امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد جاری مذاکراتی عمل میں کوئی بڑا بریک تھرو تو سامنے نہیں آ سکا‘ تاہم پس پردہ سفارتی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں جن کا بنیادی مقصد فریقین کے درمیان کشیدگی اور ٹکراؤ میں کمی لانا اور متنازع معاملات کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اسے چین‘ روس‘ سعودی عرب اور قطر سمیت متعدد اہم ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے جس سے اسکی سفارتی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔گزشتہ ہفتے پاکستان کی بھرپور کوششوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور ممکن نہ ہو سکا تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اسلام آباد‘ مسقط اور ماسکو کے دوروں کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کے دورۂ اسلام آباد کے حوالے سے یہ توقع تو نہیں تھی کہ یہاں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی باقاعدہ مرحلہ طے پا سکے گا‘ اگرچہ ایسی اطلاعات تھیں کہ امریکہ اپنی مذاکراتی ٹیم کے اہم ارکان کو اسلام آباد بھیج سکتا ہے‘ تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ امریکی وفد سے کوئی باضابطہ ملاقات شیڈول میں شامل نہیں اور ایران پاکستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ اسلام آباد میں عباس عراقچی کی وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد یہی بتایا گیا کہ ایران اپنا مؤقف اور مطالبات پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچانا چاہتا ہے‘ جو پاکستان کے ثالثی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورۂ پاکستان‘ عمان اور روس کو علاقائی ہم آہنگی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے تناظر میں اہم قرار دیا جبکہ ان کے ترجمان کے مطابق ان ملاقاتوں میں جنگ کے خاتمے کی تازہ کوششوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس پیش رفت سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات برقرار ہیں تاہم دونوں فریق اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رکھنا چاہتے ہیں اور کسی نہ کسی سطح پر پیش رفت کے امکانات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے کچھ مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں اور پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے ممکنہ انعقاد سے متعلق خبریں گردش کرنے لگیں اور یہ تاثر ابھرا کہ امریکہ اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیج سکتا ہے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ کی عمان روانگی کے بعد یہ امکانات کمزور پڑ گئے اور بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ٹویٹ سامنے آئی جس میں انہوں نے اپنے وفد کو اسلام آباد جانے سے روکنے کی اطلاع دی۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اسلام آباد جانے کی ضرورت نہیں‘ ایران کو بات کرنا ہوگی تو اس کیلئے فون کال کی جا سکتی ہے۔مذکورہ صورتحال میں دو نکات انتہائی اہم ہیں۔ اول یہ کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقتی ٹھہراؤ ضرور آیا ہے مگر یہ مستقل ہے یا عارضی‘ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ دوم یہ کہ دونوں فریق مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر پاکستان کے ذریعے رابطے میں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی عمل مکمل طور پر تعطل کا شکار نہیں ہوا بلکہ مختلف سطحوں پر جاری ہے۔
عالمی منظر نامے کی بات کی جائے تو اس جنگ پر دنیا کی واضح اکثریت حتیٰ کہ امریکہ کے اتحادی بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ عمومی رائے یہی ہے کہ یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے‘ لہٰذا مسائل کا حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کو جو عالمی تائید حاصل ہوئی وہ اس کی متوازن اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی کا عملی مظہر ہے۔ معاشی پہلو سے دیکھا جائے تو امریکہ ایران کشیدگی کے اثرات نہایت وسیع اور گہرے ہیں۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ‘ سپلائی چین میں خلل اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال نے ترقی پذیر ممالک کو شدید متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو کئی خطوں میں غذائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے جبکہ پاکستان‘ نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک پہلے ہی مہنگائی اور غربت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس صورتحال میں مزید بڑھ جاتی ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے جبکہ کھاد کے خام مال کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کی بندش طوالت اختیار کرتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی طرح امونیا اور نائٹروجن کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے‘ جس کے اثرات براہِ راست زرعی پیداوار اور غذائی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس اس صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہی ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی اس بحران نے امریکہ کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور جارحانہ طرزِ عمل پر نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خود امریکی عوام اور اتحادیوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس جنگی ماحول نے امریکہ کی عالمی ساکھ اور صدر ٹرمپ کی مقبولیت دونوں کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ جنگ کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل نے محدود مدت میں ایران کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تاہم ایرانی ردِعمل نے ان دونوں ملکوں کے لیے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔ ایران کی جوابی حکمت عملی سے واضح کر دیا کہ وہ اس قسم کے دباؤ کے لیے پہلے سے تیار تھا جس کے نتیجے میں تنازع طول پکڑ گیا اور امریکہ اور اسرائیل کو فوری نتائج حاصل نہ ہو سکے۔نئی صورتحال میں عالمی اور علاقائی دباؤ کے باعث مذاکراتی عمل کو دوبارہ اہمیت مل رہی ہے۔ اگر براہ راست بات چیت ممکن نہیں تو بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر لچکدار رویہ ہی کسی پیش رفت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مکمل جنگی راستہ اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور سفارتی آپشن کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران کی داخلی معاشی صورتحال بھی اس فیصلے پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ بندرگاہی سرگرمیوں میں کمی اور تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے اس کی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی اسے سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسی لیے اس کے حالیہ سفارتی دوروں کو ایک عملی اور ضرورت پر مبنی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کو اگرچہ اس جنگ سے براہِ راست کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تاہم عالمی سطح پر اس کے کردار اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی ردِعمل نے اسے ایک مشکل سفارتی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے‘ جہاں طاقت کے بجائے مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ دکھائی دیتا ہے۔
مجموعی طور پر صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں فریق دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے لیے کسی واضح کامیابی کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سنجیدہ حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ مسائل کا حل جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ اگر دونوں جانب سے لچک اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے تو نہ صرف یہ بحران ٹل سکتا ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved