میں یہ بات شرحِ صدر سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان خواہ عارضی ہی سہی‘ مگر جنگ رکوانے میں پاکستان کے کردار پر خوشی بھی ہے اور فخر بھی ہے۔ دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہونا‘ پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہونا اور پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرانا دراصل ایک بڑے منظر نامے میں میری عزت میں اضافہ کرانے اور میری قدر ومنزلت میں بہتری لانے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی عزت میری عزت ہے اور بحیثیت مسافر میں اپنے ملک کی عزت میں اضافے کا براہ راست بینی فشری بھی ہوں۔ میری خوشی‘ میری مسرت اور میرا فخر وانبساط سب اپنی جگہ لیکن مجھے اس ملک میں رہنے کے لیے بنیادی سہولتیں‘ روزمرہ کی آسانیاں اور اپنے حقوق کی پاسداری بھی درکار ہے۔ عالم یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تگ ودو میں ہمارا اپنا اسلام آباد بارہ دن بعد کھلا ہے۔ خلیج فارس کی ناکہ بندی کے جواب میں ہم نے وفاقی دارالحکومت کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ ایران کے بحری جہاز خلیج فارس سے نہیں نکل سکتے تھے اور ہم اسلام آباد میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ عالمی سطح پر پاکستانی کردار کو سراہنا‘ اس کی تعریف کرنا اور اس پر خوش ہونا ایک خوش کن بات ہے لیکن اس تصوراتی خوشی کی بنیاد پر میں ان معاملات اور مشکلات کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہوں جو مجھے روز مرہ کی زندگی میں درپیش ہیں۔
گزشتہ روز اخبار میں خبر تھی کہ حکومت پنجاب نے 10 لاکھ جانوروں کی برآمد کے لیے چین کی ایک گلوبل میٹ کمپنی سمیت سات کمپنیوں کے ساتھ ایم او یو قسم کا کوئی معاہدہ کرتے ہوئے ایک نہایت اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ خوشخبری اپنی جگہ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اب اس سنگ میل کو عبور کرنے پر صوبہ پنجاب کو ایک بڑے علاقائی منظر نامے کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کروں یا بطور پاکستانی صارف آنے والے دنوں میں اپنی حالت کا اندازہ لگا کر پریشان ہو جاؤں کہ ایسی خوشخبریاں ہم جیسے عام آدمیوں کے لیے ہمیشہ بُری ہی ثابت ہوتی ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ ملکِ عزیز میں گوشت کے نرخ پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس میں مرغ‘ بکرے اور گائے کے گوشت کی کوئی تخصیص نہیں۔ ہر قسم کے گوشت کی قیمتیں اپنے اپنے میدان میں آسمان کو چُھو رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں میں صلح کرانے‘ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو مدہم کرنے اور خطے کی جغرافیائی سالمیت کی حفاظت کرنے میں دن رات مصروف ہماری حکومت گوشت کو سرکاری نرخوں پر فروخت کرانے میں ناکام ہے اور عزائم اتنے بلند ہیں کہ ممکت خداداد کے وارثوں نے ساری دنیا کی سلامتی کی ٹھیکیداری کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔
مرغ‘ گائے اور بکرے کے گوشت کے سرکاری اور مارکیٹ کے نرخوں میں دو چار روپے نہیں سینکڑوں روپے فی کلوگرام کا فرق ہے۔ اول تو سرکار کو مارکیٹ میں سرکاری نرخ لاگو کرانے چاہئیں اور اگر سرکاری نرخ حقائق کے منافی ہیں تو سرکار کو اپنے سرکاری نرخ درست کر لینے چاہئیں‘ اس طرح ہم دل جلانے سے اور سرکار جگ ہنسائی سے بچ جائے گی۔ لیکن سرکار دونوں میں سے کوئی بھی کام کرنے کے بجائے دھنیا پی کر سو رہی ہے۔ تاہم جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ عالمی سطح پر کردار سرانجام دینے کیلئے چل پڑتی ہے۔ جس طرح صدر زرداری کسی نامعلوم مسئلے کو حل کرنے کیلئے چین پہنچے ہوئے ہیں۔
مجھے فکر اس بات کی ہے کہ جب یہ 10 لاکھ مویشی برآمد کر دیے جائیں گے تو ملکِ عزیز میں سپلائی اور ڈیمانڈ کے توازن میں جو تھوڑا مزید کھنچاؤ پیدا ہو گا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا خیال نہیں‘ یقین ہے کہ گوشت کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی اور مہنگائی کے مارے ہوئے عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتا ہوا گوشت اس کی پہنچ سے بالکل ہی باہر ہو جائے گا۔ ہمارے ہاں روایت ہے کہ مارکیٹ میں کسی چیز کی حقیقی کمی واقع ہونا تو رہا ایک طرف‘ اگر اس کے بارے میں صرف افواہ ہی اڑ جائے تو یار لوگ فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ طلب میں اضافے کی وجہ سے دکانداروں‘ خوردہ فروشوں‘ ذخیرہ اندوزوں اور تاجروں کے لیے بے تحاشا نفع کا پیغام لے کر آتا ہے جبکہ دوسری طرف رسد میں کمی تاجروں‘ دکانداروں‘ کاروباری حضرات اور خوردہ فروشوں کے لیے ویسی ہی مبارک ثابت ہوتی ہے جیسے طلب میں اضافہ ان کے لیے سعد ثابت ہوتا ہے۔ دراصل ہمیں کسی نہ کسی بہانے عام آدمی کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسے نکلوانے ہیں۔ ہمیں جس مہینے میں چیزیں سستی کر کے اجر حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے ہم اس میں قیمتیں بڑھا کر پیدا گیری کا موقع پیدا کر لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔
آپ یقین کریں مجھے اس حکومتی کامیابی سے سوائے اس بات کے کوئی اختلاف نہیں کہ نمبر ٹانکنے کے لیے بغیر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے اٹھائے جانے والے اس قسم کے اقدام آخرکار عوام کے لیے باعثِ مصیبت ثابت ہوتے ہیں۔ حکومتوں کا پہلا کام اپنے عوام کی خبر گیری‘ سہولتوں کی فراہمی اور ضروریاتِ زندگی کی بہ آسانی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ہمارے ہاں کا ذخیرہ اندوز اور مِل مالک پہلے گندم کی فراوانی کی رپورٹ دیتا ہے‘ پھر گندم برآمد کرتا ہے‘ پھر ملکی ضرورت کے لیے گندم کی شارٹیج کا غلغلہ مچتا ہے اور پھر دوبارہ گندم درآمد کی جاتی ہے۔ زیادتی‘ کمی اور درآمد وبرآمد کے اس چکر میں سرمایہ دار‘ مل مالک اور ذخیرہ اندوز خریدنے‘ بیچنے‘ منگوانے اور بھجوانے کے چکر میں اربوں روپے کھرے کر لیتا ہے جس کا سارا بوجھ بالآخر عوام کی جیب پر پڑتا ہے۔ یہی حال چینی کے معاملے میں ہوتا ہے۔ ہر دوسرے سال شوگر ملز مالکان شور مچاتے ہیں کہ چینی ملکی ضرورت سے بہت زیادہ ہے۔ اس کے بعد زائد مقدار کی چینی باہر بھیج کر پیسے کھڑے کر لیے جاتے ہیں۔ چند روز بعد علم ہوتا ہے کہ ملک میں موجود چینی کے ذخائر ملک کی ضرورت سے کم ہیں۔ پھر اس کمی کو پورا کرنے کی غرض سے چینی درآمد کی جاتی ہے۔ ہر بار مل مالکان‘ برآمد کنندگان‘ ذخیرہ اندوز اور کاروباری حضرات نوٹ چھاپ لیتے ہیں جبکہ عوام کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ کس چیز کی حقیقی ملکی ضرورت کتنی ہے۔ اور یہ فیصلہ تو تب ہو اگر ہمیں ملکی آبادی کا صحیح علم ہو۔ مردم شماری اور سرکاری دعوے ایک طرف‘ سچ یہ ہے کہ اب تک اس ملک کی حقیقی آبادی کا تعین ہی نہیں ہو سکا۔ جب آبادی کے درست اعداد وشمار میسر نہیں تو بھلا ملکی ضروریات کا درست حساب کیسے لگایا جا سکتا ہے۔
اسی خبر میں ملک میں لائیو سٹاک کے فروغ اور تحفظ کے لیے ضلعی بلکہ تحصیل کی سطح پر سٹیٹ آف دی آرٹ ویٹرنری ہسپتال قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی شامل تھا۔ اس لطیفے پر سر پیٹنے کو جی چاہا۔ ریاستیں دوررس نتائج کی منصوبہ بندی کرتی ہیں ادھر عالم یہ ہے کہ پہلی چیزیں بنائی جاتی ہیں‘ پھر بیچی جاتی ہیں‘ پھر دوبارہ خریدی یا بنائی جاتی ہیں۔ یادش بخیر ملتان میں گھنٹہ گھر کے پاس حسین آگاہی روڈ پر ایک وٹرنری یعنی جانوروں کا ہسپتال ہوا کرتا تھا۔ میں بچپن میں اپنے بیمار بلی کے بچے کا علاج کرانے کے لیے وہاں گیا۔ ہسپتال کے وسیع صحن میں درجنوں بھینسیں‘ دو چار گھوڑے اور آٹھ دس بھیڑ بکریاں علاج کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ ہسپتال میں ہر قسم کے مریض جانور موجود تھے۔ پھر اس جگہ کی کمرشل حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں ایک عدد پلازہ بنا دیا گیا۔ ہسپتال ختم ہو گیا۔ اسے کسی متبادل جگہ پر بھی منتقل نہ کیا گیا۔ جب وہاں سے گزرتا ہوں تو مجھے ویٹرنری ہسپتال‘ اس میں کھڑی گائیں‘ بھینسیں‘ گھوڑے‘ بھیڑ بکریاں اور اپنا بیمار بلی کا بچہ یاد آتا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر ایک بار پھر سب کچھ یاد آ گیا۔ ہم دائرے کے سفر کے مارے ہوئے ہیں۔ عشروں کی پُرصعوبت مسافت کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved