تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     29-04-2026

عوام خطرے میں، حکمران بے خبر

سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا وہ باپ آج بھی سر پکڑے بیٹھا ہے جسے ڈاکٹر نے ایک ہی سانس میں بتایا کہ اس کے ایک یا دو نہیں‘ تینوں بچے HIV سے متاثر ہیں۔ نہ وہ یہ لفظ سمجھ سکا‘ نہ یہ کہ یہ بیماری آئی کہاں سے‘بس اتنا جانتا ہے کہ اس کے گھر کی ہنسی ایک لمحے میں ختم ہو گئی۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں‘ نہ کسی ناول کا اقتباس‘یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جسے ہمارے ہاں ماننے‘ سمجھنے اور روکنے کے بجائے چھپانے میں لگے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار‘ عالمی اداروں کی رپورٹس اور مقامی طبی تنظیموں کے بیانات مل کر ایک ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں جو نہایت خوفناک اور شرمناک ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے‘ اصل سوال یہ ہے کہ حکومتیں اب تک کیا کر رہی تھیں اور آج بھی کیوں محض بیانات‘ اعلانات اور عالمی دنوں کی تقریبات تک محدود ہیں۔ یہ حقیقت اب چھپ نہیں سکتی کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں ایچ آئی وی سب سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق گزشتہ پندرہ برسوں میں پاکستان میں نئے ایچ آئی وی کیسوں میں 200فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ 2010ء میں جہاں سالانہ نئے کیسز کی تعداد تقریباً 16 ہزار تھی‘ وہ 2024ء تک بڑھ کر 48 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں۔ کسی بھی ریاست کیلئے یہ ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے کیلئے کافی ہونا چاہیے تھا مگر پاکستان میں یہ الارم شاید فائلوں میں دب کر رہ گیا ہے۔ آج اندازاً تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد پاکستان میں ایچ آئی وی کیساتھ زندگی گزار رہے ہیں‘ لیکن ان میں سے تقریباً 80 فیصد کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ اس وائرس کا شکار ہیں۔ یعنی ہر 10 میں سے آٹھ افراد لاعلمی میں یہ وائرس آگے منتقل کر رہے ہیں۔ یہ لاعلمی کسی فرد کی ذاتی کوتاہی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ٹیسٹنگ‘ سکریننگ اور آگاہی کی ناکامی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 ء میں صرف 21 فیصد متاثرہ افراد ہی اپنے ایچ آئی وی سٹیٹس سے آگاہ تھے‘ جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم شرح ہے۔ سب سے زیادہ خوفناک اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وبا اب کسی مخصوص گروہ تک محدود نہیں رہی۔ وہ بیانیہ جس کے پیچھے حکومت برسوں چھپتی رہی‘ اب زمین بوس ہو چکا ہے۔ ایچ آئی وی اب معصوم بچوں‘ گھریلو خواتین اور عام شہریوں تک پھیل چکا ہے۔ 2010ء میں 14 سال کے بچوں میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز کی تعداد تقریباً 500 تھی جو 2023ء میں 1800 سے تجاوز کر گئی۔ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے آؤٹ بریکس میں بعض علاقوں میں متاثرہ افراد میں 80فیصد سے زیادہ بچے شامل تھے۔ یہ بچے نہ منشیات استعمال کرتے ہیں‘ نہ کسی جنسی بے راہ روی کا شکار۔ وہ صرف اس لیے ایچ آئی وی کے مریض بن رہے ہیں کہ کسی کلینک میں استعمال شدہ سرنج دوبارہ لگا دی گئی یا کسی بلڈ بینک نے بغیر سکریننگ کے خون چڑھا دیا۔ یہ محض غفلت نہیں بلکہ سنگین جرم ہے۔
ہر چند سال بعد پاکستان کے کسی نہ کسی شہر میں ایچ آئی وی کا ایک بڑا آؤٹ بریک سامنے آتا ہے۔جنوبی پنجاب کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں ایچ آئی وی کے حالیہ کیسز نے ایک انتہائی سنگین حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔بین الاقوامی طبی جریدے Virusesکے مطابق ڈائیلسز کے مریضوں میں سامنے آنے والا یہ پھیلاؤ ہسپتال کے اندر سے ہوا ۔تحقیق کے مطابق انفیکشن 2023ء سے 2024ء کے دوران پھیلا جب متاثرہ مریض ملتان کے ایک ڈائیلاسز یونٹ میں زیر علاج تھے۔ اس کے بعد نشتر میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال براہِ راست سوالات کی زد میں آ گیا مگر تاحال انتظامیہ یا صحت کے متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی جامع وضاحت سامنے نہیں آئی۔ یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پنجاب میں ایچ آئی وی کے 31 ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود صوبائی سطح پر صحت کے ذمہ داران کے بیانات اور دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ٹیسٹنگ‘ سکریننگ اور انفیکشن کنٹرول جیسے بنیادی معاملات آج بھی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ماضی میں بھی ایسے outbreaks سامنے آ چکے ہیں مگر ہر بار وقتی شور کے بعد معاملات دب جاتے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ محض اعلانات‘ دعوے اور بیانات اس بحران کا حل نہیں جب تک عملی اقدامات‘ سخت نگرانی اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوگا ایسے المیے بار بار جنم لیتے رہیں گے۔
لاڑکانہ‘ جیکب آباد‘ شکارپور‘ میرپور خاص‘ حیدرآباد‘ کراچی‘ تونسہ‘ اسلام آباد ہر جگہ کہانی ایک جیسی ہے۔ میڈیا میں شور مچتا ہے‘ حکام عارضی طور پر حرکت میں آتے ہیں‘ انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں‘ چند دن بیانات چلتے ہیں اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ ہزاروں متاثرہ بچوں کے بعد بھی نہ کسی بڑے ذمہ دار کو سزا ملتی ہے‘ نہ نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی آتی ہے۔ حکومت اکثر فخر سے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں اینٹی ریٹرووائرل تھراپی مراکز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے مگر یہ اعداد و شمار بظاہر جتنے خوش کن لگتے ہیں حقیقت میں اتنے ہی ناکافی ہیں کیونکہ آج بھی صرف 16 فیصد متاثرہ افراد زیرعلاج ہیں اور محض سات فیصد ایسے ہیں جن میں وائرس اس حد تک کنٹرول میں ہے کہ وہ دوسروں کو منتقل نہ ہو سکے۔
ہر سال پاکستان میں اندازاً 14ہزار سے زائد افراد ایڈز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن میں بچوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی کو روکنے کیلئے مؤثر علاج موجود ہے مگر ہمارے ملک میں صرف 14فیصد حاملہ خواتین کو یہ سہولت میسر ہے۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقے آج بھی عام ہیں۔ عالمی تخمینوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ کروڑوں انجکشن غیر ضروری طور پر لگائے جاتے ہیں‘ جن میں سے بڑی تعداد غیر محفوظ ہوتی ہے۔ جعلی ڈاکٹر‘ غیر تربیت یافتہ عملہ‘ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور غیر معیاری بلڈ بینک آج بھی کھلے عام کام کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ‘ صوبائی محکمہ صحت اور وفاقی نگران ادارے آخر کس چیز کی نگرانی کر رہے ہیں؟ اس بحران کا ایک گہرا سماجی پہلو بھی ہے۔ ایچ آئی وی سے جڑی بدنامی‘ خوف اور شرم کے باعث لوگ ٹیسٹ کروانے سے کتراتے ہیں مگر اس بدنامی کو کم کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ‘ مسلسل اور قومی سطح کی آگاہی مہم نظر نہیں آتی۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی تو ایچ آئی وی کو اخلاقی یا سماجی لیبل دینے کے بجائے خالصتاً صحتِ عامہ کا مسئلہ قرار دیتی۔ عالمی ادارے بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری‘ مربوط اور ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں ایچ آئی وی ایک بے قابو وبا کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ مگر صحت کیلئے مختص بجٹ پہلے ہی قومی آمدن کا ایک نہایت معمولی حصہ ہے اور اس میں بھی ایچ آئی وی جیسے جان لیوا مسئلے کو ترجیح حاصل نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایچ آئی وی سے متعلق ڈیٹا مکمل اور شفاف نہیں۔ اصل تعداد شاید سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوکیونکہ آبادی کی اکثریت تک ٹیسٹنگ کی سہولت ہی نہیں پہنچ پاتی۔ جب تشخیص نہیں ہو گی تو علاج ممکن نہیں اور جب علاج نہیں ہو گا تو وائرس پھیلتا رہے گا۔ یہ ایک شیطانی چکر ہے جسے توڑنے کیلئے مضبوط سیاسی عزم‘ سخت فیصلے اور بلاامتیاز کارروائی درکار ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کی صحت کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے غیر محفوظ طبی عمل کو ناقابلِ ضمانت جرم بنانا ہو گا‘ بلڈ بینکوں کی سخت ریگولیشن اور بڑے پیمانے پر بندش ضروری ہو گی اور ملک گیر سطح پر مفت‘ آسان اور خفیہ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کرنا ہو گی۔ متاثرہ افراد کیلئے علاج کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ‘ قانونی مدد اور نفسیاتی سہولتیں بھی دینا ہوں گی۔ سب سے بڑھ کر‘ بچوں کے تحفظ کو محض نعروں کے بجائے عملی ترجیح بنانا ہو گا۔ یہ وقت سچ بولنے کا ہے‘ اعداد و شمار کو ماننے کا ہے‘ ایکشن لینے کا ہے اور جوابدہی یقینی بنانے کا ہے۔ ایچ آئی وی پاکستان کا مسئلہ ہے‘ مگر اس کا حل بھی پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ اگر حکومت واقعی چاہے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved