پاکستان کو خارجہ محاذ پر ربِّ ذوالجلال نے غیر معمولی کامیابی عطا کی ہے۔ دنیا جہان کے مسائل ومعاملات الجھانے اور سلجھانے والا امریکہ ایران کے ساتھ اپنے تنازع کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امریکی قائدین پاکستان کے اشارے پر اسلام آباد کی طرف اڑان بھرنے کیلئے ''پابہ پرواز‘‘ بیٹھے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بھی حا لیہ دنوں یکے بعد دیگرے اسلام آباد کے دورے کئے ۔ وہ امیدِ بہار کا سندیسہ دے کر مسقط گئے۔ اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ مسقط کے دورے کے بعد اسلام آباد واپس آئے اور فیلڈ مارشل سے ملاقات کر کے روس روانہ ہو گئے۔ اسے شٹل ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ دیکھیے میرے رب کی شان! اس شٹل ڈپلومیسی کا مرکز واشنگٹن ہے نہ ماسکو‘ نیو یارک ہے نہ لندن۔ اس کا مرکز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ہے‘ یہاں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر ہیں۔ایران نے بھی پاکستان کی سفارتکاری کی بہت تعریف کی ہے۔
اب ذرا داخلی صورتحال کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ضروریاتِ زندگی کی ہر شے کو پَر لگ چکے ہیں۔ اپنے وطن کی سربلندی سے ہر پاکستانی مسرور اور سرشار ہے مگر اب مہنگائی کی مسلسل اور ناقابلِ برداشت ضربوں سے چُور چُور ہے۔ وہ مسرت و شادمانی کے ان لمحات میں زبان پر کوئی شکوہ تو نہیں لانا چاہتا مگر اب معاملہ اس کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ پاکستان میں بندۂ مزدور ہی نہیں بندۂ سفید پوش بھی مہنگائی کے مسلسل تازیانوں سے بلبلا رہا ہے۔ اس کی آہ وفغاں اوپر آسمانوں تک پہنچ رہی ہے۔
کم از کم70 فیصد پاکستانی مہنگائی کے صدموں سے ڈھیر ہو کر نالہ وفریاد بلند کر رہے ہیں‘ دوسری طرف آج سوشل میڈیا کے دور میں جب یہی پریشان حال پاکستانی حکمرانوں کے اللے تلّلے اور اپنے ادا کردہ ٹیکسوں کی رقوم سے اُن کے وی وی آئی پی پروٹوکولز دیکھتے ہیں تو دہرے صدمے سے نڈھال ہو جاتے ہیں۔ یہی حال ہماری ایلیٹ کلاس کا ہے۔ اس کا کلچر شہنشاہوں والا اور اُن کے ادا کردہ ٹیکس جونیئر کلرکوں والے ہیں۔ حکمران زبانی جمع خرچ میں تو بہت کچھ کہتے ہیں‘ مستقبل کے سبز باغ بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح دکھاتے ہیں اور سنہری خواب بھی آنکھوں میں سجاتے ہیں۔ وہی خواب جو آج تک خوابِ پریشاں ثابت ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ بدترین قسم کی بیروزگاری بھی ہے۔ مزدور موجود مگر مزدوری نہیں ملتی۔ ڈگری یافتہ نوجوان موجود مگر نوکری نہیں ملتی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیچر موجود مگر ٹیچنگ جاب نہیں ملتی۔ بجلی کے کمر توڑ بلوں سے نجات کیلئے سفید پوشوں نے زیورات بیچ کر سولر لگوائے‘ اب حکومت کہتی ہے کہ سورج کی شعاعوں کا ٹیکس دو۔ ان حالات میں کوئی جائے تو کہاں جائے۔
مہنگائی کے بعد ہمارا دوسرا سب سے بڑا داخلی مسئلہ بدترین بدامنی ہے۔ شاہراہیں‘ شہروں کی اندرونی سڑکیں اور گلیاں تک محفوظ نہیں۔ پاکستان میں جرائم کی سب سے زیادہ شرح کراچی میں ہے۔ روشنیوں کے شہر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ قتل‘ رہزنی‘ ڈاکا وغارت گری‘ اغوا اور لوٹ مار جیسے جرائم بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی وصنعتی مرکز میں چیونٹی مسلنا مشکل اور بندہ مارنا آسان ہے۔ بڑی وارداتوں کے پیچھے بڑے بڑے منظم جرائم پیشہ گروہ ہوتے ہیں۔ وہاں پولیس بھی ہے اور رینجرز بھی مگر جرائم کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔
پہلے لاہور کے امن وامان کی مثال دی جاتی تھی‘ اب لاہور سمیت پنجاب بھر میں جرائم کی شرح بہت بڑھ چکی ہے۔ ہسپتالوں کی بدحالی کا معاملہ ہو یا امن وامان کی ابتر صورتحال کا‘ وزیراعلیٰ کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ناقص کارکردگی کا اعتراف کرتی ہیں اور ذمہ داروں سے بازپرس کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔ چند روز پیشتر پنجاب میں جرائم کی شرح بالخصوص ڈکیتی‘ اغوا‘ راہزنی اور قتل وغارت گری کے واقعات میں بے پناہ اضافے پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ افسران کا ہنگامی اجلاس بلایا۔ اس اجلاس میں پولیس کی ناقص کارکردگی کو وزیراعلیٰ نے شرمناک قرار دیا۔ ناقص کارکردگی والے اضلاع میں شیخوپورہ‘ فیصل آباد‘ گجرات اور گوجرانوالہ نمایاں ہیں۔ منشیات کے واقعات کے اعداد وشمار دیکھ کر شرم محسوس ہوتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا دھندا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔اگر لاء اینڈ آرڈر پر گرفت مضبوط ہوتی تو پھر اتنی خوفناک قانون شکنی کی نوبت نہ آتی۔
اب آئیے بلوچستان کی طرف یہاں غربت وجہالت کی حالتِ زار کس سے پوشیدہ ہے۔ بدامنی کا یہ حال ہے کہ ایک لہر ختم ہوتی ہے تو دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی پنجاب کی طرف آتی بسوں اور کبھی ٹرینوں میں معصوم انسانوں کا قتل عام۔ بلوچستان کے مشہور مقام چاغی میں معدنیات سائٹ پر سونے اور تانبے کی تلاش کا ایک پروجیکٹ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے وہاں دہشت گردوں نے حملہ کیا اور ایک ترک سمیت دس افراد کو بے دردی سے قتل کر ڈالا۔ ان میں سے پانچ ماہرینِ ارضیات اور دو گارڈز تھے۔ ان کے علاوہ آٹھ ورکرز شدید زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں ان دنوں دہشت گردی کی کارروائیوں میں خاصی کمی دکھائی دے رہی ہے۔
مہنگائی میں حالیہ شدت تو امریکہ‘ اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ چالیس روزہ جنگ سے خلیج میں تیل کی پیداوار اور سپلائی پر پڑنے والے اثرات کی بنا پر آئی ہے مگر ہمارے روگ بہت پرانے ہیں۔ یہ روگ کوئی ایسے لا دوا بھی نہیں۔ کراچی کی ہی مثال لیجیے۔ کم از کم ڈھائی کروڑ کی آبادی کا شہر‘ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی وصنعتی مرکز‘ مگر پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ اس کیلئے مہنگے داموں پانی کا ٹینکر منگوانا پڑے گا۔ کراچی کی کچی آبادیوں کو تو چھوڑیے‘ وہاں کی پکی آبادیوں کی حالت بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ اندرونِ سندھ کی حالت تو اور بھی خراب وخستہ ہے۔وہاں سڑکوں پر گہرے گڑھوں اور کھڈوں نے اور جگہ جگہ پھیلے ہوئے گندگی کے ڈھیروں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کو ناقابلِ رہائش بنا دیا ہے۔
آج قدرت نے دنیا کی نظر میں ہمارا امیج بہت بلند کر دیا ہے۔ عرب دنیا کے میڈیا میں پاکستان کے بارے میں مضامین پڑھتا ہوں تو سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو خارجہ ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوتے ہوئے گھر کی بھی خبر لینی چاہیے۔ ایک بار رک کر سوچنا چاہیے کہ اس طرح کیسے کام چلے گا۔ چند ہفتے قبل ایک دوست خلیجی ملک نے ہم سے ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس مانگا تو ہماری پریشانی کا یہ عالم تھا کہ اب کیا بنے گا؟ آئی ایم ایف اور دیگر دوستوں سے لیے ہوئے قرض کے سہارے ہم کب تک سروائیو کر سکتے ہیں؟ اپنے قدموں پر ہم کب کھڑے ہوں گے؟ وطنِ عزیز میں حقیقی سیاسی استحکام کب لائیں گے؟
ہمارے پرانے روگ کیا ہیں؟ غربت‘ جہالت‘ بدامنی‘ مہنگائی اور بیروزگاری وغیرہ مگر ہمارا سب سے بڑا روگ سیاسی ہے۔ ہماری ایلیٹ کلاس مل بانٹ کر کھاتی نہیں‘ خود ہی سب کچھ ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح وہ سارے کا سارا اقتدار خود ہی سمیٹ لینا چاہتی ہے اور نیچے تک لوکل حکومتوں کی صورت میں تقسیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ یہ عوام کی نہیں‘ ہماری حکمران ایلیٹ کی ناکامی ہے۔ جب تک ہماری ایلیٹ کلاس اپنا رویہ نہیں بدلتی اس وقت تک ہم داخلی روگ کے اسی منحوس دائرے میں گھومتے رہیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved