ٹیک دے۔اس معنی میں تو امریکہ اور اسرائیل کوایران کے خلاف فتح نصیب نہیں ہو سکی‘ البتہ غزہ اور ایران میں انہوں نے تباہی اور بربادی کی انتہا کر دی ہے ۔لیکن مِن حیث القوم ایران کی مشکلات کو سہارنے اور برداشت کرنے کی قوت انتہا درجے کی ہے کہ ظالم مار مار کر تھک جائے‘ مگر مظلوم ہمت نہ ہارے۔ اس سے ہٹ کر فتح یا شکست اضافی اصطلاح ہے‘ لہٰذا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلّط کردہ جنگ ایک ایسا عجوبہ ہے کہ جس میں دونوں فریق فاتح ہیں‘ شکست خوردہ کوئی بھی نہیں ہے۔ اسی لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا یاازخود مسلّط کردہ اس ابتلا سے نکلنے کیلئے راستہ تلاش کرنا فریقین کیلئے دشوار ہو رہا ہے۔ اسی لیے بعض تجزیہ کار کہتے ہیں: جنگ بندی کا کوئی ایسا معاہدہ ترتیب دیا جائے جو قابلِ عمل بھی ہو‘ جس میں تحدید وتوازن کا نظام بھی ہو اور دونوں کیلئے اشک شوئی (Face Saving) کا سامان بھی ہو‘ یعنی آبرومندانہ شرائط ہوں‘ جس میں دونوں وِن وِن کی پوزیشن میں ہوں‘ یعنی ہر ایک اپنے آپ کو فاتح قرار دے سکے اور اپنے عوام کو مطمئن کرکے اس ابتلا سے نکل سکے‘ کیونکہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات نومبر کے اوائل میں متوقع ہیں اور ناکامی کی صورت میں ٹرمپ کو آئندہ کانگریس کے دونوں ایوانوں (سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان) کے جزوی انتخابات میں شدید دھچکا لگ سکتا ہے‘ اسی موقع پر بعض ریاستوں کے گورنروں کے انتخابات بھی منعقد ہوں گے اور نتائج خلافِ توقع آنے کی صورت میں ٹرمپ کیلئے بقیہ مدتِ صدارت چلانا دشوار ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر ایران کے سو ارب ڈالر مالیت کے مختلف اثاثے امریکہ اور یورپی ممالک کے بینکوں میں منجمد ہیں‘ اگر وہ واگزار ہو جائیں تو ایران کے تباہ شدہ شہری ڈھانچے کی تعمیرِ نو میں مدد مل سکتی ہے اور تجارت پر پابندیاں اٹھنے کی صورت میں اسکے مالی وسائل میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر وہ اپنا ایٹمی پروگرام مؤخر بھی کر دے تو اس کیلئے چنداں نقصان دہ نہیں ہے ۔ایران کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ جنگ بندی دیرپا یا دائمی ہو کیونکہ اسکے نزدیک امریکہ اور اسرائیل جھوٹے ہیں‘ ناقابلِ اعتبار ہیں‘ لہٰذا انہیں جنگ بندی کے معاہدے پر ان کو قائم رکھنے کیلئے مضبوط ضمانت چاہیے‘ جو موجودہ حالات میں کسی حد تک چین اور روس دے سکتے ہیں‘ سو فیصد کی ضمانت تو کسی کے پاس نہیں ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved