میرے والد جناب محمد زکی کیفی مرحوم مصطفی صادق اور جناب جمیل اطہر کے روزنامہ وفاق میں برسوں قطعہ لکھتے رہے۔ نومبر 1973ء میں جب مرحوم شاہ فیصل کے ایما پر عرب ممالک نے یورپ اور امریکہ پر تیل کی بندش کا ہتھیار استعمال کیا تو دنیا میں بہت بڑا بحران پیدا ہو گیا۔ اُس وقت جناب زکی کیفی نے لکھا تھا:
تیل کا کاروبار دیکھ چکے ؍ تیل کی دھار بھی ذرا دیکھو
تم نے دیکھی ہے تیل کی بھرمار ؍ تیل کی مار بھی ذرا دیکھو
وہ شمسی توانائی کے دور سے ناآشنا دنیا تھی جس میں توانائی کے متبادل ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے۔ چنانچہ دنیا خاص طور پر یورپ گھٹنوں پر آ گیا۔ اب 53 برس کے بعد دنیا پھر ایک بہت بڑے بحران کا سامنا کر رہی ہے‘ اور یہ شاید پچھلے سے بھی بڑا ہے۔ اب میں 395 روپے فی لٹر تیل ڈلواتے ہوئے اور بحران کو پیدا کرنے والوں کو کوستے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ یہ غبارہ پھٹنے والا ہے یا ابھی اور بڑا ہو گا۔ کل ہی یہ خبر پڑھی کہ متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے الگ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ کم و بیش پندرہ بیس برس سے متحدہ عرب امارات دنیا میں‘ مشرقِ وسطیٰ میں اور خلیجی ممالک میں ایک ایسا ملک بننے کی کوشش میں ہے جو تینوں دائروں میں اپنی اہمیت اور اثر منوا سکے۔ اب اچانک اس کا اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑ دینے کا اعلان غیرمتوقع تو ہے لیکن اس سلسلے کی ایک کڑی بھی ہے۔ اس فیصلے کو تکنیکی نہیں‘ جیو پولیٹکل سمجھنا چاہیے۔ اور عالمی اور بدلتی علاقائی سیاست کے پس منظر میں دیکھناچاہیے۔ صرف تیل کی دنیا کو دیکھا جائے تو یقینا دنیا پر اس کے گہرے اثرات ہوں گے لیکن یہ اثرات صرف تیل تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں نئے سیاسی اور دفاعی اتحادوں کا ایک نیا منظرنامہ بھی نظر آتا ہے۔
پہلے دیکھیے کہ اوپیک اور اوپیک پلس ہے کیا؟ 1960ء میں بغداد میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی ایک تنظیم بنائی گئی جس کا نام اوپیک OPEC (آرگنائزیشن آف دی پٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) تھا۔ اس تنظیم میں سعودی عرب‘ عراق‘ ایران‘ کویت اور چند دیگر ممالک شامل تھے۔ یاد رہے کہ اس وقت متحدہ عرب امارات وجود میں نہیں آیا تھا لیکن 1967ء میں ریاست ابوظہبی نے اس میں پہلے خود اور 1971ء میں یو اے ای کی صورت میں شرکت اختیار کی۔ ان ممالک کے مقاصد میں تیل کی منڈی میں قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور رکن ممالک کے زیادہ سے زیادہ فائدے شامل تھے اور کوئی شک نہیں کہ اوپیک نے ان ممالک کو بہت فائدہ پہنچایا۔ دنیا اوپیک کی مرضی کی قیمتوں پر چلنے لگی اور یہ ممالک مشترکہ طور پر اپنی مرضی کی قیمتیں طے کرنے لگے۔ صرف قیمتیں ہی نہیں بلکہ تیل کی پیداوار بھی کنٹرول کی جاتی تھی تاکہ طلب اور قیمت کم نہ ہو۔ سعودی عرب تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا لہٰذا اوپیک میں اس کی اہمیت بھی زیادہ تھی۔ 2016ء میں جب تیل کی قیمتیں گرنے لگیں تو ایک اور تنظیم اوپیک پلس بنائی گئی جس میں روس‘ آذربائیجان‘ بحرین‘ برونائی اور عمان وغیرہ کو بھی شامل کر لیا گیا۔ مقصد زیادہ سے زیادہ ملکوں کا کارٹل بنا کر تیل کی پیداوار اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا تھا۔
66 سال تک اوپیک کامیابی سے چلتا رہا۔ عملاً اوپیک کا سربراہ سعودی عرب ہی تھا لیکن جب خلیجی ممالک میں اختلافات شروع ہوئے اور دراڑیں نظر آنے لگیں تو دیگر ممالک بھی یہ جتن کرنے لگے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں نہ ہو بلکہ ان کی اپنی اہمیت اور طاقت نظر آئے۔ قطر اور عرب امارات کے سعودی عرب سے اختلافات شروع ہوئے اور بڑھتے چلے گئے۔ خلیجی ممالک کو دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت یہ آسانی ہے کہ نہ ان کے ہاں سیاست ہے نہ سیاستدان‘ نہ انتخاب نہ مقننہ نہ حزبِ اختلاف۔ حکومت ایک خانوادے کی چلی آرہی ہے‘ سو اسی کی نسلیں حکومت کرتی رہیں گی۔ اس کا ایک فائدہ اور نتیجہ یہ کہ پالیسیوں میں تسلسل رہتا ہے۔ تیل کا ہتھیار ابھی تک مؤثر ہے اور دولت اتنی ہے کہ تجوریاں ناکافی رہتی ہیں۔ لیکن عرب ممالک میں کئی عشروں سے دولت اور طاقت کی نمائش کے ساتھ چودھراہٹ کی دوڑ بھی جاری ہے۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے باہمی اختلافات مسلسل بڑھتے گئے۔ یو اے ای کا امریکہ اسرائیل اور ساتھ ساتھ بھارت سے اتحاد ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ ان ممالک کے ذریعے اپنے تجارتی‘ دفاعی اور سیاسی فائدے چاہتا ہے۔ ابراہم اکارڈ میں بھی امارات پیش پیش رہا۔ سعودی عرب اس میں محتاط تھا اور اسے اپنی کئی نزاکتیں بھی ملحوظ رکھنا تھیں۔ اب امریکہ ایران جنگ ہوئی تو دراڑیں بڑھ کر شگاف بن گئیں۔ عرب امارات پر ایرانی حملے زیادہ ہوئے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے اس کا نقصان بھی بہت ہوا۔ یو اے ای میں سرمایہ کاری بھی نہ صرف رک گئی بلکہ ڈھلوان پر لڑھکنے لگی۔ سعودی عرب پر حملے کم بھی ہوئے اور اس کے پاس آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ بھی تھا۔ امارات چاہتا تھا کہ اوپیک ممالک خاص طور پر خلیجی اور نزدیکی ممالک کھل کر ایران کی مخالفت کریں اور آبنائے ہرمز بزور کھلوانے میں اس کا ساتھ دیں۔ یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ یو اے ای اور کچھ خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ ایران کی طاقت مکمل کچل دینے تک جنگ بندی نہ کی جائے۔ سعودی عرب نے اس مؤقف کا ساتھ نہیں دیا بلکہ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور معاہدے کی کوششوں میں ساتھ رہا۔ اسی ناراضی میں یو اے ای نے پاکستان سے اپنے ساڑھے تین ارب ڈالر واپس مانگے تو سعودی عرب نے وہ کمی پوری کردی۔ اس طرح اب خلیجی ممالک میں دو دھڑے بنتے جارہے ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ دنوں میں کچھ اور ممالک بھی اوپیک چھوڑنے کا اعلان کریں اور اوپیک کمزور ہوکر رہ جائے۔
اس کشمکش کے علاوہ بھی بظاہر متحدہ عرب امارات اس وقت تیل کی اونچی قیمتوں اور دنیا میں تیل کی زبردست طلب کو دیکھتے ہوئے 2027ء تک اپنی پیداوار 30 فیصد تک بڑھانا چاہتا تھا اور اسے یہ موقع بہترین محسوس ہوتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد بھی کافی مدت تک تیل کی قیمتیں اونچی رہیں گی۔ اوپیک میں رہتے ہوئے پیداوار بڑھانا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے امارات نے اپنے فائدے کیلئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس معاملے کی ایک جہت ایران بھی ہے۔ اگر ایران پر پابندیاں بدستور رہتی ہیں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی جاری رہتی ہے تو شاید چین کے استثنیٰ کے ساتھ باقی دنیا کو ایرانی بندرگاہوں سے تیل سمیت کچھ بھی نہ مل سکے۔ اس لیے امارات کو تیل کی پیداوار بڑھانے کا یہ موقع بہتر لگتا ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یو اے ای کی متحدہ ریاستوں میں اصل طاقت اور فیصلہ ابوظہبی کا ہے۔ اصل رقبہ اور تیل ابوظہبی کے پاس ہے اور اسے اس کی زیادہ پروا نہیں ہے کہ سیاحت اور تجارت کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے۔ ابوظہبی کا انحصار ان دونوں پر نہیں ہے جبکہ دبئی نے تجارت اور سیاحت کے ذریعے جو مرکزیت حاصل کی ہے اس کا امریکہ ایران جنگ نے بیڑا غرق کردیا ہے۔ لیکن یو اے ای پر عملداری ابوظہبی کی ہے۔
آبنائے ہرمز کا مستقبل ابھی تک واضح نہیں۔ اگر ایران اس پر ٹول ٹیکس لگانے میں کامیاب ہو گیا اور بالفرض عمان بھی اس معاملے میں اس کا ساتھی بنا تو یہ امارات کیلئے مستقل درد سر رہے گا۔ میرے خیال میں کالم کی اشاعت تک ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشی کی ٹویٹ آچکی ہو گی۔ یہ خبر اس کیلئے کامیابی ہے اور بظاہر پس پردہ اس فیصلے میں امریکی دخل بھی ہے۔ 2018ء میں ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اوپیک پر کڑی تنقید کی تھی بلکہ کہا تھا کہ یہ تیل کے ذریعے دنیا کی کھال اتارنا چاہتے ہیں۔ اور اب ہم عربی اور عجمی ہاتھیوں کو کوستے ہوئے مہنگا تیل خریدتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ غبارہ کب پھٹے گا۔ ہم تیل کی دھار دیکھتے ہیں اور تیل کی مار سہتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved