میرے ذہن میں عام لوگ ہیں‘ غریب دیہاڑی دار اور نچلے درجے کے ملازمین۔ بڑے لوگوں کی باتیں ہی کچھ اور ہیں۔ ہمارے ملک میں بڑے لوگوں کی اصطلاح امیر آدمیوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ ان کے اس بڑے پن کی وجہ کوئی ذاتی کرشمہ اور کارنامہ نہیں بلکہ دولت کا حصول یا پھر صنعت‘ کاروبار اور زمینی جائیدادوں کی نسل در نسل منتقلی ہے۔ اس طبقے کے اندر بھی سماجی درجات موجود ہیں۔زمینداروں نے تاریخی طور پر کاروباری گھرانوں کو وہ عزت ہمارے معاشرے میں نہ دی جو اپنی کلاس کے لوگوں کو دیتے رہے ہیں۔ یورپ کے جاگیرداری معاشرے میں بھی صنعتی دور سے قبل کچھ ایسی ہی درجہ بندی تھی۔ صنعتی انقلاب اور اس کے بعد پیداواری وسائل نے یکے بعد دیگرے نئی دولت کی ریل پیل کو جنم دیا تو سیاست اور سماجی درجہ بندی میں بھی ایک انقلاب آ گیا۔ پرانے زمانے کے جاگیردار خاندانوں نے بھی یورپ میں بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق اپنے رویے اور شعبے جدید سانچوں میں ڈھالنے شروع کر دیے۔ صنعتی انقلاب کی بنیاد کفایت شعاری تھی۔ اسکے بر عکس جاگیرداری معاشرے کی پہچان اسراف اور نمائشی زندگی ہے‘ جو ایک دوسرے کیساتھ مقابلہ بازی میں چلتی ہے۔ ابھی تک ہمارے ہاں جاگیردار معاشرے کی ثقافت کا پوری طرح غلبہ ہے۔ جدید تعلیم شہری زندگی کے پھیلاؤ اور ظاہری طور پر نئے طرزِ زندگی نے اسراف اور نمود و نمائش کی ثقافت کو کمزور نہیں کیا۔ ہمارا متوسط طبقہ بھی ہمیشہ اس ثقافت سے مغلوب رہا ہے اور اب بھی ہے۔ دکھاوے کی زندگی اور مصنوعی بڑے پن کا بھرم قائم رکھنے کیلئے قرض ‘کرپشن اور دو نمبری عام لوگوں کی عادتوں میں شامل ہو چکی ہے۔ ہمارا تعلق عام لوگوں سے رہتا ہے اور ذہن میں ایک سوال ہمیشہ رہتا ہے کہ آپ بچت کیوں نہیں کرتے ؟تو اُن کا گھسا پٹا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ کیا کریں مہنگائی کا زمانہ ہے‘ گزارہ مشکل سے ہو رہا ہے‘ بچت ممکن ہی نہیں۔ میرا اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کے بچے ماشاء اللہ کتنے ہیں؟ غریب لوگوں کا جواب ہمیشہ چھ اور دس کے درمیان ہی پایا جاتا ہے۔ ہم بات یہاں ختم کر لیتے ہیں کہ آگے بات کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
حال ہی میں کئی لوگوں سے اس موضوع پر ہلکی پھلکی گفتگو کا موقع ملا مگر بچت کے جواب میں حساب برابر یا خسارے میں دیکھا۔ مہنگائی کی بات پاکستان کے بننے کے بعد سے آج تک چل رہی ہے اور میرا اندازہ ہے کہ شاید اگلی کچھ نسلوں تک چلے۔ زندگی گزارنا بھی ایک فن ہے جس کی تیاری گھر‘سکول اور سماجی اداروں میں کامیاب معاشروں میں کی جاتی ہے۔ ہمارا مشاہدہ اپنے ملک تک محدود نہیں مگر اس کی سماجی کیفیات کو سمجھنے کا موقع دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں زیادہ نصیب ہوا ہے۔ جس ملک میں بھی اور جس نے بھی بچت کو اپنا شعار بنایا وہ مشکل وقت میں نہ کسی کا محتاج ہوا اور نہ ہی نمائشی زندگی کے گرداب میں پھنس کر اپنی جائیداد اور وسائل کو برباد کر بیٹھا۔ اسی لیے تو سیانے ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ دوسرے کی رکابی میں دیکھنے کی ضرورت نہیں‘ جو کچھ آپ کے دسترخوان پر ہے اسی سے لطف اندوز ہوں۔ کیسی بربادی میں لوگ پڑے ہوئے ہیں کہ اپنی نعمتوں کی لذت سے محروم ہیں کیونکہ نظریں کہیں اورمرکوز ہیں۔ مجھے کئی دہائیاں پہلے اپنی کلاس کے ساتھ‘ جس میں تقریبا 50 کے قریب طلبہ اور طالبات تھے ‘ایک کسان کی چند کنال زمین پر لگے چند پھلدار درختوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔اُس نے بہت محبت سے اصرار کیا کہ ہم اس کے ہاں چند منٹ کے لیے ضرور ٹھہریں۔ اس کے پاس لیموں کا ایک پودا اور ایک کھجور کا درخت تھا۔ اس نے شیریں لیموں پانی فوراً بنایا اور ہمیں کچھ کھجوریں توڑ کر کھانے کے لیے دیں۔ اس کی فیاضی اپنی جگہ مگر جس بات نے آج تک میرے دل میں جگہ بنا لی وہ چند درختوں اور زمین کے اس چھوٹے سے ٹکڑے پر اس کی قناعت اور فخر ہے۔ اس کے لیموں پانی اور کھجور کا ذائقہ بڑے لوگوں کے پکوانوں اور بڑے باغوں کے اعلیٰ میووں سے کہیں بہتر محسوس ہوا۔
پہلے عرض کیا ہے کہ صنعتی انقلاب کی بنیاد کفایت شعاری پر تھی۔ قدیم کلیسائی نظام کے خلاف اصلاح کی تحریک اٹھی تو اس میں وقت کی پابندی‘ کام اور محنت کی عظمت ‘ لڑکیوں کی تعلیم اور بچت سر فہرست تھے۔ مؤرخین اور ماہرینِ سماجیات کا خیال ہے کہ سرمایہ داری نظام کی بنیاد اصلاح پسند پروٹیسٹنٹ فرقے کی مذہبی حکومت کی تشریح ہے۔ پس اندازی سے سرمایہ اور سرمائے سے سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔ ہمارے معاشرے کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لوگ کفایت شعاری سے کام لیتے ہیں۔ اگرچہ اسراف کا طوفان عالمگیر نوعیت کا ہے‘ ان ملکوں میں عام لوگوں کی زندگیوں میں اعتدال دیکھا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں جہاں اشتہار بازی نے اسراف کی آخری حدوں کو بھی عبور کیا ہوا ہے‘ باشعور متوسط طبقہ اور عام لوگ بچت کرتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم کیلئے‘ برے وقتوں کیلئے اور اپنی عمر کے آخری حصوں کیلئے جاگیرداری معاشرے کی نمائشی زندگی نے ہر طبقے کی آنکھوں پر دبیز پردے چڑھائے ہوئے ہیں۔ اکثریت جو بنا پاتی ہے وہ روزمرہ کے معمول پر خرچ کر ڈالتی ہے۔ ہماری حکومتوں نے اپنی سستی سیاست کیلئے مفت خوری کے کئی پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ گھر بیٹھے بٹھائے مختلف موسموں میں حکومتوں کی طرف سے راشن فری ہے۔ اس سے نہ صرف اسراف بلکہ اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن کا کلچر پروان چڑھا ہے۔ آج سے نصف صدی قبل ریاستی پروگراموں کی وسعت میں ان کے فلاحی کردار پر زور تھا جو آہستہ آہستہ ختم ہو چکا ہے۔ ضروری ہے کہ لوگوں کو روزگار کے قابل ہنز میں مہارت دی جائے اس وقت فوری اور ریاستی وسائل پر انحصار ختم کیا جائے۔
ہماری روش بالکل مختلف ہے جہاں لوگوں کو راشن کے ساتھ سولر پینل‘ بھینس‘ مرغیاں اور سینکڑوں ارب روپوں کا کیش مفت ملے وہاں محنت اور خود انحصاری کیونکر ہماری عادتوں کا حصہ بنے گی؟ اگر منصوبہ سازی میں سیاسی مفاد کے بجائے قومی مفاد پر نظر رہتی تو ہر سال سینکڑوں ارب تعلیم اور ہنر مندی پر صرف ہوتے۔ کفایت شعاری اگر حکومتوں میں نہیں ‘حکمران طبقے میں نہیں اور یہاں تک کہ مڈل کلاس بھی نمائشی بھاگ دوڑ میں ہے تو عام لوگوں کو ہم کیسے قائل کریں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ تقاریر اور نصائح بے اثر ہیں۔ اگر کسی بات کا اثر ہے تو وہ ہمارا ذاتی طرزِ زندگی‘ سادگی‘ کفایت شعاری ‘بچت اور دوسروں کی عزتِ نفس کا احترام سب کو نہیں تو کچھ لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔ یہ جو نئے انداز کے با اثر لوگ ہیں وہ کچھ اور بیچ رہے ہیں۔ پرانے طرز کے دانشوروں کی فکری اساس جدید نظریۂ زندگی پر ہے۔ نہ نمود و نمائش اور نہ ہی کسی کی دولت کی چمک سے مرعوب ہوتے ہیں۔ لوگوں کو بھی اس کی ترغیب سادگی اختیار کر کے دیتے ہیں۔ ہمارے ملکی تناظر میں اسراف معاشی سے کہیں زیادہ سماجی مسئلہ ہے جس کی بنیادیں جاگیرداری طرزِ زندگی میں ہیں۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں بھی جدید افکار کو کہیں جگہ نہیں مل سکتی جنہیں اکثر مغربیت کے دھوکے میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بچت‘ سادگی‘ محنت اور خود انحصاری تہذیب اور مذہب کی الجھنوں سے آزاد ہیں۔ یہ عالمگیر نوعیت کی اقدار ہیں اور جس آدمی نے بھی انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہے وہ محتاجی اور کسمپرسی کی اذیت کا شکار نہیں ہوا۔مغربی دنیا کے امیر ترین لوگوں کا شعار بھی سادگی دیکھا ہے۔ وارن بفٹ کا نام کس نے نہیں سنا۔اس کی دولت کا اندازہ 149 ارب ڈالر ہے۔ وہ اسی گھر میں رہتا ہے جو اس نے 1958ء میں تقریباً 21 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔ وہ پرانی گاڑی خود چلا کر سفر کرتا ہے۔اس نے اپنی دولت کا 99 فیصد خیراتی کاموں پر صرف کر دیا ہے۔ یہ ہے وہ طرزِ زندگی جس کی بنیاد اقدار‘ دانشوری اور معاشرے اور لوگوں کے ساتھ گہرے رشتے پر ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved