گزری جمعرات کے دن پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد میں ڈویژن بینچ کے رُوبرو مقدمہ لڑنے گیا۔ شہرِ اقتدار سے نور پیر ویلے نکلنا پڑا کیونکہ ایبٹ آباد پہنچنے میں سوا دو یا ڈھائی گھنٹے تک لگ جاتے ہیں۔ نو بجے صبح عدالت بیٹھ گئی۔ کورٹ روم میں ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ایک سینئر وکیل کہنے لگے: ایران پر یو ایس‘ اسرائیل حملے سے پہلے میں نے سپریم کورٹ میں آپ کی گفتگو سنی تھی‘ جس میں آپ نے کہا تھا کہ ایران محض ایک ملک نہیں پورا برّاعظم ہے ۔ ایرانی بھی ترکوں کی طرح فتح ہونے والی قوم نہیں‘ ایران ایک مکمل 'کیس سٹڈی‘ ہے۔ پھر بولے: اب تک ایران جس عزم و ہمت سے امریکی فائر پاور کا زعم خاک میں ملا رہا ہے‘ اس پر ہمارے سرکاری تجزیہ گَر کہتے نہیں تھکتے کہ ایران سرنڈر کر دے ورنہ اس کا حشر افغانستان اور غزہ والا ہو گا۔ چونکہ عدالت چل رہی تھی لہٰذا میں نے ان کے کان میں کہا جو بیانیہ بھی چِٹ پر لکھا ہوا قلمکار یا تجزیہ کار کو ملے گا اس کی پذیرائی نہیں رسوائی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم وجود میں آنے کے بعد دو نمبری بیانیے کی رسوائی کسی ایک جگہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسے ساری دنیا سنتی ہے اور چہار عالم دیکھتے بھی ہیں۔ اس لیے خبطِ عظمت کے مریض اکثر و بیشتر شعبۂ امراضِ بیانیہ کے ٹیکوں اور ٹیبلٹس کے درد سے چیختے ہوئے پائے جاتے ہیں۔
بی بی سی نے حال ہی میں 13سے 16سال عمر کے کچھ بچوں کو اپنے پرائم ٹائم نیوز بلیٹن میں بلایا اور انٹرویو کیا‘ جس کا مقصد برٹش حکومت کی اس تجویز پر تبصرہ کرنا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر کچھ پابندیاں لگانا چاہتی ہے۔ نئی نسل کے انگریز بچے ایک ہی زبان یوں بول رہے تھے ''اس کا مطلب ہے برٹش گورنمنٹ خود اپنے بچوں کو بلاوجہ سزا دینا چاہتی ہے‘‘۔ یہ غیر سیاسی انگلینڈی بچے سوشل میڈیا کو نہ صرف اپنا طرزِ زندگی سمجھتے ہیں بلکہ یہ ان کے اٹھنے بیٹھنے‘ سٹڈی‘ کمیونیکیشن سمیت ہر شعبے کے لیے اٹوٹ انگ ہے۔ آپ پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں ہر جگہ آپ کو گلوبل ویلیج کے بچے اپنے اس طرزِ زندگی کے حق میں ہم آواز ملیں گے۔ اس جنریشن زی کو نہ کوئی خرید سکتا ہے نہ ہی ڈرا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ جنریشن اچھی طرح سے جانتی ہے انہیں دھمکانے والے سٹیٹ منیجرز پچھلی صدی کے درمیانی عشروں کے لوگ ہیں۔ یہ بچے جنہوں نے AI کے ذریعے امریکہ کے پاپولر ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک کروڑ لوگ سڑکوں پر لا کھڑے کیے‘ یہ نئی نسل ثابت کرنا چاہتی ہے کہ ان کا یہ طرزِ زندگی ان سے کوئی نہیں چھین سکتا‘ نہ سرکار نہ گھربار والے۔ جنریشن گیپ کے باعث وہ لوگ جو ہماری طرح وٹس ایپ کو آئی ٹی کی سب سے بڑی ایجاد سمجھتے ہیں‘ ان کے خیال میں آئی ٹی کے ذریعے جس رفتار سے شعور اور انفارمیشن آئے اُسی رفتار سے انہیں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے لوئر مڈل کلاس سے لے کر اوپر تک‘ دیہاتی اور شہری یوتھ کی تقسیم کے بغیر ہر کوئی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتا ہے‘ اس کا یوزر بھی ہے اور اس کا چاہنے والا بھی۔ اسی وجہ سے prompted, paid content اور نئی نسل کو معلوم شدہ حقائق کے خلاف جیٹ رفتار سے بیانیے پِٹ رہے ہیں۔ سادہ سی بات ہے جس قدر پِٹنے والے بیانیے ہیں شعبۂ امراضِ بیانیہ میں اُسی رفتار سے رش بڑھتا جا رہا ہے۔
آئیے شعبۂ امراضِ بیانیہ کا ہلکا سا ٹور لے لیں۔
شعبۂ امراضِ بیانیہ کا پہلا وارڈ: اس وارڈ کے مریضوں میں امریکہ اسرائیل اور اُس کے مغربی اتحادی داخل ہیں۔ ان کے ہاں خبطِ طاقت کے مرض نے اس بیماری کو جنم دیا۔ ان کا گھریلو نسخہ یعنی خبطِ طاقت کا چارٹر ہی‘ جو اَب ان کو وارڈ میں کھینچ لایا‘ اس کے مطابق ان کا حق ہے کہ وہ جب چاہیں جس ملک پر جتنے ڈرونز مار دیں‘ بم پھینکنا شروع کر دیں‘ زیرِ حملہ ملک کے قدرتی وسائل چھین لیں۔ آپ اسے نیو اکنامک کالونیئل ازم کہہ سکتے ہیں۔ ان ملکوں کے مرض کی بنیاد یہ بیانیہ ہے کہ ہم جہاں جہاں پہ حملہ کرتے ہیں وہاں کے عوام کو جمہوری آزادیوں اور معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے اپنے پلّے سے بمباری کا خرچہ اپنے ٹیکس پیئرز کی جیبوں سے نکالتے ہیں۔ جن ملکوں کو خوشحال کرنے کے لیے بمباری کی جاتی ہے‘ اُن کے ہاں کچھ شرپسند عناصر اس بمباری کے خلاف اَن پڑھ اور جاہل ہونے کی وجہ سے احتجاجاً بولتے ہیں جبکہ ان کے westofixed اشراف زادے یا سکالرز ان آزادیوں کے باتنخواہ حامی ہیں۔
اپنے ہاں بڑے بڑے درباری تجزیہ کار اور فنکار جس کے بارے میں جو جی میں آئے یا چٹ پر لکھا مل جائے برملا بول دیتے ہیں ۔ بے تُکے بول کر بیانیے کی جنگ میں پہلے چھلانگ مارتے ہیں پھر گلے گلے تک ڈوبنے کے بعد اپنے نوحہ گروں اور ردالیوں کو پکارنے لگتے ہیں۔ موقع محل ہو یا نہ ہو وہ محنت کے دام کھرے کرنے کے لیے اپنے مالکان کو شعبۂ امراضِ بیانیہ کے پہلے وارڈ تک پہنچائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھتے۔ اس وارڈ کے مریضوں کے حوالے سے یا دنیا کا کوئی اور مریض لے لیں‘ آئی ٹی کے تمام تھنک ٹینکس اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ امریکہ سمیت کوئی ملک فائر وال یا سپر سٹیل وال لگا کر انفارمیشن تک رسائی کے سیلاب پہ بند باندھنے میں کامیاب نہیں ہوا‘ نہ ہو سکتا ہے۔
شعبۂ امراضِ بیانیہ کا آخری وارڈ: اس وارڈ میں تڑپنے اور سسکنے والے مریض وہ ہیں جو دوڑ کر ہر بیانیے کی سُپاری پکڑ لیتے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اُن کے اپنے گھروں میں بھی نئی نسل کی اُمنگیں نئے طرزِ زندگی پر ہی چلتی ہیں۔ پھر ان کی باقی زندگی ابہام کے کوہِ ندا میں بھٹکتے گزرتی ہے۔ آنکھ پہ انگلی رکھ لینے سے سورج غائب نہیں ہوتا‘ نہ ہی چاند روشنی سے محروم۔ آنکھ پہ اُنگلی رکھنے والے کی لائن حقیقتوں کی دنیا سے کٹ جاتی ہے۔
پرانے ذہن کی راکھ اور نئے دلوں کی امنگ
نہ دیکھ ایسی نگاہوں سے میرے خالی ہاتھ
بہت سے غم‘ کئی خوشیاں‘ کئی انوکھے لوگ
جنہیں اٹھا نہیں سکتا ہر ایک دشت نورد
جو تھیلیوں کے شکم میں سما نہیں سکتے
جو سوٹ کیس کی جیبوں میں آ نہیں سکتے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved