تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     28-04-2026

گاہے گاہے باز خواں…(5)

جنرل محمد حسین انصاری مرحوم 1971ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ وہ 2001ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے اور مرکزِ جماعت میں اعزازی خدمات سر انجام دیں۔ اسی دوران ان کی وفات 14جنوری 2004ء کو ہوئی۔ مرکز میں قیام کے دوران مرحوم سے بہت قریبی تعلقات قائم ہوئے‘ جن کی حسین یادیں اب تک دل میں موجزن ہیں۔ ان کی وفات پر میں نے ایک مضمون بھی لکھا جو میری کتاب ''عزیمت کے راہی‘‘ (جلد اول) میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
جنرل انصاری سے ایک دن سقوطِ مشرقی پاکستان کے موضوع پر بات ہو رہی تھی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا: بلاشبہ یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا المیہ تھا لیکن بدقسمتی اور بدتدبیری سے مشرقی پاکستان میں معروضی حالات ایسے ہو گئے تھے کہ کوئی فوج بھی جنگ جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ البدر اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے سوا پورے مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش اور عوامی لیگ کی حمایت میں ساری آبادی ریاست کے خلاف ہو چکی تھی۔ مغربی پاکستان سے رابطہ ٹوٹ چکا تھا اور حالت یہ تھی کہ فوج کے لیے سبزی تک مغربی پاکستان سے آیا کرتی تھی۔ بہت سے کردار پردے کے پیچھے سقوطِ ڈھاکہ کے لیے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ باہر کے دشمنوں کے ساتھ اپنوں کی سازشیں بھی دشمن کا کام آسان کرنے کا ذریعہ بن رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل نیازی کی جگہ کوئی اور جرنیل ہوتا تو بھی وہی کرتا جو انہوں نے کیا۔ البتہ اپنا پستول خود دشمن کو پیش کرنا اچھا کام نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا ''میں جس محاذ (جیسور) پر ذمہ داری ادا کر رہا تھا وہاں میں نے اپنے ہم منصب بھارتی افسر سے کہا کہ میں نہ تو ہتھیار پھینکوں گا اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے اپنا پستول کمر سے کھول کر تمہارے حوالے کروں گا؛ البتہ تم اتارنا چاہو تو اتار لو‘‘۔ جنرل نیازی صاحب نے اپنا پستول خود جنرل جگجیت سنگھ اروڑاکے حوالے کیا‘ یہی اصل غلطی تھی ورنہ باقی تو حالات واقعتاً ہاتھ سے نکل چکے تھے۔
بات چل رہی تھی عبدالمالک شہید کی شہادت اور اس کے نتیجے میں میری گرفتاری کی۔ عبدالمالک کی شہادت پر مغربی پاکستان سے‘ میرے علم کی حد تک‘ صرف میں ہی گرفتار ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان میں میری گرفتاری پر بڑے عظیم الشان احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس دور میں مشرقی پاکستانی طلبہ جب کبھی مغربی پاکستان آتے تو میرا نام سن کر چونک اٹھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ میری گرفتاری کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے زور زور سے نعرے لگاتے تھے: ''ادریس بھائی... مکتی چائی‘‘۔ میں اس کیس میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے باعزت طور پر بری ہوا۔ کیس سمری ملٹری عدالت منعقدہ پیپلز ہائوس میں سنا گیا اور میجر عزیز بھٹی نامی افسر نے سماعت کی۔ (موصوف میجر عزیز بھٹی شہید کے ہم نام تھے مگر یہ فردِ دیگر تھے۔ معروف میجر عزیز بھٹی (نشانِ حیدر) 1965ء کی جنگ میں شہادت پا چکے تھے)
میں نے کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ جو فقرے میری طرف منسوب کیے گئے تھے‘ میں نے وہ کہے ہی نہیں تھے۔ تقریر ریکارڈ تو نہیں کی گئی تھی؛ البتہ اس وقت تک مجھے پوری طرح ازبر تھی اور دفاع میں شہادت دینے والے سب گواہوں کو بھی یاد تھی۔ دوتین طلبہ کے علاوہ معروف صحافی جناب چودھری جیلانی بی اے اور ایک مشرقی پاکستانی بھائی جو قاری تھے (نام یاد نہیں رہا) بطور گواہ پیش ہوئے۔ میجر صاحب نے کئی سوالوں کے بعد جیلانی صاحب سے یہ سوال بھی پوچھا کہ یہ طلبہ کا پروگرام تھا تو وہ وہاں کیوں شامل ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں ایک ہفت روزہ جریدے (ایشیا) کا ایڈیٹر ہوں اور رپورٹنگ کے لیے بطور صحافی وہاں گیا تھا۔
میجر صاحب سنجیدہ افسر تھے۔ ان کی گفتگو بڑی سپاٹ اور سادہ تھی۔ انہوں نے دوسرے گواہ قاری صاحب سے سوال کیا کہ وہ کس حیثیت میں اس پروگرام کا حصہ بنے؟ قاری صاحب نے کہا کہ وہ جمعیت کے سابق کارکن ہیں اور ان کا تعلق مشرقی پاکستان سے ہے‘ اس کے علاوہ ان کے عبدالمالک شہید سے بھی دوستانہ تعلقات تھے‘ اسی وجہ سے انہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ میجر صاحب نے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔ البتہ مجھ سے کئی سوالات پوچھے جن کی تفصیل اب یاد نہیں۔ میں تقریباً سوا ماہ جیل میں رہا۔ برأت کے فیصلے سے دو روز قبل فوجی عدالت میں مجھے پیش کیا گیا اور عدالت نے میری ضمانت منظور کر لی۔ ضمانت کے وقت چودھری غلام جیلانی بی اے‘ جماعت اسلامی کے بزرگان کے علاوہ طلبہ کی بڑی تعداد پیپلز ہائوس میں موجود تھی۔ لاہور کے تمام اخبارات کے نمائندے اور فوٹو گرافرز بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔
میری ضمانت کے اگلے روز برکت علی اسلامیہ ہال میں ایک جلسہ تھا‘ جو پہلے سے طے شدہ تھا اور اس کی خوب پبلسٹی کی گئی تھی۔ میرے جیل میں ہونے کی وجہ سے مقررین میں میرا نام شامل نہ تھا مگر ضمانت کے بعد طلبہ کا شدید اصرار تھا کہ مجھے بطور ناظمِ لاہور جمعیت ضرور خطاب کرنا چاہیے۔ چنانچہ میں نے بھی اس جلسے سے خطاب کیا اور میری تقریر کی رپورٹنگ تصویر کے ساتھ اس وقت ملک کے تمام نامور اخبارات میں شائع ہوئی۔ جلسے کے اگلے روز میں جب فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں پہنچا تو میجر عزیز بھٹی نے اپنی حلیم طبیعت کے باوجود سخت برہمی کے انداز میں اخبار میری طرف بڑھاتے ہوئے سرزنش کی۔ کہنے لگے: تمہاری ابھی ضمانت ہوئی تھی‘ حتمی فیصلہ ہونا باقی تھا کہ تم نے باہر جا کر تقریر جھاڑ دی۔ تمہیں علم ہے کہ یہ مارشل لاء کا دور ہے؟‘‘۔ میں نے اپنی بے احتیاطی پر میجر صاحب سے معذرت کی تو وہ بالکل نارمل ہو گئے۔
میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ بحیثیت مجموعی وہ شریف النفس انسان تھے اور اصولی طور پر ان کا یہ مؤقف بھی درست تھا۔ میں ضمانت پر رہا ہوا تھا‘ مجھے احتیاط برتنا چاہیے تھی مگر ساتھیوں نے مجبور کر دیا تو میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ بہرحال فیصلہ وہی تھا جس کا ذکر اوپر ہو چکا؛ یعنی باعزت بری۔ میں اس دور میں لاہور کا طلبہ تنظیم کا ناظم تھا جب بھی جیل جاتا تو کسی ساتھی کو قائم مقام ناظم مقرر کر دیتا۔ اس وقت غالباً عبدالوحید سلیمانی قائم مقام ناظم مقرر کیے گئے تھے۔ جیل میں قیام کے دوران اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خاصی دوستی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ غالباً سات یا آٹھ طلبہ تھے‘ ان میں سے ایک پیپلز پارٹی کا بڑا سرگرم کارکن تھا اور اس کا نام تھا فاروق اعظم۔ دیگر طلبہ کسی تنظیم سے وابستہ نہیں تھے۔ یہ طلبہ فاروق اعظم کی عجیب گت بناتے تھے اور میں ان کو اس حرکت سے منع کرتا تھا۔
اسلامیہ کالج کے ان طلبہ کو ملٹری عدالت سے چھ چھ ماہ کی قید بامشقت ہوئی تھی۔ سزا سننے کے بعد جب یہ واپس جیل میں آئے تو فاروق اعظم کی حالت دیدنی تھی۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر روتا تھا۔ دیگر سبھی بھی سخت پریشان تھے۔ میں نے ان سب کو اور بالخصوص فاروق کو تسلی دی کہ فکر نہ کریں‘ آپ کو جلد معافی مل جائے گی۔ فیصلے کے بعد ان طلبہ نے اپنے والدین کی وساطت سے ملٹری عدالت میں رحم کی اپیل دائر کر دی۔ کچھ ہی دنوں بعد ان سبھی طلبہ کی رحم کی اپیل منظور ہو گئی اور ضابطے کی کارروائی اور لکھت پڑھت کے بعد سب رہا کر دیے گئے۔ رہائی کے وقت یہ سب مجھ سے بڑی عقیدت کے ساتھ ملے اور میرے لیے دعائوں کے ہدیے پیش کیے۔ چند ہفتوں کی رفاقت کے بعد ان سب کے دل میں کافی نیک جذبات پیدا ہو چکے تھے۔ فاروق اعظم رہائی کے روز مجھ سے گلے مل کر خوشی کا اظہار اور بار بار شکریہ ادا کر رہا تھا۔ میں نے بھی اسے بہت پیار دیا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved