ہو سکتا ہے کہ یہ انسانی نفسیات کا المیہ ہو کہ ہم بڑے لوگوں‘ ماضی کے افسانوی کرداروں اور وقت کی مٹی میں دفن تہذیبوں کے گن گاتے ہیں تو سستی کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح گزرے دور کی طاقتور سلطنتوں اور حال کی بڑی طاقتوں کے عروج و زوال کے بارے میں بھی ہم نہ صرف اپنا سر کھپاتے ہیں بلکہ دلائل دے کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید یہ المیہ نہ ہو اور ایسے رویوں کا کوئی مثبت پہلو ہو اور ہمارا کوئی سبق لینا مقصود ہو‘ کوئی تحریک لینی ہو اور اپنے آپ کو اسی قالب میں ڈھالنے کی تمنا کو پختہ کرنے کا ارادہ ہو۔ شخصی کرداروں اور تہذیبوں کی بات پھر کبھی سہی۔ صرف آج کل ہی نہیں بلکہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے‘ اُفق پر چھائے ہوئے معاشی‘ سیاسی اور نظریاتی نظاموں کے حامیوں اور مخالفوں میں نہ صرف لفظی جنگ بلکہ اینٹ پتھر سے لے کر بندوقوں تک کا بھی آزادانہ استعمال دیکھا ہے۔ نہ جانے دنیا بھر میں کتنے لاکھ انسان لقمۂ اجل اس لیے بنے کہ وہ اپنے نظریاتی خوابوں کی تعبیر کیلئے جن کو رکاوٹ خیال کرتے تھے انہیں گولیوں‘ قید اور تشدد کا نشانہ بنانا اپنے تئیں جائز خیال کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب نظریاتی دشمنوں کیلئے احترام تھا اور نہ آزادی سے سانس لینے کی گنجائش۔ عالمی سطح پر دو بڑی طاقتیں دو متضاد نظاموں کے نظریاتی اور سماجی دائرے اور اثر و نفوذ کو پھیلانے کیلئے زور آزمائی تقریباً نصف صدی تک کرتی رہیں۔ پراکسی جنگیں کیں‘ نظریاتی حامیوں کی مدد سے دانشور حلقوں اور دیگر شعبوں میں جہاں کہیں پسندیدہ نظریاتی روشنی پھیل سکتی تھی‘ وہ کھلے چھپے ذرائع سے پھیلاتی رہیں۔ ہم اور ہماری عمر کے دیگر نوجوان تب نظریاتی کشمکش کے دور میں کسی نہ کسی نظریاتی حلقے سے جڑے ہوئے تھے۔ ایک تعداد وہ بھی تھی جو فکری ٹکراؤ سے آزاد حصولِ علم برائے نوکری کی قائل تھی۔ اہلِ فکر ان کے مقابلے میں میرے نزدیک وسیع المطالعہ تھے۔ وہ تاریخ‘ فلسفہ‘ عالمی اور فوجی سیاست کے دھاروں کو بہتر سمجھتے تھے۔ اس میں کسی ایک نظریے کی تخصیص نہیں۔ بڑی طاقتوں اور ان کے متبادل اور متصادم نظاموں کے چلانے اور انہیں دوسرے کیلئے قابلِ تقلید بنانے کی بالائی سیاست کا کھیل اور اس کا میدان ہماری تیسری اور چوتھی دنیا سے بہت دور تھا۔ زیادہ تر تاریخ اور علمی گفتگو پر چھاپ اسی کھیل کی ہے۔ وہ جو نظاموں کے ٹکراؤ کی جنگ اپنے اپنے ملکوں میں لڑ کر ایک دوسرے کے سر پھوڑتے رہے اور اکثر مایوسیوں اور ناکامیوں کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئے‘ ان کی کہانی کسی نے نہیں لکھی۔ ادھر اُدھر ہم بعض کی ثابت قدمی‘ انتھک جدوجہد اور قربانیوں کا ذکر دیکھتے ہیں مگر وہ ذاتی اور خاندانی طور پر جن اذیتوں سے گزرے اس کا ادراک نہ کسی کو ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ ان کی آپ بیتیاں ان کے ساتھ ہی خاموش ہو گئیں۔ ہمارا اپنا کردار اس نظریاتی کشمکش کے پڑاؤ میں ایک مسافر کا سا تھا۔ اچھا ہوا کہ ان جنگی مشقوں میں زیادہ وقت ضائع نہ کیا اور اپنی زندگی کی تعمیر خود کرنے کا ہنر کہیں سے سیکھ لیا۔آزادی اسی ہنر کا دوسرا نام بلکہ اس کی روح ہے۔ کاش ہمارے قلم کی نوک میں وہ تاثیر ہوتی اور زبان کی آسودگی بھی میسر ہوتی تو خودی کے بارے میں کچھ لکھ ڈالتے۔ یہ ایک ایسا خیال ہے جو نیا تو نہیں مگر کبھی پرانا بھی نہیں ہوا۔ اس کی کوئی ایک مخصوص تہذیب یا زمانہ ہے اور نہ ہی مذہب یا رنگ و نسل۔ خودی کے ذریعے راستہ بنانے اور آگے کے خواب دیکھ کر ان کی تعبیر اپنی کاوش سے کرنے کا تصور شخصی آزادی کا منشور ہے۔ ایک عرصہ سے نظریات کے سلسلے میں آہستہ آہستہ ہم غیر مقلدوں کی صف میں شامل ہونا شروع ہو گئے۔ اس کا مطلب آپ ہرگز یہ نہ لیں کہ نظریاتی نوعیت کے لوگ یا نظریات کا ہمیں احترام نہیں۔ ہم ان کی بہت قدر کرتے ہیں‘ ان سے علمی اور فکری روشنی بھی حاصل کرتے ہیں مگر اپنا راستہ خود بنانے کے قائل ہیں۔اس لیے سب نظریات ‘ سب خیال ‘تمام افکار اور تمام نظاموں کے اہل دانش قابلِ قدر ہیں کہ ان سے فیض یاب ہونے کا موقع تو سب کیلئے ہے۔ فرق یہ ہے کہ جانبداری میں ہر ایک کا اپنا رنگ دار جھنڈا‘ نعرے اور صف بندی ہے۔ دوسری طرف دور سے کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے اور اپنی راہ چلنے کی بھی آزادی ہے۔
ہمارا ایک گہرا امریکی دوست اور کلاس فیلو جس سے اب بھی رابطہ رہتا ہے‘ اوائل جوانی میں نصاب کی کتابوں کے ساتھ البرٹ کیمواور ارنسٹ ہیمنگ وے کو پڑھتاتھا۔اس کے اس شوق کو دیکھ کر دیگر بھی متاثر ہوتے اور اس طرح ان کو پڑھنے کی خواہش کا اظہار کرتے تو وہ کہتا کہ آپ اس میں نہ پڑیں۔'' ادب اور سیاست‘‘ کا ایک کورس ہے۔ ہم بطور معاون اساتذہ ایک بہت بڑے گروہ کے ساتھ پڑھتے پڑھاتے ادب کے میدان میں سیاست سے بھی کچھ آگے نکل گئے۔
سیاست تو انسانوں کو پابند کرتی ہے قانون کا ‘تہذیب کا ‘ دستور کا‘ اخلاق کا اور معاشرے میں نظم و ضبط کا۔ مگر وہ آزادی جس کے لفظی اور معنوی اظہار میں ہماری نسل کے لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر تلے ہوئے تھے‘ کیا اس نوع کی سیاست سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتی۔ ایسی کوئی آزادی انارکی اور بے راہ روی کے زمرے میں آئے گی۔ راستے کا تصور بھی چلنے کی جگہ کو کانٹوں اور رکاوٹوں اور ہر طرح کی اذیت ناکیوں سے صاف رکھنا ہے۔ اپنا راستہ خود بنا کر آزادیٔ اخلاق کااعلیٰ معیار اس لیے ہے کہ اپنی تعبیر جس سے مراد اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے دنیا میں اپنے مخصوص شعبے میں نافذ کرنا ہے ‘ زندگی کو بامقصد بناتا ہے۔ پتا نہیں ہمارے دانشور اور عام قاری ادبی شہ پاروں اور ''زیست و نازیست‘‘ کے فلسفوں کو کیسے پڑھتے اور سمجھتے ہیں‘ یہ ہمارا سروکار نہیں۔اگر ہے تو صرف اپنی آزادی اور اس راہ سے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی منزلیں نئے سرے سے ترتیب دینے کی تحریک جاری رکھتی ہے۔ میرے نزدیک آزادی سے زیادہ جاذب‘ متحرک اور طاقتور کوئی اور جذبہ نہیں۔ باقی سب ذیلی‘ وقتی اور جذباتی نوعیت کے ہیں۔ اس دوست نے کہا تھا کہ اس میں نہ پڑیں کہ'' زیست و نازیست‘‘ کے فلسفوں میں آپ کہیں کھو نہ جائیں اور آزادی کا تصور مبہم نہ رہ جائے۔ اس سے روشنی حاصل کرنے کے بجائے اندھیروں کی طرف نہ نکل جائیں۔ اس کی بات دل کے تہہ خانے میں رکھ کر اس کی حفاظت کی ہے۔ اپنے ملک اور معاشرے میں بہت کچھ دیکھا‘ سنا ہے اور کچھ اس کے معاشرتی اور انسانی رویوں کے بارے میں پڑھا بھی ہے۔ ہمارے نزدیک سب ٹھیک ہیں۔ سب ٹھیک ٹھاک ہیں۔یہاں جو بات غالب نظر آتی ہے وہ اپنی آزادی کے نام پر یا پھر اس کے اظہار میں دوسروں کیلئے سوچ اور زندگی کے دائرے کو محدود کرنے کی روش ہے۔ جب کبھی سننا پڑتا ہے کہ کوئی کسی سے کہے کہ آپ غلط ہیں تو ہمیں تو فرعونیت اور عدم برداشت کی بُو آتی ہے۔ آپ سے اختلاف کا مطلب کسی سے دشمنی ‘ حق و باطل کا معرکہ نہیں بلکہ ایک شخص کا اپنے خیالات ‘ افکار اور طرزِ زندگی کا اظہار ہے جس پر کسی دوسرے کو تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ سماجی تبصرہ نگاری جو ہر گھر سے شروع ہو کر گلی‘ محلوں ‘درسگاہوں اور وسیع معاشرتی اور سماجی میدانوں تک پھیل چکی ہے دوسروں کے متعلق تنقیدی تبصرے ایک طرح کا نفسیاتی اور ذہنی تشدد ہے جو عام طور پر لوگ اخلاقیات کو بنیاد بنا کر جائز خیال کرتے ہیں۔ انہیں اس اذیتناکی کا شعور ہی نہیں کہ معصوم بچوں سے لے کر اَن پڑھ آدمیوں تک‘ جو مجبوری میں شاید اظہار نہ کر سکیں‘ ان کے اثرات ان کے تحت الشعور میں چلے جاتے ہیں۔ یہ رویے آزادی اور خودی کیلئے زہر سے بھی زیادہ مہلک ہیں۔ تخلیق اور ذاتی تعمیر کی صلاحیتیں معاشرے سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ آزادی کے مخالفین ہمیشہ طاقتور حلقے رہے ہیں کہ انہیں اپنے نظاموں‘ نظریات اور طاقت کے زوال کا خوف لاحق رہتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved