پاکستان اور افغانستان کے مابین چین کے شہر اُرمچی میں سہ فریقی مشاورت کے بعد سفارتی فضائوں میں نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ اس اہم نشست کے ثمرات اب سرحدوں پر نمایاں دکھائی دے رہے ہیں‘ جہاں دراندازی اور دہشت گردی کی لہر میں واضح ٹھہرائو آیا ہے۔ یہ پیش رفت محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ دونوں ریاستوں کے مابین سکیورٹی تعاون کے ایک نئے باب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے‘ جو خطے میں پائیدار امن کی منزل کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ افغان عبوری حکومت کے رویے میں اس تبدیلی کی عکاسی افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیان سے بھی ہوتی ہے۔ امیر خان متقی نے کابل میں وزارتِ خارجہ کے حکام‘ سفارت کاروں اور امارتِ اسلامیہ کے میڈیا سیل سے وابستہ افراد کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سخت انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا صارفین اور حکام کو دو ٹوک ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور حساس معاملات پر غیر ذمہ دارانہ پوسٹوں سے مکمل اجتناب کریں۔ امیر خان متقی نے اس بات پر زور دیا کہ عوام اور میڈیا کو دو طرفہ تعلقات کی حساسیت کو سمجھنا چاہیے اور کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو دونوں برادر ممالک کے مابین اشتعال انگیزی یا غلط فہمی کا باعث بنے۔ طالبان کی وزارتِ خارجہ سے جاری کردہ اس وڈیو پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ ارمچی مذاکرات کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے واضح اشارے ملے ہیں‘اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیجیٹل محاذ آرائی اور دشمنی کے بجائے مفاہمت اور سنجیدہ گفتگو کے عمل کو فروغ دیا جائے۔
افغان قیادت کے بدلے ہوئے لہجے کے پیچھے دو بڑے عوامل کارفرما ہیں۔ اول یہ کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دراندازی کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا ہے‘ جس سے یہ پیغام واضح ہو گیا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ دوم‘ پاکستان نے اپنی معیشت اور تجارت کو افغانستان کے حالات سے غیر مشروط طور پر آزاد کرنے کے لیے اپنی سٹرٹیجک سمت تبدیل کر لی ہے۔ پاکستان نے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے چین‘ کرغزستان‘ قازقستان کوریڈور کو اپنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان اب تجارتی راہداریوں کے لیے صرف ایک ہی راستے پر انحصار نہیں کرے گا۔ یہ تبدیلی نہ صرف معاشی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس نے پاکستان کو جغرافیائی سیاست میں ایک نیا اور مضبوط مقام عطا کیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی تنازعات اور تجارتی گزرگاہوں کی بار بار بندش نے ماضی میں پاکستانی تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے شاہراہ قراقرم کو متبادل روٹ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب پاکستانی تجارتی قافلے خنجراب کے بلند وبالا مقام سے گزر کر چین میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اس راستے کے فعال ہونے سے سرحدوں کی اچانک بندش کے خوف سے بھی نجات مل گئی ہے۔ یہ کوریڈور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی اب کسی ایک ملک کی مرضی کی محتاج نہیں رہی۔ اس نئی تجارتی حکمت عملی کو بین الاقوامی سطح پر قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کواڈریلیٹرل ٹریفک اِن ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA) ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان‘ چین‘ کرغزستان اور قازقستان کے مابین یہ چار فریقی معاہدہ ایک ایسی راہداری فراہم کرتا ہے جو افغانستان کو مکمل طور پر بائی پاس کرتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسٹمز کے پیچیدہ طریقہ کار کو سادہ بنایا گیا ہے اور ٹرانزٹ فیسوں میں کمی کی گئی ہے‘ جس کی بدولت پاکستانی مصنوعات اب عالمی منڈیوں میں بہتر مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔ یہ فریم ورک محض ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ خطے میں پاکستان کے معاشی اثر ورسوخ کو بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔
پاکستان کی حکمت عملی صرف شمال تک محدود نہیں بلکہ مغرب کی جانب بھی متبادل راستوں پر توجہ مرکوز ہے۔ ایران کے ذریعے ترکمانستان اور آذربائیجان تک رسائی اس کثیر جہتی منصوبے کا حصہ ہے۔ جب کبھی طورخم یا چمن کے بارڈرز پر تنائو بڑھے گا تو پاکستان تفتان بارڈر کے ذریعے اپنی تجارت کو رواں رکھے گا۔ یہ راستہ ان تاجروں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا ہے جو وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ اس متنوع تجارتی ماڈل کا بنیادی مقصد معیشت کو کسی بھی قسم کے اچانک سیاسی یا سکیورٹی بحران سے محفوظ رکھنا ہے۔ طویل مدتی وژن کے تحت پاکستان اب اپنی بندرگاہوں بالخصوص گوادر اور پورٹ قاسم کو سی پیک کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے براہِ راست چین اور شمالی علاقوں سے جوڑ رہا ہے۔ اگرچہ جغرافیائی طور پر افغانستان کا راستہ مختصر معلوم ہوتا ہے لیکن وہاں دائمی عدم استحکام کی صورتحال نے پاکستان کو ہمالیہ کے پار‘ چینی سرحدوں سے منسلک راستوں پر بھاری سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کیا۔ اس نئے تجارتی رخ نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اب ایک ''کنیکٹوٹی ہب‘‘ بن چکا ہے‘ جہاں سے تجارت کے متعدد راستے نکلتے ہیں۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی بحیرہ عرب تک پہنچنے کے لیے ایک مستقل اور قابلِ بھروسا پارٹنر مل گیا ہے۔
اُرمچی مذاکرات کے بعد کابل حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں اور ان کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ افغان طالبان پاکستان کے تمام تحفظات دور کرنے کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ ہیں لیکن مجموعی فضا میں بہتری سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والے مذاکرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ ان مذاکرات کی کامیابی خطے میں استحکام لائے گی‘ جس کے بعد پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور زیادہ سازگار ماحول میں شروع ہو سکے گا۔ چین اس تمام عمل میں ایک مخلص ثالث اور معاشی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ وہ خطے میں امن اور استحکام کو اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا دورۂ چین اس تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس موقع پر افغانستان سے دراندازی اور علاقائی سکیورٹی کے حساس معاملات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ پاکستان کی یہ سفارتی سرگرمی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے لیکن ساتھ ہی اپنی معاشی اور دفاعی خودمختاری پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دے گا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی متبادل تجارتی اور سکیورٹی پالیسی ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے مذاکرات کا راستہ ہمیشہ کھلا رہے گا لیکن پاکستان نے اپنی معاشی تقدیر کو کسی ایک سرحد کے مرہونِ منت نہ رکھ کر دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے۔ اب پاکستان کی تجارت ہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کر بحیرہ عرب کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی ہے‘ جو اس کے مستحکم معاشی مستقبل کی ضامن ہے۔ اُرمچی سے شروع ہونے والا یہ سفر اگر اپنی درست سمت میں جاری رہا تو نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورا وسطی ایشیا امن اور خوشحالی کا گہوارہ بن جائے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved