نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے اور قرآن مجید میں جا بجا مقامات پر اس کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے کتاب اللہ اور احادیث مبارکہ میں سخت وعید سنائی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نمازِ باجماعت کا التزام فرماتے اور اپنی جملہ مصروفیات کو نماز کے اوقات میں ترک کر دیا کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نماز میں خشوع وخضوع غیر معمولی ہوتا تھا۔ وہ دنیا کے تمام معاملات کو فراموش کر کے نماز پر پوری طرح توجہ دیا کرتے تھے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا مقامات پر اُن اہلِ ایمان کی تحسین کی ہے جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سورۃ المومنون میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن مومنین کا ذکر کیا جن کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فردوسِ بریں کے باغات کو تیار کر رکھا ہے۔ ان لوگوں کی جو نشانیاں بتلائی گئی ہیں‘ ان میں نماز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس اہم فریضے کی ادائیگی میں خشوع اختیار کرنے کا بھی ذکر ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المومنون کی ابتدائی آیات میں ارشاد فرماتے ہیں: ''یقینا ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے‘ یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں۔ جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔ یہی وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ اسی طرح سورۃ الفرقان میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے رحمان کے خاص بندوں کی صفات میں سے اس صفت کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ سورۃ الفرقان کی آیت: 64 میں ارشاد ہوا ''اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الذاریات میں بھی ان متقین کا ذکر کیا جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن کامیاب فرمائیں گے۔ اس مقام پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کی صفات کا ذکر کیا کہ وہ راتوں کو کم سویا کرتے ہیں اور اُن کی راتیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی میں گزرا کرتی ہیں۔ سورۃ الذاریات کی آیات: 15 تا 19 میں ارشاد ہوا ''بے شک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے‘ وہ تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے۔ وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ اور وقتِ سحر استغفار کیا کرتے تھے۔ اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المعارج میں بھی نمازوں پر دوام اختیار کرنے والے اہلِ ایمان کی تحسین کی ہے۔
نماز کی ادائیگی جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قربت کا سبب ہے‘ وہیں اس کی وجہ سے انسان کو بہت سے روحانی اور نفسیاتی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں مقصدیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ مسلسل اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی میں مصروف رہنے کی وجہ سے لغویات اور گناہوں سے بچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نماز کے ان فوائد کا ذکر سورۃ العنکبوت کی آیت: 45 میں کچھ یوں فرمایا ''جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیے اور نماز قائم کریں‘ یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘ بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے‘ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل ورحمت سے نماز کی وجہ سے انسان منکرات اور فواحش سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
نماز فقط امتِ محمدی ہی پر فرض نہیں کی گئی بلکہ قرآن مجید سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سابقہ انبیاء کرام اور رسل اللہ بھی نمازوں کو ادا کیا کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں سورۂ مریم کی آیات: 54 اور 55 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کرو‘ وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔ وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰۃ (ادا کرنے) کا حکم دیتا تھا‘ اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول‘‘۔ اسی طرح سورۂ طٰہٰ کی آیات: 11 تا 15 میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی یاد کے لیے نماز کو ادا کرنے کا حکم دیا: ''جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی: اے موسیٰ! یقینا میں ہی تیرا پروردگار ہوں‘ تو اپنی جوتیاں اتار دے‘ کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے۔ اور میں نے تجھے منتخب کر لیا‘ اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن۔ بیشک میں ہی اللہ ہوں‘ میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں؛ پس تو میری ہی عبادت کر‘ اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ قیامت یقینا آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو‘‘۔
ان آیاتِ مبارکہ سے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ نماز کس قدر اہم فریضہ ہے۔ اس فریضے کی ادائیگی کے حوالے سے بہت سے لوگ کوتاہیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس فریضے کی ادائیگی کے دوران ہونے والی بعض غلطیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کیلئے انسان کو اپنی بساط کی حد تک بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے بہت سے لوگ غفلت اور لاعلمی کا شکار ہیں۔ بعض لوگ کئی ایسے امور سے ناواقف ہیں جو نماز کی ادائیگی کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ ہم اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ کئی مرتبہ انسان غسل اور وضو کی ادائیگی دوران اپنے اعضا کو تر کرنے پر توجہ نہیں دیتا۔ اسی طرح کئی مرتبہ انسان نماز کی ادائیگی کے دوران بھی ارکان کی ادائیگی میں کوتاہی کا ارتکاب کرتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے دوران کئی مرتبہ حضوریٔ قلب کی بجائے دنیا سے متعلقہ امور کی سوچ بچار میں غرق رہتا ہے۔ یہ تمام امور اصلاح و توجہ طلب ہیں۔ برادرِ عزیز عمر فاروق قدوسی نے اس حوالے سے ایک خوبصورت کتاب کو مدوّن کیا ہے جس میں وضو‘ غسل‘ طہارت اور نماز کی ادائیگی کے دوران پائی جانے والی عمومی کوتاہیوں کا ذکر کیا ہے۔ جو غلطیاں نماز اور اس کی تیاری کے دوران کئی مرتبہ عام مسلمانوں سے سرزد ہو جاتی ہیں‘ اس کتاب میں مختلف فصلوں میں ان کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح کی پُرمغز اور مفید کتب کا مطالعہ یقینا انسان کے علم میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور انسان کے عمل کی اصلاح کی بنیاد بھی بن جاتا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ برادرِ عزیز کی اس کاوش کو قبول ومنظور فرمائے اور ہم سب کو اللہ کی رضا کے لیے نبی کریمﷺ کی سنت کے مطابق نماز کو ادا کرنے والا بنا دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved