ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت غیر محسوس طریقے سے ہر چیز کو اپنے حصار میں لیتی جا رہی ہے۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل آلات کی طلب میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور آن لائن پلیٹ فارمز عام ہو رہے ہیں۔ اس بدلتی صورتحال میں ایک بنیادی سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کیا ٹیکنالوجی نے واقعی سیکھنے کے عمل میں ایک بامعنی تبدیلی کا راستہ ہموار کیا ہے‘ یا ہم نے ٹیکنالوجی کو محض ایک اضافی سہولت کے طور پر شامل کیا ہے؟
اس بنیادی سوال کی اہمیت پاکستان جیسے معاشروں میں زیادہ ہو جاتی ہے جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ تو ہے رسائی (Access) کا معاملہ۔ دوسرا اہم چیلنج معیار کا ہے۔ وہ بچے جو سکولوں تک رسائی میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان میں سے بیشتر کی کارکردگی بنیادی خواندگی اور حساب کی مہارتوں میں غیر تسلی بخش ہے۔ ASER کی رپورٹ میں دیے گئے اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سکولوں میں پانچویں جماعت کے طلبہ تیسری جماعت کے درجے کا کام کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں تیسرا بڑا چیلنج ڈراپ آئوٹ کا ہے۔ان مسائل کا سامنا کرنے کیلئے تعلیم کے شعبے کیلئے زیادہ رقم مختص کی جانی چاہیے لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ تعلیم کے شعبے میں سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کے بجائے سال بہ سال کمی ہو رہی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے کے اعدادوشمار کے مطابق 2024-25ء کے پہلے نو ماہ میں حکومت نے جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد تعلیم پر خرچ کیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ بین الاقوامی اداروں (یونیسکو) کے مطابق تعلیم پر جی ڈی پی کا کم از کم چار سے چھ فیصد خرچ کیا جانا چاہیے۔ درپیش مسائل کے حل میں ٹیکنالوجی سے مدد لی جا سکتی ہے‘ اور ایسے میں سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کا تعلیم میں استعمال کرنا چاہیے یا نہیں‘ اصل سوال یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح مؤثر استعمال میں لائی جائے تاکہ یہ سکولوں تک رسائی بڑھانے‘ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکے۔
یہاں ایک غلط فہمی کی نشاندہی بھی ضروری ہے۔ اکثر ہم ڈیجیٹائزیشن کو ہی تعلیمی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ کلاس روم میں سمارٹ بورڈز‘ طلبہ کے ہاتھوں میں ٹیبلٹ یا آن لائن مواد کی دستیابی کو ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم روایتی رٹا سسٹم کو محض ڈیجیٹل شکل میں منتقل کر دیں تو اس سے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اس صورت میں ہم پرانے مسائل نئی شکل میں دہرا رہے ہوتے ہیں۔ حقیقی تبدیلی کا انحصار تدریسی عمل میں تبدیلی پر ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے جہاں طلبہ محض معلومات کے حصول تک محدود نہ رہیں بلکہ سوال کرنے‘ سوچنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں۔ رٹا کلچر کی جگہ تنقیدی سوچ کو‘ غیر فعال سیکھنے کی جگہ فعال جستجو کو اور یکساں تدریس کی جگہ مقامی ضروریات کے مطابق تعلیم کو فروغ دینا ہو گا۔ ٹیکنالوجی اس تبدیلی میں معاون ہو سکتی ہے مگر یہ اس کا متبادل نہیں بن سکتی۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی خود مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے جس کا ہدف انسانی فلاح‘ شمولیت اور پائیداری ہے۔ اگر تعلیم کو ٹیکنالوجی کے اس تصور سے ہم آہنگ کیا جائے تو ٹیکنالوجی ان مقاصد کے حصول کیلئے مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال دور دراز علاقوں تک تعلیم کی رسائی کو بڑھا سکتا ہے‘ سیکھنے کے عمل کو زیادہ معیاری اور بامعنی بنا سکتا ہے اور مختلف معاشروں کے درمیان علمی روابط کو فروغ دے سکتا ہے۔ مگر اس خواب کی تعبیر اسی صورت میں مل سکتی ہے جب رسائی‘ معیار اور مساوات کے مسائل کے حل کرنے میں سنجیدگی دکھائی جائے۔
ہمارے ہاں ایک بڑا چیلنج ٹیکنالوجی تک رسائی کا بھی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند طبقات تک محدود رہے گی تو یہ عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔ پائیدار ترقی کا تصور محض ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں اس میں وسائل میں اضافہ اور ان کا منصفانہ استعمال‘ سماجی انصاف اور ایسے نظام کی تشکیل بھی شامل ہے جہاں سب کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ تعلیم اس عمل کا مرکزی ستون ہے‘ ٹیکنالوجی اس سارے عمل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ اسے دانشمندی اور ذمہ داری سے استعمال کیا جائے۔ مصنوعی ذہانت سے معلومات تک رسائی مشکل نہیں رہی لیکن صرف معلومات تک رسائی کافی نہیں‘ طلبہ کو تنقیدی سوچ‘ تخلیقی صلاحیت اور مسائل حل کرنے کی مہارت کی بھی ضرورت ہے۔ یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو فرد اور معاشرے‘ دونوں کی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں۔ ٹیکنالوجی ان صلاحیتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے‘ مگر اس کیلئے تدریسی حکمت عملی میں تبدیلی ضروری ہے اور یہ اتنا آسان نہیں۔ اس راستے میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ ڈیجیٹل تقسیم کا ہے۔ یہاں مختلف طبقات کے درمیان ٹیکنالوجی تک رسائی میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ اساتذہ کی تربیت کا مسئلہ بھی اہم ہے کیونکہ بہت سے اساتذہ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال نہیں کر سکتے۔ ایک مکتبِ فکر نے ٹیکنالوجی کو خود ایک حل سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ منزلِ مقصود نہیں بلکہ منزل تک پہنچنے کا محض ایک ذریعہ ہے۔ ایک اور چیلنج اجنبی ثقافتی تناظر (Cultural Perspective) کا ہے۔ اکثر تعلیمی ٹیکنالوجیز ایسے معاشروں میں تیار ہوتی ہیں جو ہمارے معاشرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگر ان ٹیکنالوجیز کو مقامی زبانوں‘ ثقافت اور ضروریات کے مطابق نہ ڈھالا جائے تو ان کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ڈیٹا کے تحفظ‘ نگرانی اور جوابدہی (Accountability) جیسے مسائل بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ ٹیکنالوجی اساتذہ کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ ان کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ یہ اساتذہ ہی ہیں جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کو باہم ملا سکتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ نصاب میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ اگر نصاب فرسودہ رہے گا تو محض ٹیکنالوجی کے استعمال سے مثبت نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ دورِ حاضر میں ہمیں ایک ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو تحقیق اور تخلیقی وتنقیدی سوچ کو فروغ دے۔ پالیسی کی سطح پر بھی سنجیدہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ صرف ٹیکنالوجی کو اپنانا کافی نہیں‘ بلکہ اس کو تعلیم سے ہم آہنگ بنانا بھی ضروری ہے۔ حکومتی سطح پر ایسی پالیسیاں ضروری ہیں جو مساوی رسائی کو فروغ دیں‘ تعلیمی اہداف سے ہم آہنگ ہوں اور پائیدار ترقی کو ترجیح دیں۔ ہمیں یہ اہم نکتہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کا مقصد صرف مہارتوں کی فراہمی نہیں بلکہ شعور کی تشکیل ہے۔ ایک بامعنی تعلیم طلبہ کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ اپنے گرد وپیش کو سمجھیں‘ اس پر سوال اٹھائیں اور اس میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں بلکہ اس کا تعلیمی عمل کے ساتھ ایک بامعنی ربط ہے۔ باہم ربط کی عدم موجودگی میں ٹیکنالوجی عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہے لیکن اگر ٹیکنالوجی کا دانشمندانہ استعمال کیا جائے تو یہی ٹیکنالوجی مؤثر تبدیلی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ مستقبل میں بھی ٹیکنالوجی تعلیم کا حصہ رہے گی‘ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اسے کس انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں محض ڈیجیٹل تعلیم کی نہیں بلکہ ایک انسان دوست‘ مربوط اور پائیدار تعلیمی نظام کی ضرورت ہے‘ اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک منصفانہ اور باشعور معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved