جنگ دنیا کا سب سے مہنگا کھیل ہے‘ تباہی ہے‘ ہلاکت ہے‘ انسانی جانوں اور اَملاک کا بے تحاشا نقصان ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرتے رہا کرو اور اگر تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو‘‘ (دارمی: 2484)۔ (2) ''اے لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرتے رہا کرو‘ لیکن اگر تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو صبر واستقامت سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر فرمایا: اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے‘ بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! تو ان کافروں کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما‘‘ (بخاری: 2966)۔ (3) ''دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو‘ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ شاید تمہیں ان کے ذریعے آزمایا جائے اور اللہ سے عافیت کا سوال کرتے رہا کرو‘ پس جب وہ غراتے اور چیختے چلاتے ہوئے تم تک آپہنچیں‘ تو زمین پر جمے رہو اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عرض کرو: اے اللہ! ہمارے اور ان کے رب! ہماری اور ان کی پیشانی ترے دستِ قدرت میں ہے اور تو ہی انہیں مار نے والا ہے‘ پس جب وہ تمہارے قریب آ پہنچیں تو ان پر چڑھ دوڑو اور جان لو! جنت چمکتی ہوئی تلواروں کے نیچے ہے‘‘ (مصنَّف عبدالرزاق: 9513)۔
ان احادیثِ مبارکہ کا جوہر یہ ہے کہ جنگ کسی کی بھی ترجیحِ اول نہیں ہونی چاہیے‘ لیکن اگر قضائے الٰہی سے دشمن جنگ مسلط کر دے تو پھر حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں‘ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘ پائے ثبات میں لغزش نہیں آنی چاہیے‘ حق کو غالب کرنے اور باطل کو نیست ونابود کرنے کیلئے آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اے ایمان والو! جب تمہارا کسی فوج سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو جائو‘‘ (الانفال: 45)۔ حدیث مبارک میں فرمایا: ''ہلاک کرنے والے سات (بڑے) گناہوں سے بچو: صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! وہ (بڑے) گناہ کون سے ہیں‘ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ اس کے غیر کو شریک ٹھہرانا‘ جادوکرنا‘ قتلِ ناحق‘ سود کھانا‘ یتیم کا مال (ظلماً) کھانا‘ (جہاد کے وقت) دشمن کے مقابل پیٹھ پھیر دینا‘ ایسی پاک دامن مومنات پر بدکاری کی تہمت لگانا جو (اپنی پاکدامنی کے سبب) بدکاری کے تصور ہی سے ناآشنا ہوں‘‘ (بخاری: 2766)۔الغرض جہاد کے موقع پر پسپائی اختیار کرنے اور پیٹھ پھیرنے کو رسول اللہﷺ نے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اے ایمان والو! جب جنگ میں تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو (حالات کیسے ہی دشوار کیوں نہ ہوں)اُن سے پیٹھ نہ پھیرو اور جس شخص نے جنگی حکمتِ عملی کے تحت یا مجاہدین کی کسی جماعت کوکمک پہنچانے کے ارادے کے بغیر اُس دن پیٹھ پھیری تو بیشک وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے‘‘ (الانفال: 15 تا 16)۔ اس آیۂ مبارکہ کی رو سے میدانِ جہاد میں اپنے مورچے سے ہٹنے کی مندرجہ ذیل صورتیں اللہ تعالیٰ کی وعید سے مستثنیٰ ہیں: (1) جنگی حکمتِ عملی کے تحت تازہ دم ہونے اور دوبارہ پلٹ کرحملہ کرنے کیلئے پیچھے ہٹے۔ (2) مجاہدین کے کسی ایسے گروہ کو کمک پہنچانے کیلئے پوزیشن تبدیل کرے جودشمن کے مقابلے میں دبائو میں ہے‘ کیونکہ یہ پسپائی جہاد سے فرار کیلئے نہیں ہے‘ بلکہ جہاد کے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہے۔
سطورِ بالا ہم نے تمہید کے طور پر لکھی ہیں۔ افغانستان سے ٹکرائو اور تصادم ہمارے لیے‘ ہماری ریاست وحکومت اور افواج کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور ناگزیر انتخاب ہے؛ چنانچہ جب افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ شروع ہوا اور بلوچستان وخیبر پختونخوا حتیٰ کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ ہونے لگے‘ ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس کے پیچھے بھارت کا انٹیلی جنس نیٹ ورک‘ جنگی تربیت اور سرمایہ ہے۔ حکومتِ پاکستان نے پہلے سفارتی ذرائع سے افغان حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ کام نہ کریں‘ یہ وہی بھارت ہے جو افغانستان پر سوویت یونین کی یلغار اور بعد میں اتحادی افواج کے قبضے کے دوران تحریکِ طالبانِ افغانستان کا شدید مخالف تھا‘ سوویت یونین اور اس کی مسلّط کردہ حکومت کا حامی تھا‘ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے عہدِ اقتدار میں بھی بھارت طالبان کا مخالف رہا۔ جبکہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں عالمی دبائو کے باوجود تحریکِ طالبانِ افغانستان کی حمایت کی‘ انہیں اپنی سرزمین پر پناہ دی‘ ان کی نسلیں یہاں پروان چڑھیں۔ کئی افغان شہری پاکستان میں کاروبار کر کے امیر کبیر بن گئے‘ بعض شرقِ اوسط اور مغربی ممالک میں جاکر رہائش پذیر ہو گئے‘ وہاں کی شہریت اختیار کی‘ کاروبار اور ملازمتوں سے فیض یاب ہوئے‘ وہ سب پاکستانی پاسپورٹ اور پاکستانی قومی شناختی کارڈ لے کر جاتے رہے ہیں۔ اس پورے دور کو فراموش نہیں کرنا چاہیے‘ ناشکری اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''اور یاد کرو! جب تمہارے رب نے آگاہ کر دیا تھا کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں ضرور تم پر اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو بیشک میرا عذاب ضرور سخت ہے‘‘ (ابراہیم: 7)۔ (2) ''اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آئو اور اللہ شکر کی جزا دینے والا خوب جاننے والا ہے‘‘ (النسآء: 147)۔ (3) ''اے آلِ دائود! تم شکر ادا کرنے کو اپنا شعار بنائو اور میرے بندوں میں سے شکر گزار کم ہیں‘‘ (سبا: 13)۔
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنے تنازعات کم کرنے کیلئے سب سے پہلے سفارتی سطح پر کوششیں کیں‘ پھر جب سفارتی سطح کی کوششیں بار آور نہ ہوئیں تو اعلیٰ حکام کی سطح پر ملاقاتیں کیں‘ اس کے بعد حکومتِ پاکستان کے ذمہ داران نے امارتِ اسلامیہ افغانستان کے عمائدین کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے مکالمہ کیا اور جب یہ بھی ناکام ہوا تو سعودی عرب‘ قطر اور ترکیے کو بیچ میں ڈالا تاکہ کوئی قابلِ قبول حل نکل آئے۔ لیکن امارتِ اسلامیہ افغانستان کے عمائدین کوئی یقینی معاہدہ کرنے اور ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری رہے اور اس دوران پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں‘ پھر ناگزیر طور پر پاکستانی افواج نے دہشت گردوں کی کمین گاہوں‘ تربیتی مراکز اور اسلحے کے ذخیروں پر حملے کیے تاکہ برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔
اس سے پہلے پاکستانی علماء کا ایک ایسا وفد بھی مصالحت کی خاطر افغانستان گیا‘ جن کے ساتھ تحریکِ طالبان افغانستان کا استادی شاگردی کا رشتہ تھا۔ انہوں نے امارتِ اسلامیہ افغانستان اور ٹی ٹی پی کی قیادت سے ملاقاتیں کر کے ان کو قائل کرنے اور کوئی قابلِ قبول حل نکالنے کی کوشش کی‘ لیکن وہ بھی ناکام لوٹے۔ الغرض پاکستان نے ہر طرح سے اتمامِ حجت کیا‘ کیونکہ پاک افغان تصادم کی صورتحال نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کیلئے تکلیف دہ ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن بھی پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے بریفنگ لے کر گئے‘ مگر مسئلہ پھر بھی حل نہ ہوا۔ اخگر مشتاق رحیم آباد ی کے یہ اشعار ہمارے حسبِ حال ہیں:
ہنگامۂ آفات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی؍ بربادیِ حالات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭ہونٹوں پہ تبسم‘ کبھی پلکوں پہ ستارے؍ یہ دل کی کرامات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭بے چین اگر میں ہوں‘ تو وہ بھی ہیں پریشاں؍ در پردہ کوئی بات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭ہر چند تکلف ہے ملاقات میں‘ لیکن؍ ارمانِ ملاقات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭مجرم کسے گردانیے‘ کہیے کسے معصوم؍ اک سیلِ شکایات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭کیوں کر کبھی نکلے گی‘ کوئی صلح کی صورت؍ اک تلخی ٔجذبات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی٭ افسوس بھری بزم میں بھی‘ مل نہیں سکتے؍ کچھ پاسِ روایات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭نالے بھی شرر بار ہیں‘ نغمے بھی شرر بار؍ اک آتشِ جذبات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭اَخگر ہی کا دامن نہیں نمناک شبِ غم؍ آنکھوں کی یہ برسات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved