تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     06-05-2026

زبان کا مسئلہ، ذریعۂ تعلیم کے سوال سے آگے

پاکستان میں جب بھی تعلیم اور زبان پر گفتگو ہوتی ہے تو عام طور پر ایک ہی سوال زیرِ بحث آتا ہے کہ ہمارا ذریعۂ تعلیم کیا ہونا چاہیے؟ انگریزی‘ اُردو یا مادری زبان؟ بظاہر یہ ایک سادہ سوال ہے مگر اتنا سادہ بھی نہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ہماری سوچ کے انداز اور ہماری شناخت سے جڑی ہوتی ہے اور اس کا براہِ راست تعلق طاقت سے ہے۔ جس زبان کے بولنے والے برتر سماجی مرتبے کے مالک ہوں اور جس زبان کی Pragmatic Value زیادہ ہو وہ طاقتور زبان کہلاتی ہے۔ پاکستان میں انگریزی کی حیثیت اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ انگریزی محض زبان نہیں بلکہ طاقت‘ اختیار اور مواقع کی علامت بن چکی ہے۔ جو لوگ اس زبان پر عبور رکھتے ہیں وہ ایسے سماجی دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ترقی کے مواقع نسبتاً آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین‘ چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو‘ اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سکولوں میں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ تصور راسخ ہو چکا ہے کہ انگریزی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ خواہش اپنی جگہ قابلِ فہم ہے مگر اس کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
ایک چھوٹا بچہ جب پہلی بار سکول جاتا ہے تو وہ اپنے ساتھ اپنی زبان‘ اپنے تجربات اور اپنی دنیا لے کر آتا ہے۔ مگر جب اسے ایک ایسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے جو اس کیلئے اجنبی ہو تو اسے بیک وقت دو سطحوں پر جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ایک طرف تو وہ نئے تصورات سیکھ رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف ایک نئی زبان کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ تصورات کو سمجھنے کے بجائے انہیں یاد کرتا ہے۔ اس کے ذہن میں الفاظ تو محفوظ ہو جاتے ہیں مگر ان کا مفہوم اس کی گرفت سے باہر رہتا۔ وہ امتحان میں رٹے کی مدد سے پاس ہو جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم بھی رٹے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سیکھنے کا عمل اس کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ وہ کمرۂ جماعت میں سوال کرنے سے ہچکچاتا ہے کیونکہ اسے زبان پر اعتماد نہیں ہوتا۔ یوں وہ کلاس میں اکثر خاموش رہتا ہے۔
جب زبان سیکھنے میں رکاوٹ بن جائے تو تعلیم سب کیلئے یکساں مواقع فراہم نہیں کر سکتی۔ وہ بچے جو اپنے سماجی اور معاشی پسِ منظر کی بدولت پہلے سے انگریزی سے کسی حد تک واقف ہوتے ہیں دوسرے بچوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ یوں زبان کلاس روم میں ایک گہری تفریق کا باعث بنتی ہے‘ جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ انگریزی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ علم‘ تحقیق اور عالمی روابط کی ایک اہم زبان ہے لیکن مسئلہ انگریزی نہیں بلکہ سرکاری اور سماجی سطح پر ہمارا وہ رویہ ہے جس کی بدولت ہم نے دوسری زبانوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ تحقیق اور تجربے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بچے اپنی مادری زبان میں بہتر سیکھتے ہیں۔ مادری زبان وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر علم کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جب بچہ اپنی زبان میں تصورات کو سمجھتا ہے تو اس کی سوچ میں گہرائی اور وسعت پیدا ہوتی ہے‘ اس کے برعکس جب یہ بنیاد کمزور ہو تو سیکھنے کا عمل سطحی رہ جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں مادری زبان کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے اپنے سماجی رویے ہیں۔ ہم نے خو د ذہنی طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اصل معیار انگریزی زبان ہے اور مقامی زبانیں کم تر ہیں۔ یہ رویہ محض لسانی نہیں‘ اس کی جڑیں نوآبادیاتی دور سے جا ملتی ہیں۔
زبان کا تعلق شناخت سے بھی ہے۔ انسان اپنی زبان کے ذریعے دنیا کو سمجھتا ہے اور اپنی پہچان تشکیل دیتا ہے۔ جب بچے کو ایسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے جو اس کے گھر اور ماحول سے مختلف ہو تو وہ ایک طرح کی اجنبیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی اپنی زبان‘ اس کے تجربات اور اس کی ثقافت کلاس روم سے باہر رہ جاتے ہیں۔ یوں تعلیم ایک ایسا عمل بن جاتی ہے جو فرد کو اس کی جڑوں سے کاٹ دیتی ہے۔ اس تناظر میں ایک اور اہم پہلو ہماری قومی زبان اردو کی حیثیت ہے۔ اردو کو جس طرح ایک مضبوط علمی زبان کے طور پر فروغ دینا چاہیے تھا‘ وہ نہیں ہو سکا۔ اردو نہ تو مکمل طور پر ذریعۂ تعلیم بن سکی اور نہ ہی اسے جدید علم کی زبان بنانے کے لیے سنجیدہ اور منظم کوششیں کی گئیں۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اگر ہم واقعی ایک متوازن لسانی نظام چاہتے ہیں تو اردو کو ایک فعال علمی زبان کے طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سب سے بڑی ضرورت ایک مؤثر اور مضبوط ترجمہ نظام کی ہے۔ ریاستی سطح پر ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو جدید سائنسی‘ سماجی اور فکری علوم کو باقاعدگی کے ساتھ اردو میں منتقل کریں۔ جب تک جدید علم ہماری اپنی زبانوں میں دستیاب نہیں ہو گا تب تک زبان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی زبانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے ترجمے کے مضبوط نظام قائم کیے‘ نئی اصطلاحات وضع کیں اور اپنی زبانوں کو تحقیق اور علم کی زبان بنایا۔ ہمیں بھی اس سمت میں عملی اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر ہم مادری زبان میں تعلیم کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے وسائل بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو۔ اس کے لیے نصاب‘ کتابیں اور اساتذہ کی تربیت سب کچھ اسی بنیاد پر ترتیب دینا ہو گا۔ ورنہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گا۔
اس پس منظر میں چند عملی تجاویز سامنے آتی ہیں جو اس بحث کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ سب سے پہلے ابتدائی جماعتوں میں مادری زبان کو تدریس کا بنیادی ذریعہ بنایا جائے تاکہ بچے ایک مضبوط فکری بنیاد کے ساتھ اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز کریں۔ اس کے ساتھ اردو کو ایک رابطے اور قومی ہم آہنگی کی زبان کے طور پر فروغ دیا جائے تاکہ مختلف لسانی اکائیاں ایک دوسرے سے جڑی رہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ انگریزی کو ایک اہم زبان کے طور پر پڑھایا جائے مگر اسے اس انداز میں متعارف کرایا جائے کہ وہ سیکھنے میں مددگار ثابت ہو‘ نہ کہ رکاوٹ۔ انگریزی کو مہارت کے طور پر سکھایا جائے نہ کہ طاقت کے اظہار کے طور پر۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ ریاستی سطح پر ایک جامع اور مؤثر ترجمہ نظام قائم کیا جائے۔ یونیورسٹیوں‘ تحقیقی اداروں اور پالیسی ساز اداروں کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ جدید علم تیزی کے ساتھ اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں منتقل ہو سکے۔ اس کے بغیر زبان کی بحث ادھوری رہے گی۔ چوتھی بات اساتذہ کی تربیت سے متعلق ہے۔ اساتذہ کو کثیر لسانی (Multilingual) ماحول میں تدریس کے لیے تیار کرنا ہو گا۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے سماجی رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ جب تک ہم خود اپنی زبانوں کو عزت نہیں دیں گے اس وقت تک کوئی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اپنی زبان میں سیکھنا کمزوری نہیں بلکہ فکری خود مختاری کی بنیاد ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved