مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے حالات میں سابق سعودی سفیر ڈاکٹر علی عواض العسیری کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ سابق سعودی سفیر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض سفارتی نہیں بلکہ عقیدت اور خون کا رشتہ ہے۔ ڈاکٹر علی عواض کا پاکستان کے ساتھ عقیدت و احترام پر مبنی تعلق رہا ہے۔ شہباز شریف جب پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تب انہوں نے سعودی سفیر کی اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں رائیونڈ روڈ کے مقابل ایک اہم شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا تھا۔ سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر ممکن طریقے سے سعودی عرب کی حفاظت کرے گا۔ سابق سفیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب خلیج میں جنگ کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ علاقائی توازن کے تناظر میں پاکستان کی عسکری قوت اور ایٹمی صلاحیت سعودی عرب کے لیے ایک ایسی سکیورٹی گارنٹی ہے جس کے سامنے کوئی بھی جارح ملک ٹھہر نہیں سکتا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بھی بارہا واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کی ایٹمی اور عسکری طاقت سعودی عرب کے دفاع کی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔
گزشتہ برس معرکۂ حق کے بعد اسلام آباد حقیقی معنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سنبھالنے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اب یہاں کی فضاؤں میں ایک نئی تاریخ رقم ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان اس خطے کی قیادت کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔ شنید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستان ایک بار پھر ایران‘ امریکہ مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔ تاہم اس بار معمول کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اس بار اسلام آباد میں دنیا کی اہم ترین اور طاقتور عالمی شخصیات کی آمد متوقع ہے‘ جن کی پاکستان آمد ملک کے مستقبل کو ایک نئے دور میں داخل کر سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان‘ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان‘ ترک صدر رجب طیب اردوان‘ مصری قیادت اور یورپی رہنمائوں سمیت سب کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر ٹکی ہوئی ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا ایک ہنگامی دورہ کیا جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تین روزہ تہران کا دورہ کیا۔ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد چین کی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے بیجنگ سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ان حالات میں پاکستان بین الاقوامی منظرنامے میں ایک نئے پاور سینٹر کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر امریکہ ایران امن مذاکرات کے بیچ ایک اہم پیش رفت پس منظر میں چلی گئی۔ جب دنیا بھر کی نظریں جنگ بندی کی میعاد کے خاتمے اور مذاکرات کے امکانات پر مرکوز تھیں‘ اس دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے شمالی کوریا کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات صدر کِم جونگ اُن سے ہوئی۔ مقتدر حلقے اس پیشرفت کو امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں‘ کیونکہ بدلتے علاقائی حالات کے تناظر میں تائیوان کا مسئلہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ تائیوان کی سٹرٹیجک اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں استعمال ہونے والی جدید الیکٹرانک چپس کی بڑی پیداوار اسی خطے سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک عام گھڑی اور کیلکولیٹر سے لے کر جدید ترین جنگی جہازوں‘ میزائلوں اور بحری جہازوں تک ہر جگہ استعمال ہونے والی چپس کی بڑی تعداد تائیوان میں تیار کی جاتی ہے۔ تائیوان اور امریکہ کے تعلقات نہایت گہرے ہیں۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق اگر ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ طویل ہوتی ہے تو ان حالا ت میں امریکہ کے لیے تائیوان کا دفاع مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے جنگی وسائل مشرقِ وسطیٰ میں الجھ جائیں گے اور تائیوان کے دفاع یا چین کے مقابلے کے لیے امریکی قوت میں کمی ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ایک پیشرفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ لگ بھگ ایک دہائی کے بعد تائیوان کی اپوزیشن کے نمائندوں نے حال ہی میں چینی قیادت سے چین میں ملاقات کی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب تائیوان کی داخلی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں اور چین نواز قوتیں اقتدار میں آ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں امریکہ ممکنہ طور پر ردعمل دے گا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہاں شمالی کوریا کا کردار بھی اہم ہو گا‘ جو کسی نہ کسی سطح پر امریکہ کو ایک نئے محاذ میں الجھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا کہ اگر امریکی اثر ورسوخ کمزور پڑتا ہے تو تائیوان ہانگ کانگ کی طرز پر چین کے ساتھ ضم ہو سکتا ہے‘ جس کے عالمی اثرات نہایت گہرے ہوں گے۔
تائیوان کی ٹیکنالوجی سے جہاں دنیا بھر کے ممالک مستفید ہو رہے ہیں‘ وہیں اس کا انتخابی نظام بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ تائیوان کے چیف الیکشن کمشنر نے پاکستان کے انتخابی نظام میں مؤثر اصلاحات کی پیشکش کی تھی اور بطور وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان وہ مجھ سے رابطے میں رہتے تھے۔ انہوں نے مجھے تائیوان آنے کی دعوت بھی دی‘ مگر چونکہ پاکستان اور تائیوان کے مابین سفارتی تعلقات موجود نہیں اس لیے الیکشن کمیشن نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ تائیوان سے ہونے والی خط وکتابت کا ریکارڈ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آرکائیوز میں موجود ہو گا۔
اگر داخلی سیاست کی بات کی جائے تو حکومت اپنے دو سال مکمل کر چکی ہے اور اب تیسرا سال شروع ہو چکا ہے‘ جو ایک نازک مرحلہ ہے۔ حالات کے پیشِ نظر قومی حکومت کے قیام کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سیاست کے دروازے محدود رہے جبکہ عدلیہ‘ میڈیا‘ بیورو کریسی اور دیگر آئینی اداروں کی کارکردگی مثالی نہیں رہی۔ پنجاب اور وفاق کی قیادت کے درمیان فاصلے کی باتیں بھی گردش میں ہیں جبکہ حکمران جماعت کے اہم رہنما حمزہ شہباز کی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ اسی طرح پرویز الٰہی‘ جہانگیر خان ترین اور چودھری نثار علی خاں کے دوبارہ متحرک ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ کابینہ کے چند بااثر ارکان علیحدگی کے امکانات پر غور کر رہے ہیں‘ جس سے قومی حکومت کا تاثر مزید مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ اس وقت حکومت کو خلیجی بحران کے سبب ایک دبائو کا سامنا ہے مگر امکان یہ ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں یہ بحران کم ہو سکتا ہے۔ امریکہ ایران مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح فعال اور سرگرم ہے۔ صدر ٹرمپ بھی پاکستان کے ثالثی کردار کو مؤثر دیکھنا چاہتے ہیں۔
مذاکرات سے قبل امریکہ کی جانب سے ایران کو پُرامن جوہری مقاصد کے لیے 30 ارب ڈالر کی پیشکش اور سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے خلیجی ممالک پر مشتمل ایک کنسورشیم کی تجویز سامنے آئی ہے‘ تاہم اس خبر کی حقانیت پر سوالیہ نشان ہے۔ عالمی طاقتوں کی نظریں اس وقت ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہیں‘ جہاں ہر قدم غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور کسی بھی مثبت نتیجے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گوادر پورٹ پر سعودی عرب کی دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور سلطنتِ عمان کی جانب سے حالیہ سفارتی و معاشی تعاون کی یقین دہانی جیو پالیٹکس میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ گوادر اب عالمی گیم چینجر بنتا جا رہا ہے۔ عمان اور سعودی عرب کی شراکت اس امر کی دلیل ہے کہ مستقبل کی معاشی شاہراہیں گوادر سے ہو کر گزریں گی۔ اگر پاکستان اس موقع سے مؤثر فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ قدم خطے کی تقدیر بدلنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved