اللہ تعالیٰ کے پانچ صفاتی نام ایسے ہیں جو قرآن مجید میں تسلسل کے ساتھ مذکور ہوئے ہیں۔ ذاتی نام یعنی اسم اعظم اللہ کے بعد پہلا نام ''الملک‘‘ یعنی کائنات کا بادشاہ ہے۔ دوسرا ''القدوس‘‘ ہے‘ جس کا معنی انتہائی پاک ہے‘ کہ جس کی پاکیزگی میں کوئی عیب نہ ہو۔ تیسرا ''السلام‘‘ ہے یعنی جس سے ہر ایک کو سلامتی ملتی ہے۔ چوتھا ''المؤمن‘‘ جس سے ہر ایک کو امن ملے۔ پانچواں صفاتی نام ''المھیمن‘‘ ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک پر نگران ہے۔ ان پانچوں صفاتی ناموں کو تسلسل کے ساتھ سلیس اردو میں بیان کیا جائے تو مطلب یوں واضح ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایسی عظیم ذات ہے کہ وہ حکمران ہے تو اس کی حکمرانی میں انتہائی پاکیزگی ہے۔ اس سے ہر مخلوق کو سلامتی ملتی ہے۔ ہر ایک کو جان‘ مال‘ عزت وآبرو کا تحفظ ملتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر پوری پوری نگرانی کر رہا ہے کہ کون ہے جو اپنی نگرانی میں اپنے زیرِ نگیں لوگوں پر ایسی حکمرانی کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری دکھائی دیتی ہو۔ وہ حکمرانی انتہائی مبارک ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی مندرجہ بالا پانچ صفات کی جھلکیاں دکھائی دیں۔
خلیجی علاقے میں جنگ کو امن میں تبدیل کرنے کیلئے ہمارے وزیراعظم جناب شہبازشریف دن رات اڑانیں بھر رہے ہیں اور ہمارے فیلڈ مارشل محترم سید عاصم منیر کبھی ایک ملک تو کبھی کسی دوسرے ملک کا دورہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ رات کو وہ اپنے اللہ سے امن کی التجا کرتے‘ قرآن پڑھتے اور پاک وطن کی سرزمین کی سلامتی کیلئے فیلڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم اگر سعودی عرب میں ہوتے ہیں تو فیلڈ مارشل ایران کا دورہ کرتے ہیں۔ اس بھاگ دوڑ اور محنت کا اللہ تعالیٰ نے نتیجہ یہ نکالا کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی مدت میں مزید اضافہ کر دیا اور کہا کہ ایران کے لیڈر اور نمائندے جب تک متفقہ تجاویز تک نہیں پہنچتے‘ ہم ایران پر حملہ روکے رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ میں یہ فیصلہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان کی درخواست پر کر رہا ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بحیرۂ عرب میں محاصرہ برقرار رکھیں گے۔ دوسری طرف ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اقدام کو جنگ کا اعلان سمجھتا ہے۔ یوں امن اور جنگ کے مابین کشمکش جاری ہے۔ فیلڈ میں فیلڈ مارشل صاحب کی بھاگ دوڑ جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ جمعہ کے دن کی بابرکت گھڑیوں میں صلح کا گولڈن چانس امن کے دامن کو تھامتا ہوا دکھائی دے۔
آبنائے ہرمز کے دامن میں قشم نامی جزیرہ کی مٹی اور پہاڑ دیکھنے کے لائق ہیں۔ یہ مٹی اور پہاڑ سرخ ہیں۔ آسمان سے جب اس سرخ زمین کا مالک بارش برساتا ہے تو منظر اس طرح کا بنتا ہے جیسے سرخ خون کے ندی نالے آبنائے ہرمز میں خون شامل کر رہے ہیں۔ مجھے تو یہ سمجھ آتی ہے کہ انسانوں کے خالق نے انسانوں کو سمجھایا ہے کہ کہیں اپنا خون اس آبنائے میں بہانا نہ شروع کر دینا۔ سنبھل کر چلنا‘ صلح وصفائی سے رہنے کا نام ہی انسانیت ہے۔ جن کا یہ علاقہ ہے‘ ان سے دستور کے مطابق حاصل کرنا ہی انسانیت کی عظمت ہے۔ اسی عظمت کا جھنڈا تھامے پاک وطن سارے جہاں میں پورے قد کاٹھ سے کھڑا ہے۔ صلح کا پرچم تھامنے والے کو اِدھر اُدھر کی دلفگار باتیں بھی سننا پڑتی ہیں مگر امن کے سچے علمبردار ان باتوں کی پروا نہیں کیا کرتے۔ قشم جزیرے کے لوگ سرخ مٹی سے ایک تکنیک سے ایسا آئل اور ملیدہ بناتے ہیں کہ سرخ تیل کو روٹی پر ڈالا جاتا ہے تو یہ سرخ روٹی اسی طرح قوت بخش بن جاتی ہے جس طرح دیسی گھی سے روٹی قوت بخش بن جاتی ہے۔ اس میں انسانیت کے نام پیغام ہے کہ روٹی کی خاطر انسانیت کا خون مت بہائو‘ نجانے خون بہنے سے دنیا بھر کی انسانیت کے کتنے لاکھوں‘ کروڑوں چولہے بجھ جائیں۔ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو مبارکباد کہ وہ انسانی چولہوں کو امن کی توانائی سے روشن رکھنے کی بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں۔
حضورﷺ کی عمر مبارک جب چھ برس تھی تو حضورﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ اپنے اللہ کے پاس تشریف لے گئیں۔ تب آنحضورﷺ کے دادا محترم عبدالمطلب اس پرورش کے ذمہ دار قرار پائے۔ گھر میں ماں کا جو پیار تھا وہ جناب عبدالمطلب کی ایک بہو سے ملتا تھا‘ جن کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسدؓ تھا۔ یہ جناب ابوطالب کی اہلیہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ تھیں۔ رشتے میں حضورﷺ کی چچی ماں تھیں۔ ان کے مبارک ہاتھوں کی پکی ہوئی روٹی کے لقمے حضورﷺ کے مبارک منہ میں نوالہ بنا کرتے تھے۔ جب حضور کریمﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو حضرت فاطمہ بنت اسدؓ نے اسلام کو سینے سے لگا لیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے ہجرت فرمائی تو فاطمہ بنت اسدؓ بھی مہاجر صحابیہ بن گئیں۔ جب مدینہ منورہ کی سرزمین پر اپنے اللہ سے ملاقات کو تشریف لے گئیں تو اللہ کے رسولﷺ نے ہچکیاں لیتے ہوئے ان کی وفات پر آنسو بہائے۔ جن ہاتھوں سے روٹی پکتی تھی اور لقمہ بن کر حضورﷺ کے شکم مبارک میں اترتی تھی‘ ان ہاتھوں کی شفقت اب آنسو بن کر حضورﷺ کے گلابی رخساروں پر بہہ رہی تھی۔ حضورﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ بقیع کے قبرستان میں مادرِ رسول کی قبر مبارک کی کھدائی ہو گی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھوں سے ہو گی‘ حضرت عمرؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام کے مبارک ہاتھوں سے ہو گی۔ جی ہاں! حضورﷺ کی چچی‘ جو رسول اللہﷺ کے لیے والدہ کی طرح تھیں‘ وہ سب صحابہ کی والدہ ہیں‘ ساری امت کی والدہ محترمہ ہیں۔
جب لحد سے مٹی نکالنے کا موقع آیا تو حضورﷺ خود قبر میں اترے اور مٹی نکالنے لگے۔ حتیٰ کہ حضورﷺ نے ساری مٹی نکال کر قبر کی لحد مبارک کو اس طرح درست اور شفاف کیا کہ خود اس لحد میں لیٹ کر جائزہ لیا۔ یہ واحد قبر مبارک ہے جس میں حضورﷺ خود لیٹے۔ جی ہاں! حضورﷺ نے ساری زندگی اپنی چچی ماں کی خدمت کی۔ آخری خدمت یہ تھی کہ قبر میں لحد کو سنوارا۔ اپنے کرتے مبارک کا کفن عطا کیا اور فرمایا: اس کُرتے کی (برکت کی) وجہ سے اللہ تعالیٰ چچی محترمہ کو جنت کا کرتا زیب تن کرائے گا۔ جی ہاں! وہ قبر کس قدر مبارک اور نورانی ہو گی کہ جسے صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں نے بنایا اور آخر پر لحد کو حضورﷺ نے خود سنوارا۔ اس کا ذرہ ذرہ آفتاب ہو گا تو پھر اس کے نورانی جلوئوں کی جلالت وجمال کا کیا عالم ہو گا!
لوگو! اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو بیٹی عطا فرمائی تو حضورﷺ نے اپنی چوتھی‘ سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی کا نام اپنی چچی ماں کے نام پر فاطمہ رکھا۔ سیدہ فاطمہ بتول الزہرا رضی اللہ عنہا نے جوانی میں قدم رکھا تو اب یہ فاطمہ بنت اسدؓ کی بہو بن گئیں۔ قارئین کرام! زمانہ آگے بڑھتا ہے‘ حضرت عمر فاروقؓ کا دور آتا ہے۔ ایران فتح ہوتا ہے تو ایرانی بادشاہ یزدگرد کی تین شاہ زادیاں مدینہ منورہ پہنچتی ہیں۔ ان تینوں بہنوں میں جو بہن ہر لحاظ سے ممتاز تھیں‘ وہ حضرت شہربانو تھیں۔ ان کی شادی حضرت امام حسینؓ سے ہو جاتی ہے‘ جو جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ باقی دو کی شادی حضرت عبدالرحمنؓ اور حضرت عبداللہؓ سے ہوئی‘ جو بالترتیب حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے بیٹے تھے۔ حضرت شہر بانو کی قبر مبارک ایران میں ہے۔ یہ حیدرِ کرارؓ اور سیدہ فاطمہ بتولؓ کی بہو ہیں۔ جی ہاں! بتانا یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے فیلڈ مارشل صاحب سید ہیں‘ جو بلادِ عرب سے بھی نسبت رکھتے ہیں اور ایران سے بھی۔ اسی لیے تو کوشاں ہیں کہ صلح کا جو گولڈن چانس ہے‘ اس کی پرورش امن کی گود میں ہو‘ جس کا نام ہے اسلام آباد!۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved