تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     30-04-2026

کل بھی کچھ نہیں بدلے گا

آئین میں ہونے والی 27 ویں ترمیم کے بارے میں عدلیہ کی آزادی بارے فکر مند لوگوں کو جو پُریقین قسم کے شکوک و شبہات تھے وہ اب کم از کم شکوک و شبہات کے دائرے سے باہر نکل آئے ہیں اور سب کچھ صاف صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ جنہیں یہ سب کچھ اب بھی دکھائی نہیں دے رہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل یہ سب وہی ہیں جنہوں نے اپنے ضمیر پر اس ترمیم کی حمایت کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والے حالیہ تبادلوں سے بہت سی چیزیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں جن میں سب سے پہلی تو یہ ہے کہ اب سپریم جوڈیشل کونسل پر حقیقی کنٹرول عدلیہ کا نہیں عوامی نمائندوں کا ہے۔ بلکہ زیادہ صاف لفظوں میں اب یہ کنٹرول حکمران پارٹی اور ان کے اتحادیوں کے ہاتھ میں ہے۔ جمہوریت کی دعویدار اور آئینی معاملات کو سیدھی لائن میں رکھنے کی علمبردار پیپلز پارٹی ہر بار کسی بھی معاملے پر گلی محلے کی حد تک بڑھکیں مارنے والے کسی جعلی جگے کی طرح آزمائش پڑنے پر بھیگی بلی ثابت ہوتی ہے۔ یہی کچھ حالیہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ہوا۔ آئین‘ قانون اور عدلیہ کی آزادی و خود مختاری کے نعرے لگانے والوں نے دو ججوں کا تبادلہ تو مؤخر کروا لیا لیکن تین ججوں کے بارے میں ہونے والی رائے شماری کے موقع پر وہی کچھ کیا گیا جو گزشتہ ایک عرصے سے ہوتا آ رہا ہے۔ حکمران پارٹی اور ان کے اتحادی ایک طرف تھے۔ ہمارے ہاں حالات کا رخ بھانپ کر وزنی پلڑے کو مزید وزنی کرنے کی شاندار روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے دیگر مرغانِ باد نما نے سرکاری رضا والے پلڑے کو زمین سے لگا دیا اور آسمان کی طرف بلند ہونے والے پلڑے میں چیف جسٹس کے ہمراہ راندۂ درگاہ پارٹی کے دو عدد قانون دان نمائندے تھے۔
گو کہ موجودہ تناظر میں پارٹی کے دو نمائندگان یعنی بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے بظاہر قانون‘ آئین اور عدلیہ کی عزت و آبرو کو تحفظ دینے کے نام پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ججوں کی ٹرانسفر کے خلاف ووٹ ڈالا ہے۔ اللہ مجھے بدگمانی سے بچائے‘ میرے خیال میں ان دونوں حضرات کا سپریم جوڈیشل کونسل میں ڈالا جانے والا مخالفت کا ووٹ فی الوقت وہی رویہ ہے جو ہمارے ہاں اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنایا جاتا ہے۔ میں مخالفت میں ڈالے جانے والے ان دونوں ووٹوں کو اخلاقی‘ آئینی اور قانونی اقدار کی خاطر ڈالے جانے والے ووٹوں میں اس لیے شمار نہیں کرتا کہ کل کلاں اسی قسم کی صورتحال میں آج ان ٹرانسفرز کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے والے جب خود حکمران پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہوں گے تو ان کا تب کا اصولی مؤقف وہی ہوگا جو آج حکمران پارٹی سے تعلق رکھنے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کا ہے۔ دراصل ہمارے ہاں ایسے معاملات میں مسئلہ اصول کا نہیں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپوزیشن میں ہیں یا حکمران پارٹی کے نمائندے ہیں۔
27ویں ترمیم کے ذریعے سرکار نے عدلیہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کے بعد ہم جیسے قلم گھسیٹ اگر نظامِ عدل کے بارے کچھ لکھ دیں تو ان کے لیے اب عام معافی ہو نی چاہیے کہ توہین کرنے کیلئے اب بچا ہی کیا ہے؟ لیکن جیسا کہ وہ کہاوت ہے کہ پانی ہمیشہ نیچے کی سمت بہتا ہے ہم چونکہ نیچے کی سمت ہیں اس لیے ہمیں بہرحال محتاط ہی رہنا پڑتا ہے۔ اسی احتیاط کے باعث فی الوقت اس عاجز کو بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ ان کیلئے کیا الفاظ لکھے۔ انہیں ناپسندیدہ‘ باغی یا معتوب جج بھی نہیں لکھا جا سکتا کیونکہ اس کی کوئی وجہ ہونی چاہیے اور جو وجوہات ہیں وہ بھی کھل کر بیان نہیں کی جا سکتیں‘ لہٰذا اس بات پر مٹی ڈالی جائے کہ ان تین ججوں کو کیا لکھا جائے۔ تاہم یہ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کے بعض فیصلوں اور اقدامات کے باعث ان کو متعدد انتظامی اقدامات کے ذریعے کافی حد تک ''نُکڑے‘‘ لگایا جا چکا تھا۔ اتفاقاً یہ تینوں معزز جج صاحبان اُن چھ ججوں میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024ء میں سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک خط لکھا تھا‘ جس میں عدالتی امور میں مداخلت اور دیگر ہتھکنڈوں سے ہراساں کیے جانے کا ذکر تھا۔ یہ بھی محض اتفاق ہے کہ یہ تینوں جج اُن پانچ ججوں میں شامل تھے جنہوں نے جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج بمعہ پرانی سنیارٹی تعینات کرنے کی مخالفت کی تھی۔ اتفاقات کا عجب تسلسل ہے کہ یہ جج موجودہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی تقریبِ حلف برداری میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ ظاہر ہے یہ احتجاج نہیں محض ایک اتفاق تھا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پانچ ججوں کے تبادلے کی درخواست پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مذکورہ درخواست سے اختلاف کرتے ہوئے بغیر کسی وجہ کے ان ججوں کے تبادلوں کوروکنے کی کوشش کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے سے رک جانے کا مشورہ دیا۔ لیکن بہرحال اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کر دی۔ چیف جسٹس کی جانب سے اجلاس سے گریز کرنے کے مشورے کے باوجود جوڈیشل کونسل کے پانچ ارکان نے آئین کی شق نمبر 175 (اے) (22) کے تحت کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست جمع کروا دی جس کے بعد اجلاس بلانا آئینی مجبوری تھا۔ اجلاس میں جو کچھ ہوا ممکن ہے اس پر وقت کی دھول جم جائے لیکن اس کے اثرات بہت دیر تک باقی رہیں گے۔ یوں سمجھیں پنجابی کے ایک لفظ کے مطابق سرکار کا ''اینٹ‘‘ کھل گیا ہے اور جب ''اینٹ‘‘ کھل جائے تو پھر چل سو چل ہے۔
ہمارا ایک دوست اس قسم کی ''دَبڑ گھسنیوں‘‘ پر ہمیشہ اس امید کا اظہار کرتا ہے کہ جب حکومت بدلے گی تو یہ سارے غیر قانونی‘ غیر آئینی اور غیر اخلاقی ضابطے‘ شقیں‘ ترامیم اور قوانین لپیٹ دیے جائیں گے۔ میں اس کی بات پر ہنستا ہوں اور اسے کہتا ہوں کہ وہ کسی خیالی دنیا میں رہتا ہے۔ ایسے بننے والے قاعدے‘ ضابطے اور قوانین برسر اقتدار لوگ بناتے ہیں اور انہیں واپس لینے یا بدلنے کا اختیار بھی برسر اقتدار لوگوں کے پاس ہی ہوتا ہے ان قوانین کے طفیل رگڑا کھانے والی اپوزیشن جب اقتدار میں آتی ہے تو انہیں علم ہوتا ہے کہ یہ قوانین ان کی حفاظت‘ اقتدار کی طوالت‘ حکمرانی کی پختگی‘ مطلق العنانی اور بلا شرکت غیرے موج میلہ کرنے میں مدو معاون ہیں اور بحیثیت حکمران اب وہ اس سے براہِ راست مستفید ہونے والے ہیں تو وہ ان قوانین کو بدلنے کے بجائے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے پاس بڑا مدلل جواب ہوتا ہے کہ اب اپوزیشن کو رونے دیں‘ یہ انہی کے بنائے ہوئے قوانین ہیں۔ جب وہ خود بینی فشری بنتے ہیں تو انہیں ان قوانین کو بدلنے کا خیال بھی نہیں آتا۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت کے سائے تلے طلبہ یونینوں پر لگنے والی پابندیاں آج 40سال گزرنے کے بعد بھی برقرار ہیں۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت سے متاثرہ پیپلز پارٹی بھی اس کے بعد تین بار برسر اقتدار آئی اور میاں نواز شریف بھی تین بار اقتدار میں آئے۔ کسی جمہوری حکومت کو آمریت کے زور پر یونینز پر عائد کی جانے والی پابندی ختم کرنے کا نہ خیال آیا اور نہ حوصلہ ہوا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں بھی طلبہ کی جانب سے کسی قسم کے احتجاج‘ مخالفت اور رکاوٹ کا خوف نہ رہا تھا‘ سو طلبہ تنظیموں اور تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین پر پابندی برقرار ہے۔ یہاں کل کا دن بھی آج جیسا ہی طلوع ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved