پیٹرو ڈالر کی اصطلاح سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے یہ کسی کرنسی کا نام ہے۔ دراصل یہ کوئی کرنسی نوٹ نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے جس کی ابتدا اکتوبر 1973ء میں عرب اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ میں اُس وقت ہوئی جب سعودی عرب سمیت تیل پیدا کرنے والے دیگر خلیجی ممالک (OPEC) نے امریکہ اور یورپ کو تیل کی ترسیل روک دی کیونکہ وہ اسرائیل کی حمایت کر رہے تھے۔ عرب ممالک نے پہلی مرتبہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا جس کے نتیجے میں صرف تین مہینے میں خام تیل کی قیمت میں چار گنا اضافہ ہوا جو تین ڈالر سے بڑھ کر 12 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ اس بحرانی صورتحال کے باعث امریکہ میں تیل کی شدید قلت پیدا ہو گئی اور پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ اسے 1973ء میں جنم لینے والے تیل کے بدترین بحران کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس شدید بحران سے نمٹنے کے لیے اور آئندہ اس طرح کی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے امریکہ نے عرب ممالک کی تیل پر اجارہ داری کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔ جولائی 1974ء میں امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے خفیہ طور پر سعودی عرب کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں شاہ فیصل سے ایک خفیہ معاہدہ طے پایا جس کی چار بنیادی شرائط تھیں۔ اول‘ سعودی عرب سارا تیل صرف امریکی ڈالر میں بیچے گا جس کے عوض امریکہ سعودی شاہی خاندان کو فوجی تحفظ دے گا۔ دوم‘ تیل بیچ کر جو ڈالر ملیں گے سعودی عرب انہیں دوبارہ امریکی ٹریژری بانڈز میں لگائے گا اور امریکہ سعودی عرب کو جدید ہتھیار اور فوجی تربیت دے گا۔ سوم‘ سعودی عرب تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کو بھی ڈالر میں تیل بیچنے پر راضی کرے گا جس کے نتیجے میں امریکہ سعودی عرب کو ایران اور اسرائیل سے تحفظ فراہم کرے گا۔ چہارم‘ سعودی عرب تیل کی قیمت ڈالر میں طے کرے گا اور سعودیہ میں امریکی کمپنیوں کو ٹھیکے دے گا۔
یوں اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی کوششوں سے 1975ء تک پورا OPEC راضی ہو گیا کہ تیل کی قیمت صرف ڈالر میں طے پائے گی۔ اس طرح عراق‘ ایران اور ونیزویلا سب نے ہاں کر دی۔ یوں امریکی ڈالر تیل کی کرنسی بن گیا۔ اس اعتبار سے پیٹرو ڈالر نے 1973ء کے بحران کے نتیجے میں جنم لیا اور امریکہ نے خلیجی ممالک سے تیل کا ہتھیار اپنے قبضے میں لے کر اسے امریکی ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ پوری دنیا میں تیل کی خرید و فروخت ڈالر میں ہونے لگی جس کے باعث ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہونا لازمی امر ٹھہرا۔ خود سعودی عرب سمیت تمام تیل پیدا کرنے والے ممالک ڈالر کے محتاج ہو گئے اور اس طرح عالمی تجارت میں ڈالر مضبوط ترین کرنسی بن گیا۔ پیٹرو ڈالر کا یہ نظام 1944ء میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر مشتمل دو عالمی معاشی اداروں کے قیام کے بعد ڈالر کی مضبوطی کے لیے اٹھایا جانے والا دوسرا بڑا اقدام تھا جس کے نتیجے میں عالمی معاشی اور تجارتی مراکز میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ اسی معاہدے کے تحت عرب ممالک نے تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کے خطیر حصہ سے امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کی جو امریکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئی۔ مزید برآں ان پانچ دہائیوں میں امریکہ نے تیل کی ترسیل کے عوض سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو ایک طرف نوٹ چھاپ کر ادائیگیاں کیں اور دوسری طرف اربوں ڈالرز کا دفاعی ساز و سامان بیچ کر خوب منافع کمایا۔ یہ معاہدہ پچاس سال کی مدت کے لیے طے پایا تھا جس کی تجدید دونوں ممالک کی باہمی رضا مندی سے کی جا سکتی تھی۔ 9 جون 2024ء کو 50 سالہ یہ دفاعی معاہدہ ختم ہو گیا مگر مبینہ طور پر سعودی عرب نے ابھی تک اس کی تجدید نہیں کی۔ اسی لیے 2024ء کے بعد ''پیٹرو یوآن‘‘ کی باتیں شروع ہو گئیں۔ دوسری طرف 28 فروری 2026ء سے شروع ہونے والی ایران‘ اسرائیل اور امریکہ جنگ نے پہلی بار اس 50سالہ نظام کو کھلے عام چیلنج کیا جب ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول قائم کر کے یہ اعلان کر دیا کہ وہاں سے صرف وہی جہاز گزرے گا جو امریکی ڈالر کے بجائے یوآن یا کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کرے گا۔ یوں 50سال تک پوری آب وتاب سے چلنے والے پیٹرو ڈالر کے نظام کو پہلی بار چیلنج کیا گیا ہے اور اب اس کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔
اب یہاں پر یہ اہم سوال سر اٹھانے لگا ہے کہ کیا واقعی پیٹرو ڈالر کا سنہری دور ختم ہونے والا ہے؟ چند روز قبل معروف امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے امریکہ کو باقاعدہ خبردار کیا ہے کہ اگر علاقائی کشیدگی کے باعث ڈالر کی قلت پیدا ہوئی تو وہ تیل کی فروخت اور دیگر مالیاتی لین دین کے لیے چینی یوآن سمیت متبادل کرنسیوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ عالمی سیاست اور معیشت کے ماہرین اس خبر پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اماراتی حکام ڈالر کی لیکویڈیٹی متاثر ہونے کی صورت میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گے اور اس طرح عالمی تجارت میں چینی یوآن کا کردار بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ چونکہ چین دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے‘ اور اب یوآن کو ڈالر کے مدمقابل لانے کی تیاریاں تیز دکھائی دے رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف معاشی مجبوری نہیں بلکہ امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنی معاشی پالیسیوں میں مکمل طور پر آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک پالیسی باقاعدہ تبدیل نہیں کی گئی لیکن متحدہ عرب امارات کا یہ مؤقف اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی منڈی اب صرف ایک کرنسی کے سہارے نہیں چلے گی۔ اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی اور آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول قائم رہا تو ممکن ہے کہ یہ فیصلہ حقیقت میں بدل جائے‘ جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے جاری پیٹرو ڈالر کے نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ توقعات کے برعکس اور جنگ کے باوجود امریکی ٹریژری بانڈز اور ڈالر اب بھی دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہیں۔ اگرچہ ایک طرف امریکہ کا قومی قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے تو دوسری طرف ایران نے جنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ جو ملک ایران کے خلاف ہے وہ اس کے ساتھ اس کی کرنسی میں تجارت نہیں کرے گا جس کے نتیجے میں جنوبی افریقہ‘ برازیل اور انڈونیشیا سب مقامی کرنسی میں تجارت کو فروغ دے رہے ہیں جس سے پیٹرو ڈالر مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ ہاں البتہ اگر جنگ جلد ختم ہو جائے اور امریکہ سعودی عرب سے نئے دفاعی معاہدے کر لے تو تیل کی تجارت کا بڑا حجم ڈالر میں رہے گا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یوآن‘ درہم اور ڈیجیٹل کرنسی بھی عالمی تجارت میں شریک ہوں گے۔ ڈالر بادشاہ رہے گا مگر شاید اکیلا نہیں۔ بلاشبہ ایران اسرائیل جنگ نے پیٹرو ڈالر پر کاری ضرب لگائی ہے۔ 1974ء میں جو نظام سعودی تیل کے کنوؤں سے نکلا تھا‘ 2026ء میں وہ آبنائے ہرمز میں ڈوب رہا ہے۔ ادھر آئی ایم ایف کے اقتصادی ماہرین کا انداز ہے کہ 2030ء تک تیل کی تجارت کا کم و بیش تیس فیصد حصہ ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یوں اگلے 10 سال میں دنیا ''پیٹرو ڈالر‘‘ سے ''پیٹرو ڈیجیٹل ‘‘ کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ ڈالر رہے گا لیکن وہ اکیلا بادشاہ نہیں ہوگا۔ تیل کی قیمت ڈالر کے ساتھ ساتھ یوآن‘ درہم اور شاید بڈیجیٹل کرنسی میں بھی طے ہو۔ تاریخ میں کرنسیاں اسی طرح بتدریج مرتی ہیں‘ اچانک نہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پیٹرو ڈالر کے زوال کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved