تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     30-04-2026

عالمِ نو ہو رہا ہے پیدا؟

عالمی جنگوں نے تاریخ اور جغرافیہ‘ دونوں کو بدلا ہے۔ یہ تبدیلی حالات کے ساتھ افکار وخیالات میں بھی آئی ہے۔ جس جنگ سے ہم ان دنوں میں گزر رہے ہیں‘ اس نے بھی انسانی خیالات اور نظریات کو متاثر کیا ہے۔ حسبِ روایت یہ تبدیلی پہلے مرحلے میں اہلِ دانش میں ظہور کرے گی اور دوسرے مرحلے میں عامۃ الناس کو متاثر کرے گی۔ پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد‘ پرانے سیاسی نظریات تشکیلِ نو کے عمل سے گزرے۔ اقوام کے بارے میں خیالات تبدیل ہوئے۔ دنیا سلطنتوں کے عہد سے نکل کر قومی ریاستوں کے دور میں داخل ہوئی۔ مطلق العنانیت یا فاشزم کے خلاف عالمی سطح پر تحریک اٹھی۔ ہٹلر اور مسولینی کو ناپسندیدہ شخصیات میں شامل کر لیا گیا۔ سلطنتوں کے دور میں ایسا نہیں تھا۔ فاتحین کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور سیاسی راہنما ان کو اپنے لیے مثال قرار دیتے تھے۔ جنگ جس طرح انسانی سماج کے لیے عذاب بن کر اترتی ہے‘ آج لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ انہیں مؤرخ کا انتظار نہیں کرنا پڑا کہ وہ گواہی دے اور پھر وہ فیصلہ کریں کہ ان کا ہیرو کون ہے۔
ہولو کاسٹ نے یہودیوں کے بارے میں اہلِ کلیسا کے خیالات بدل ڈالے تھے۔ یہی یہودی تھے جنہوں نے اپنے تئیں سیدنا مسیحؑ کو مصلوب کیا‘ یہ الگ بات کہ اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔ سیدہ مریم کی چادرِ عصمت پر ناپاک نگاہ ڈالی۔ ان کے جرائم کی ایک طویل فہرست ہے جو تاریخ کا حصہ ہے۔ ہولو کاسٹ نے مگر اس تاریخ کو بدل ڈالا۔ یہودیوں کے بارے میں عالمی سطح پر ہمدردی کی لہر اٹھی۔ ان کی بے وطنی‘ جو دراصل خدا کے ساتھ ان کی بدعہدی کی سزا تھی‘ ادب اور سیاست کا موضوع بنی۔ یہودیوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اہلِ کلیسا نے انہیں اسرائیل بنا کر دیا۔ عالمی معیشت پر اُن کی گرفت بڑھ گئی۔ پہلے برطانیہ اور پھر امریکہ نے ان کو اپنی پناہ میں لے لیا۔ یہود کے مظالم اور اہلِ کلیسا سے اختلاف قصہ پارینہ بن گئے۔ جرمنی نے ہولو کاسٹ پر دنیا سے معافی مانگی۔ اس کے بعد جو تاریخ لکھی گئی‘ اس میں یہود مظلومیت کا استعارہ بن گئے۔
موجودہ جنگ سے بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اس تبدیلی کا پہلا ہدف جمہوریت ہے۔ اس کے بارے میں ا گر چہ پہلے سے بحث جاری ہے مگر اس جنگ نے اسے مہمیز دے دی ہے۔ اس کا آغاز عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے صدر ٹرمپ نے کیا۔ اسرائیل کے وزیراعظم بھی منتخب راہنما ہیں۔ گویا اس جنگ نے جمہوریت کی کو کھ سے جنم لیا۔ جمہوریت نے جو انڈے بچے دیے‘ اس میں ایک پاپولزم بھی ہے۔ ٹرمپ‘ مودی جیسے لوگ اسی کے مظاہر ہیں۔ پاپولزم میں لوگ عوام کے تائید سے اپنے اقتدار کے لیے جواز تلاش کر تے ہیں۔ پھر وہ اسے آمریت‘ ظلم اور لاقانونیت کے لیے لائسنس بنا لیتے ہیں۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش کی حسینہ واجد بھی شامل ہیں۔ گزشتہ چند عشروں میں ٹرمپ‘ مودی‘ نیتن یاہو اور حسینہ واجد کے ہاتھوں جتنے انسانوں کا قتل ہوا ہے‘ وہ بڑی بڑی جنگوں میں نہیں ہوا۔ اس فہرست میں ہم چند اور حکمران بھی شامل کر سکتے ہیں جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں۔ جمہوریت نے اکثر مطلق العنانیت کو جنم دیا۔
آج تاریخ میڈیا کی وجہ سے روزانہ لکھی جا رہی ہے۔ اس لیے لوگوں کو نتائج تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یہ سوال اب اٹھ رہا ہے کہ کیا جمہوریت ایک قابلِ بھروسا نظام ہے؟ کتابی سطح پر جمہوریت قانون کی حکمرانی سے عبارت ہے لیکن واقعات یہ بتاتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد‘ جمہوری حکمرانوں کے رویے بھی دوسروں سے کم ہی مختلف ہوتے ہیں۔ جمہوریت بھی انہیں ظلم سے روک نہیں پاتی۔ منتخب امریکی صدور نے عراق اور ایرن میں عالمی قوانین کو پامال کیا۔ صدر ٹرمپ تو کانگرس کو بھی خاطر میں نہیں لائے اور اپنے ملک کو جنگ میں دھکیل دیا۔ مودی رجیم اقلیتوں کے لیے دورِ عذاب ثابت ہوا۔ اس کے بعد جمہوریت کے ساتھ کسی رومان کا باقی رہنا مشکل ہو جائے گا۔ جمہوریت چنداور حوالوں سے پہلے بھی زیرِ بحث رہی ہے۔ اس کی ایک جہت مسلم معاشروں میں جمہوریت کا مستقبل ہے۔ برنارڈ لیوس اور فوکو یاما جیسے لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ عالمِ اسلام کی فضا جمہوریت کے لے سازگار نہیں۔
جمہوریت کے لیے ایک چیلنج چین نے بھی پیدا کر رکھا ہے۔ چین نے آزاد منڈی کی معیشت اورایک مضبوط ریاستی بندوبست کے اختلاط سے جو ریاستی نظام بنایا ہے‘ وہ اب تک نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔ یہ اگرچہ اس جنگ کا براہ راست نتیجہ نہیں لیکن جمہوریت کے بارے میں جاری بحث کا ایک اہم باب ہے۔ اس سے یہ مؤقف مضبوط ہوا ہے کہ جمہوریت کو لبرل ازم کے پیراڈائم سے الگ کر کے دیکھا جانا چاہیے اور اسے براہ راست عوامی فلاح وبہبود سے متعلق کر دینا چاہیے۔ چین نے بتایا ہے کہ یہ ممکن ہے۔ سیاسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں اس باب میں ابھی تک تذبذب کا شکار ہوں۔ یہ سوال میرے لیے جواب طلب ہے کہ اگر بادشاہت اور چین جیسے نظام سے عوام کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہوں جو امن اور بنیادی انسانی حقوق سے عبارت ہیں‘ تو لبرل ڈیموکریسی پر اصرار کیوں ضروری ہے؟
دوسری تبدیلی کو غزہ میں اسرائیلی مظالم نے جنم دیا جو اسی جنگ کا ابتدائی دور تھا۔ اس جنگ نے یہودیوں کو مظلوم سے ظالم کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے بارے میں جو تاثر ہولو کاسٹ کے نتیجے میں قائم ہوا تھا‘ وہ اب باقی نہیں رہا۔ مظلومیت کا کارڈ ان کے ہاتھ سے نکل چکا۔ یہ اب فلسطینیوں کے پاس ہے۔ امریکہ میں ہونے والے حالیہ سروے اس کی تائید کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں فلسطینیوں کے حمایت میں اضافہ ہو گا۔ پہلے پی ایل او اور پھر حماس نے فلسطینیوں کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا۔ گزشتہ چند عشرے وہ تھے جس میں تشدد کے لیے کوئی قبولیت نہیں تھی۔ حماس جیسی تنظیموں نے تشدد کو ہتھیار بنایا تواہلِ فلسطین کے لیے وہ ہمدردی پیدا نہیں ہو سکی‘ وہ جس کے مستحق تھے۔ اسرائیل نے ظلم کے میدان میں حماس کو شکست دے دی۔ اس باب میں کوئی باقی ابہام نہیں رہا کہ اسرائیل کی قیادت اور صہیونی ظالم ہیں۔ اس لیے فضا بدل رہی ہے۔ ہولوکاسٹ کی طرح یہ تبدیلی عالمی سیاست پر اثر انداز ہو گی۔ اگر اس موقع پر فلسطینیوں نے حماس جیسی غلطی کو نہ دہرایا تو ان کا مقدمہ آسان ہو جائے گا۔ اب اسرائیل اور صہیونیوں کو کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو گا۔ گریٹر اسرائیل کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اس تصور کو امریکہ یا یورپ کے عوام کی تائید نہیں مل سکے گی۔
ان واقعات کے پس منظر میں‘ میرا خیال ہے کہ اس جنگ نے افکار اور خیالات کو وسیع پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ اب مزاحمت کا تصور بھی تشکیلِ نو سے گزرے گا۔ مسلم سیاسی فکر میں بھی نئی جہتیں سامنے آئیں گی۔ ولایتِ فقیہ پر بھی اب نئی بحث چھڑے گی۔ جیسے جیسے جنگ کے اثرات نمایاں ہوں گے‘ مسلمانوں میں غور وفکر کا نیا باب کھلتا چلا جائے گا۔ ایران اور افغانستان کے تجربات پر بات ہو گی۔ اب وہ عالمی بندوبست بھی زیرِ بحث آئے گا جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہوا اور جو عالمی امن قائم کرنے میں ناکام ثابت ہوا۔ جو مظلوموں کے بجائے ظالموں کا ساتھی ثابت ہوا۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ ایک جہانِ نو پیدا ہو رہا ہے اورعالمِ پیر مر رہا ہے۔ یہ کہنا البتہ مشکل ہے کہ نیا نظام انسانیت کے لیے خیر کا باعث ہو گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کردار بدل جائیں گے‘ حالات فی الجملہ وہی رہیں گے۔ کچھ قوانینِ فطرت ہیں جو کسی دور میں تبدیل نہیں ہوتے۔ ان پر پھر بات ہو گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved